Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
20016

بيٹھ كر نماز ادا كرنے والے كے ليے بيٹھنے كا مسنون طريقہ

بيٹھ كر نماز ادا كرنے والے كے ليے كس طرح بيٹھنا مسنون ہے؟

الحمد للہ:

اس مسئلہ ميں صحيح يہ ہے كہ: چارزانو اور پاؤں بچھا كر دونوں طرح بيٹھنا جائز ہے، كيونكہ اس كے علاوہ كسى اور طرح بيٹھ كر نماز ادا كرنا نبى صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بيٹھ كر نماز ادا كرنے كى كيفيت بيان كى ہے ليكن اس ميں بيٹھنے كى كيفيت بيان نہيں كى، جو اس ميں وسعت كى دليل ہے.

امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" نماز جس طرح چاہے جائز ہے.

اور امام ابن منذر رحمہ اللہ " الاوسط " ميں كہتے ہيں:

" بيٹھ كر نماز ادا كرنے والے نمازى كے ليے بيٹھنے ميں كوئى سنت نہيں جس پر چلا جائے، اور جب معاملہ ايسا ہى ہے تو پھر مريض شخص كے ليے بيٹھنے ميں جس طرح آسانى ہو وہ نماز ادا كرے، اگر چاہے تو چار زانو ہو كر اور اگر چاہے تو احتباء كر كے، اور اگر چاہے تو پاؤں بچھا كر جس طرح دونوں سجدوں كے مابين بيٹھا جاتا ہے نماز ادا كر سكتا ہے، يہ سب طريقے متقدمين سے مروى ہيں ... " .

ديكھيں: الاوسط ( 4 / 376 ).

اہل علم ميں سے ايك گروہ كا كہنا ہے كہ چارزانو بيٹھنا افضل ہے ابن عمر، انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہم سے يہى مروى ہے، اور امام ابو حنيفہ امام مالك، امام احمد رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے.

ان كى دليل نسائى وغيرہ كى ابو داود حفرى كے طريق سے بيان كردہ روايت ہے، جو درج ذيل ہے:

عن حفص عن حميد عن عبد اللہ بن شقيق عن عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا وہ بيان كرتى ہيں:

" ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو چارزانو بيٹھ كر نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا "

سنن نسائى ( 3 / 376 ).

ليكن يہ حديث صحيح نہيں، كئى ايك طريق سے يہ حديث آئى ہے جس ميں چارزانو كا ذكر نہيں ہے، امام نسائى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: ميرے علم كے مطابق ابو داود كے علاوہ كسى اور نے اسے روايت نہيں كيا، اور وہ ثقہ ہے، ميرے خيال ميں تو يہ حديث خطاء ہے.

اور امام ابن منذر كہتے ہيں:

" حفص بن غياث والى حديث كى اسناد ميں كلام كى گئى ہے، يہ حديث ايك جماعت نے عبد اللہ بن شقيق سے روايت كى ہے اس ميں چار زانو كا ذكر نہيں، ميرے خيال ميں يہ حديث مرفوع ثابت نہيں ہوتى... "

ديكھيں: الاوسط ( 4 / 376 ).

عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ انہوں نے چارزانو ہو كر نماز ادا كرنا ناپسند كيا ہے، اسے ابن ابى شيبہ اور ابن منذر نے روايت ہے.

اور امام احمد سے ايك روايت ہے كہ: وہ قرآت لمبى كرتے تو چارزانو ہو كر بيٹھتے وگرنہ پاؤں بچھا كر.

صحيح پہلا قول ہى ہے كہ چارزانو اور پاؤں بچھا كر بيٹھنے ميں اختيار ہے.

الشيخ سليمان بن ناصر العلوان
Create Comments