1973: مریضوں کوپھول پیش کرنے کا حکم


آج کل ہسپتالوں میں ایک رواج بہت زيادہ ہورہا ہے جوکہ مسلمان معاشرہ میں یورپی اورکفارمعاشروں سے آیا ہے وہ یہ ہے کہ مریضوں کوپھول کے تحفے پیش کرنے جوبہت ہی زیادہ قیمت سے خریدے جاتےہيں اس عادت میں آپ کے راۓ کیا ہے ؟

الحمد للہ
اس میں کوئ شک نہیں کہ ان پھولوں کی نہ توکوئ اہمیت ہے اورنہ ہی ان کا کوئ کسی قسم کا فائدہ ہے ، نہ تویہ پھول مریض کوشفایاب کرتے ہیں اورنہ ہی اس کی تکلیف میں کمی کا باعث ہیں اورنہ ہی اسے صحیت یابی سے نوازتے ہيں اورنہ ہی یہ بیماری لگاتے ہیں ۔

بلکہ یہ توصرف بناوٹی پھول ہیں جوپھولوں کی اشکال میں بناۓ جاتے ہیں ، اسے ہاتھوں نے بنایا ہے یا پھر یہ مشینوں سے بناۓ گۓ ہیں اوربڑے زيادہ داموں میں بیچے جانے کی بنا پر بنانے والوں کوفا‏ئدہ ہوا اورخرایدار نقصان وخسارہ اٹھا رہا ہے ۔

اس میں سواۓ یورپ کی اندھی تقلید کے اورکچھ نہيں ، بدون تھوڑی سے تفکیر کیے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ بناوٹی ( یا قدرتی ) پھول بہت ہی زیادہ قیمت دے کر خریدے جاتے ہیں اورپھر مریض کے پاس گھنٹہ دوگھنٹے یا پھر ایک یا دو دن رہتے اورپھرکوئ فائدہ حاصل کیے اسے گندگی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے ۔

بہتر تو یہ تھا کہ اس کی قیمت میں ادا کیے گۓ مبلغ کوسنبھال کررکھا جاتا اوراسے کسی نفع مند دنیاوی یا دینی امور میں خرچ کیاجاتا ، لھذا جوکوئ بھی کسی کویہ خریدتے ہوۓ دیکھے اسے چاہیے کہ وہ اسے نصیحت اورتنبیہ کرے شائد کہ وہ اس سے توبہ کرتے ہوۓ اس خریداری سے باز آجاۓ جوکہ صرف اورصرف واضح خسارہ ہے ۔ .

دیکھیں کتاب : الؤلؤ المکین من فتاوی الشیخ ابن جبرین حفظہ اللہ ص ( 58 ) ۔
Create Comments