189853: خاوند نے رمضان میں دن کے وقت بیوی کیساتھ ہمبستری کی، اور اسکے بعد بیوی کو حیض آگیا، تو کیا خاوند کی طرح بیوی پر بھی کفارہ لازمی ہوگا؟


سوال: گذشتہ رمضان 2011 میں میرا خاوند اپنی جنسی خواہش کے سامنے ڈھیر ہوگیا، اپنے آپ پر کنٹرول نہ کرسکا، اور ہم دونوں کا روزہ ہونے کے باوجود اس نے ہمبستری کی، اسکے بعد ماہِ رمضان کے اختتام پر ہم نے اس دن کے روزے کی قضا دی، اور اللہ تعالی سے توبہ بھی کی، لیکن ہمیں اس وقت کفارہ نامی کسی چیز کا علم نہیں تھا۔
اس سال پھر میرے خاوند کیساتھ وہی ہوا، لیکن جماع سے قبل ہی اسے انزال ہوگیا، میں نے اسے دوبارہ ایسے کرنے سے منع کیا، لیکن معاملے کی مزید تحقیق ضروری تھی، پھر میں نے ہماری مذکورہ صورت حال کے بارے میں بہت کچھ پڑھا، اور اس نتیجہ پر پہنچی کہ روزوں کی قضا کیساتھ کفارہ دینا بھی لازمی ہے، اور یہ کفارہ یا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی شکل میں ہوگا، یا پھر مسلسل دو ماہ روزے رکھنے کی صورت میں۔
چنانچہ میرے درج ذیل سوالات ہیں:
ہم پر کیا چیز لازم آتی ہے؟ کہ ہم اس سال رمضان گزرنے کے بعد لازمی روزے رکھیں؟ یا پھر یہاں برطانیہ میں خیراتی اداروں کو پیسے جمع کروا دیں، وہی اسے تقسیم کردیں، یا اپنے آبائی ملک میں پیسے بھیج دیں کہ وہاں غریب لوگوں کی تعداد زیادہ ہے؟ اور کیا گذشتہ سال ہم سے جو غلطی ہوئی تھی اسکا کفارہ بھی ہمیں ادا کرنا ہوگا؟ یا صرف میرا خاوند ہی کفارہ ادا کریگا، کیونکہ ابتدائی طور پر تو اُسی کی غلطی تھی، جبکہ مجھے تو اس وقت کسی قسم کا شعورہی نہیں تھا۔
نوٹ: اس سال جو کچھ ہم سے سر زد ہوا ، اسکے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد مجھے حیض آگیا تھا، اور حیض اپنے مقررہ وقت پر ہی آیا تھا، لیکن پھر بھی میں نے اگلے روز بھی سحری کی ، اور ظہر تک روزہ بھی رکھا تھا۔
تو کیا اس صورت میں مجھ پر بھی جماع کا کفارہ لازمی دینا ہوگا؟ یا میں اہل عذر میں شامل ہوچکی تھی، تو نتیجتا صرف میرے خاوند پر ہی کفارہ لازم ہوگا! اور اگر مجھ پر بھی کفارہ عائد ہوتا ہے تو کیا میری طرف سے میرا خاوند یہ کفارہ ادا کرسکتا ہے؟
مجھے امید ہے کہ اس پورے قصہ کے بارے میں ہمیں آپ نصیحتیں ارسال کرینگے، تا کہ ہم دوبارہ اس قسم کے معاملے میں ملوث نہ ہوں، اور کیا ہمارا مذکورہ کام کبیرہ گناہ ہے یا نہیں ؟ اور اس سے توبہ کیسے کی جائے گی؟
آخری سوال:
ہم اکتوبر کی ابتدا سے ساٹھ روزے رکھنا چاہتے ہیں، ہم نے اسکا ارادہ کر رکھا ہے، لیکن اکتوبر کے آخر میں عید الاضحی بھی آرہی ہے، تو کیا ہم عید کے بعد بھی روزے مکمل کرسکتے ہیں؟ کیونکہ ایام عید میں روزے نہیں رکھے جاسکتے، تو کیا برائے مہربانی آپ مجھے اس کا جواب دے سکتے ہیں تا کہ ہمیں بیس یا چوبیس دنوں کے روزے دوبارہ نہ رکھنے پڑیں، اور ہمیں 25 اکتوبر کو ہونے والی عید الاضحی کے بعد دوبارہ سے ساٹھ روزے شروع سے نہ رکھنے پڑیں۔

الحمد للہ:

اول:

یہ معلوم ہونا چاہئے کہ رمضان میں دن کے وقت مقیم شخص کیلئے جماع کرنا بہت بڑا جرم ہے، کثرت سے استغفار، ندامت، اقرارِ گناہ، اور گناہ پر پشیمانی اور ڈھیروں نیکیوں کیساتھ توبہ کرنا انتہائی ضروری ہے، پھر اسکے بعد اس جرم کی وجہ سے پانچ چیزیں لازم آتی ہیں:

1- گناہ ملے گا 2- روزہ ٹوٹ جائےگا۔ 3- روزہ مکمل کرنا ہوگا۔ 4- اسکے بدلے میں ایک دن کی قضا دینا ہوگی 5- کفار ادا کرنا ہوگا۔

یہاں سخت قسم کا کفارہ [مغلظہ]ہوگا، اور وہ ہے غلام آزاد کرنا، اگر غلام نہ ملے تو دو ماہ کے مسلسل روزے، اور اگر اسکی طاقت نہ ہوتو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلایا جائے گا۔

جماع ہونے کے بعد انزال ہو یا نا ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ہاں اگر جماع کے بغیر ہی انزال ہوجائے تو ایسی صورت میں کفارہ نہیں پڑتا، لیکن اس میں بھی گناہ ملے گا، روزہ مکمل کرنا ضروری ہوگا، اور بعد میں اسکی قضا دینا ہوگی۔

مزید تفصیل کیلئے : سوال نمبر: (22938)اور (148163) دیکھیں۔

سوال میں مذکور ہے کہ : " لیکن جماع سے قبل ہی اسے انزال ہوگیا " تو اس بارے میں یہ ہے کہ اگر اس نے اپنا آلہ تناسل اپنی بیوی کی اندام نہانی میں داخل کردیا ہو، چاہے باہر انزال ہونے کے بعد ہی کیوں نہ داخل کیا ہو، تو اس صورت میں بھی کفارہ مغلظہ ہی عائد ہوگا، کیونکہ جماع ہوچکا ہے۔

جیسے کہ "الموسوعة الفقهية" (35/ 55) میں ہے کہ:

"فقہائے کرام کے ہاں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر، رمضان میں دن کے وقت، بغیر کسی عذر کے اندام نہانی میں جماع کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہے، چاہے انزال ہو یا نہ ہو"انتہی

چنانچہ جس دن میں جماع کیا تھاخاوند کو ہر دن کے بدلے میں کفارہ دینا لازم ہوگا ، چنانچہ اگر دوسری بار بھی جماع ہوا ہے تو دو کفارے ادا کرنے ہونگے۔

مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر: (12329) کا مطالعہ کریں۔

اور اگر صرف خوش طبعی (Foreplay)ہی تھا یا جماع کا صرف ارادہ ہی تھا، اور جب انزال ہوا، اور عضو ڈھیلا پڑ نے کی وجہ سے اندام نہانی میں عضو داخل نہیں کرسکا، تو اسکے گناہ گار ہونے میں تو کوئی شک نہیں ، اس نے حدود الہی کو پھلانگا ہے، اسے توبہ کرنا ہوگی، اور بیوی بھی اگر اسکے ساتھ ہی تھی تو اسے بھی یہی کام کرنا ہونگے، اور دونوں کو صرف اسی روزے کی قضا بھی دینا ہوگی۔

دوم:

جس شخص کو یہ علم تھا کہ رمضان میں دن کے وقت جماع کرناحرام ہے، لیکن اسے کفارے کے بارے میں علم نہیں تھا تو اس پر کفارہ عائد ہوگا، کیونکہ سزاؤوں سے لاعلمی قابل قبول عذر نہیں ہے۔

مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر: (21806) کا مطالعہ کریں

سوم:

رمضان میں دن کے وقت جماع کرنے کا کفارہ ادا کرنے کیلئے ترتیب وار تین میں سے ایک کام اختیار کرنا ہوگا، [ترتیب ضروری ہے اختیاری نہیں ہے]یعنی پہلے اختیار سے دوسرے اختیار تک منتقل ہونے کیلئے یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ پہلا اختیار خارج از امکان ہے، اور وہ یہ ہیں: غلام آزاد کرنا، اور غلام نہ ملے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا، اور اگر اسکی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا؛ چنانچہ آزاد کرنے کیلئے غلام کی دستیابی کے وقت دو ماہ کے روزے رکھنا جائز نہیں ہے، اسی طرح کھانا کھلانا اسی وقت جائز ہوگا جب غلام آزاد کرنے یا ساٹھ روزے رکھنے کا امکان نہ ہو۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ:

"رمضان میں دن کے وقت جماع کرنے کی وجہ سے عائد ہونے والا کفارہ مذکورہ دلائل کی بنا پر ترتیب وار ہے، چنانچہ روزے اسی وقت رکھنے کی اجازت ہوگی جب غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو، اور اسی طرح کھانا کھلانے کی اجازت اسی وقت ہوگی جب روزے رکھنے کی سکت نہ ہو، لہذا اگر غلام آزاد کرنے اور روزے رکھنے کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے کھانا کھلانے کی صورت میں اسکے لئے جائز ہے کہ ساٹھ فقراء اور مساکین کی مقامی کھانے کیساتھ پیٹ بھر کر ایک بار اپنی طرف سے اور دوسری بار اپنی بیوی کی طرف سے روزہ افطاری کروا دے، یا پھر سا ٹھ مساکین کو ساٹھ صاع اپنی طرف سے اور ساٹھ صاع اپنی بیوی کی طرف سے اناج دے دے، ایک صاع کی مقدار تقریبا تین کلو ہے" انتہی

"فتاوى اللجنة الدائمة" (9/ 245)

مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر: (93109) اور (106533) کا مطالعہ کریں

چنانچہ اگر جماع کرنے والے کفارے کیلئے کھانا ہی کھلا سکتے ہیں تو وہ کسی بھی قابل اعتماد خیراتی ادارے کو یہ ذمہ داری سپرد کرسکتے ہیں کہ وہ انکی طرف سےکھانا کھلا دیں، یا مساکین میں انکی طرف سے کھانا تقسیم کردیں۔

ایسے ہی آپ اپنے خاوند کو اپنا کفارہ ادا کرنے کا نمائندہ بھی بناسکتے ہو۔

اسی طرح آپ شرح غربت زیادہ ہونے کی وجہ سے اپنے آبائی ملک میں بھی کفارے کی رقم بھیج سکتے ہو، کیونکہ یہی مصلحت کا تقاضا ہے۔

چنانچہ ابن مفلح رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"صحیح ترین قول کے مطابق نذرانہ، کفارہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے"انتہی

"الفروع" (4/ 265)

اسی طرح آپکی طرف سے آپکا خاوند آپکے مکمل کفارے کی ادائیگی کرسکتا ہے بشرطیکہ آپ اس پر رضامند ہوں۔

چہارم:

جس خاتون کے کیساتھ خاوند نے جماع کیا تو اسکی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں:

پہلی صورت: جماع کیلئے عورت کیساتھ زبردستی کی گئی ہو، یا بھول گئی ہو، یا پھر رمضان میں دن کے وقت جماع کی حرمت سے لا علم ہو، تو ایسی صورت میں معذور ہونے کی وجہ سے اسکا روزہ درست ہے، اس پر قضا یا کفارہ لازم نہیں آئے گا۔

دوسری صورت: عورت معذور نہ ہو، بلکہ ہمبستری کیلئے اپنے خاوندکے پیچھے لگ گئی ہو، تو اس صورت میں علمائے کرام کی کفارہ عائد کرنے میں مختلف آراء ہیں، چنانچہ صحیح یہی ہے کہ خاوند کی طرح بیوی پر بھی اس صورت میں کفارہ لازم آئے گا۔

مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر: (106532) کا مطالعہ کریں

پنجم:

اگر کسی خاتون پر مسلسل دو ماہ کے روزے واجب ہوجائیں اور خاتون روزے رکھنا شروع کردے ، پھر درمیان میں اسے حیض آجائے تو حیض کے آنے سے روزوں کا تسلسل نہیں ٹوٹے گا، چنانچہ دوران حیض روزے چھوڑ دے، اور پھر بعد میں دوماہ کے روزے مکمل کر لے۔

اسی طرح اگر درمیان میں عید کا دن آجاتا ہے تو عید کے دن روزہ رنہ رکھے، اور اسکے بعد فورا روزے رکھنا شروع کردے، کفارے کے روزوں کے درمیان عید کا دن آنے سے روزوں کا تسلسل ختم نہیں ہوگا۔

مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر: (82394) اور (124817)کا مطالعہ کریں۔

ششم:

اگر عورت نے جماع کیساتھ روزہ توڑ لیا، پھر کچھ گھنٹوں کے بعد حیض آجانے سے قضا یا کفارہ ساقط نہیں ہوگا؛ کیونکہ عذر حاصل ہونے سے پہلے وہ گناہ کرچکی تھی، یعنی اس خاتون نے ممنوع کام بغیر کسی عذر کے کیا تھا، اس لئے عذر ،حکم لگنے میں اثر انداز نہیں ہوگا، جیسے کہ عذر کی وجہ سے گناہ بھی ختم .

اسلام سوال وجواب ویب سائٹ
Create Comments