20036: مرد و زن سے مختلط تفريحى مقام پر جانے ميں خاوند كى اطاعت كا حكم


ميرا خاوند گرميوں ميں اپنى چھوٹى دو بيٹيوں كے ساتھ تفريحى كيمپ كے ليے جانا چاہتا ہے، اور عام پر يہ كيمپ پانى كے قريب لگائے جاتے ہيں، اور يہ سمندرى تفريح ( مثلا موٹر بوٹ، اور پانى پر تيرنے ) ننگے اور بے لباس كفار كے قريب ہوتى ہے، ميں اس سوچ سے ہم آہنگ نہيں، اور مجھے اس سے راحت محسوس نہيں ہوتى، ميرا خيال ہے كہ ايك مسلمان عورت كو اس طرح كے كام خاص كر لمبے لباس اور باپرد ہو كر اس ميں شركت نہيں كرنى چاہيے، اور نہ ہى ميں چاہتى ہوں كہ ميرى بچياں اس طرح كى زندگى كى عادى ہوں.
ميں نے اپنے خاوند سے اپنے احساس كے متعق بات كى تو ميرى بات چيت كے بعد وہ مجھے نہيں لے كر جائيگا، بلكہ دونوں بچيوں كو ليكر وہ اكيلا ہى جائيگا، ( ليكن ميں اس كے مخالف ہوں ) اس نے كوئى ايسى تفريح جس سے پورا گھر راضى ہو كرنے كى بجائےاس نے گھر ميں تفريق اور جدائى كر كے ركھ دى ہے، ميرے خيال ميں وہ كفار پڑوسيوں سے تفريح كے ليے اچھى جگہ كے متعلق دريافت كريگا، اور مجھے يہ بات اچھى نہيں لگتى، تو كيا ميں حق پر ہوں يا غلطى پر ؟

الحمد للہ:

ايسى جگہوں پر جانا جہاں اللہ تعالى كى معصيت و نافرمانى ہوتى ہو، اور سير و تفريح كرنے كے ليے اعلانيہ طور پر حرمت كى پامالى ہوتى ہو شرعى طور پر حرام امور ميں شمار ہوتا ہے، اور جب عورت كو مردوں كے ساتھ ميل جول اور اختلاط، اور مساجد ( جو كہ زمين پر پاكيزہ ترين جگہ ہے ) ميں مردوں كے قريب ہونے سے روكا گيا ہے، تو ان جيسى جگہوں پر جہاں كفار موجود ہوں اور مختلف قسم كى معاصى اور گناہ و برائى كا ارتكاب كر رہے ہوں وہاں جانا كيسا ہو گا ؟

اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے مومن بندوں كے اوصاف بيان كرتے ہوئے فرمايا ہے:

﴿ اور وہ لوگ جو جھوٹى گواہى نہيں ديتے، اور جب كسى لغو چيز پر ان كا گزر ہوتا ہے تو وہ شرافت سے گزر جاتے ہيں ﴾الفرقان ( 72 ).

يعنى وہ وہ برى جگہوں، اور فسق و فجور والى مجالس ميں حاضر نہيں ہوتى، جيسا كہ كئى ايك سلف سے يہ منقول ہے.

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 6 / 130 ).

تو آپ اس طرح كے كيمپ اور تفريح ميں جانے سے انكار كرنے ميں حق پر ہيں جہاں اللہ تعالى كى نافرمانى و معصيت كا ارتكاب كيا جاتا ہے، كيونكہ اللہ تعالى كى نافرمانى ميں مخلوق ميں سے كسى كى بھى اطاعت نہيں كرنى چاہيے، اسى طرح آپ كے خاوند كو بھى ان جگہوں پر جانے سے اجتناب كرنا چاہيے.

سير و تفريح كى بہت سارى جگہيں اور طريقے مباح ہيں جہاں جايا جا سكتا ہے، اور پھر اولاد آپ كى خاوند كى گردن ميں امانت ہے، اور ان كى اچھى تربيت، اور ان كے دنياوى اور دينى امور كى اصلاح كے متعلق جواب دہ ہے.

بلا شك و شبہ آپ كے خاوند كا انہيں اپنے ساتھ ان جگہوں پر لے كر جانا اولاد كو خراب كرنے اور ان كى فطرت كو گندہ كرنے، اور انہيں برائى سے مانوس كرنے كے عوامل ميں شامل ہوتا ہے، تو جب ان كے نفس برائى سے مانوس ہو گئے تو اس كے بعد برائى كا ارتكاب ان كے ليے آسان ہو جائيگا، يا كم از كم وہ اسے برا نہيں سمجھينگے.

اس ليے اسے اس عظيم امانت كے متعلق اللہ كا تقوى اختيار كرنا چاہيے، اور وہ اس سے ڈرے كہ كہيں وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے درج ذيل فرمان ميں نہ داخل ہو جائے:

" جس بندے كے ماتحت اللہ تعالى كچھ رعايا كر دے تو وہ اپنى رعايا كے ساتھ دھوكہ كرتے ہوئے مرا تو اللہ تعالى اس پر جنت حرام كر ديتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 203 ).

اور آپ كو چاہيے كہ آپ بقدر استطاعت كوشش كريں كہ وہ بچياں اپنے باپ كے ساتھ نہ جا سكيں، اگر وہ انہيں لے جانے پر مصر نہ ہو، اور اس كے ساتھ اسے اچھے طريقہ سے وعظ و نصيحت بھى كريں، اور اس معاملہ سے سختى سے كام مت ليں، اميد ہے اللہ تعالى اس كے دل كو كھول ديگا، اور اسے اس كى راہنمائى كرتے ہوئے ہدايت نصيب كريگا.

اسى طرح ہم اللہ تعالى سے دعا كرتے ہيں كہ وہ آپ كو اپنى غيرت اور حرام كے ساتھ بغض ركھنے پر ثابت قدم ركھے، اور قولى اور عملى طور پر حق كا التزام كرنے ميں آپ كى معاونت و نصرت فرمائے, آمين يا رب العالمين.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments