20057: كيا ان كے گھر اور ماركيٹ اور جواہرات پر زكاۃ ہے ؟


ميں اپنے ذمہ زكاۃ كى رقم بالتعيين معلوم كرنا چاہتا ہوں، ہمارا خاندان تين شادى شدہ بھائيوں پر مشتمل ہے، اور ہمارے بچے بھى ہيں، اور ہمارے ساتھ ايك ہى گھر ميں والدين بھى رہائش پذير ہيں:
1 - ہمارے پاس بہت وسيع اور بڑا گھر ہے جس ميں ہم رہ رہے ہيں.
2 - انڈيا ميں ہمارا ايك اور گھر ہے جس كى قيمت تقريبا تين ملين سعودى ريال ہے.
3 - ہمارا ايك تجارتى پروجيكٹ اور منصوبہ ہے جس كا راس المال اڑھائى ملين سعودى ريال ہے.
4 - ہمارى چار ملين ريال كى ايك تجارتى دوكان ہے، اور اس كے علاوہ دوسرى مختلف اشياء ہيں جو ايك ملين سعودى ريال كى ہيں، اس كے علاوہ ہمارے پاس جواہرات جن كى قيمت ايك ملين سعودى ريال ہے.
ہمارے ذمہ كتنى زكاۃ واجب ہوتى ہے ؟

الحمد للہ :

اول:

مسلمان جس گھر ميں رہائش پذير ہو اس پر اس كى زكاۃ واجب نہيں ہوتى ـ چاہے وہ ايك سے زيادہ ہو ـ اور نہ ہى اس كے استعمال كے ليے گاڑى ميں زكاۃ ہے، چاہے اس كى قيمت كتنى بھى زيادہ ہى كيوں نہ ہو جائے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اگر رہائش كے ليے گھر تعمير كيے گئے ہوں تو ان ميں كوئى زكاۃ نہيں..... ليكن وہ زمين اور دوكانيں اور گھر وغيرہ جو فروخت كرنے كے ليے تيار كيے گئے ہوں تو اس ميں ہر سال اس كى قيمت كے حساب سے زكاۃ ہو گى، چاہے وہ مہنگا ہو يا سستا، اگر اس كے مالك نے اسے فروخت كرنے كا عزم كر ركھا ہو.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 14 / 173 ).

دوم:

بعنيہ منصوبوں اور تجارتى دوكانوں ميں زكاۃ نہيں، لہذا زمين، سامان، اور دوكان ميں جو آلات ہيں ان كى قيمت جتنى بھى ہو اس پر زكاۃ نہيں، ليكن اگر يہ اشياء فروخت كرنے كے ليے تيار كى گئى ہوں تو ان ميں زكاۃ ہو گى، اسے علماء كرام ( تجارتى سامان كى زكاۃ ) كا نام ديتے ہيں.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

قاعدہ يہ ہے كہ: جو كچھ بھى فروخت كے ليے تيار كيا گيا ہو اس كى زكاۃ ادا كى جائے گى، اور دوكان وغيرہ ميں جو اشياء اور آلات استعمال كيے جاتے ہيں ان كى زكاۃ ادا نہيں كى جائے گى.

ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ للشيخ ابن باز ( 14 / 183 ).

زكاۃ كے حساب كا طريقہ يہ ہے:

سال مكمل ہونے كے بعد دوكان ميں موجود مال كى قيمت لگا كر اس ميں سے اڑھائى فيصد ( 2.5 % ) زكاۃ نكال ديں، مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 26236 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:

وہ تجارتى سامان جو خريد و فروخت كے ليے ركھا گيا ہو چاہے كوئى بھى قسم كا ہو، جب وہ سونے يا چاندى كے نصاب كو پہنچ جائے تو اس ميں زكاۃ واجب ہو جاتى ہے، جب اس سے تجارت كى نيت سے مالك بنا ہو، سال مكمل ہونے پر اس كى سونے يا چاندى ميں سے جو فقراء و مساكين كے ليے زيادہ نصيب ہو اس كى قيمت لگائى جائے گى، اس كى دليل يہ ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿اے ايمان والو! اس ميں سے خرچ كرو جو تم نے پاكيزہ كمائى كى ہے﴾ البقرۃ ( 267 ).

يعنى تجارت كے ساتھ، يہ مجاہد وغيرہ كا كہنا ہے، اور بيضاوى وغيرہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں، پاكيزہ كمائى ميں سے خرچ كرو، يعنى فرضى زكاۃ .

اور فرمان بارى تعالى ہے:

﴿اور تمہارے مالوں ميں معلوم حق ہے ﴾المعارج ( 24 ).

اور عمومى اموال ميں تجارت داخل ہے، لہذا اس ميں ايك مقرر حق ہے جسے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيان فرمايا ہے، جو كہ اڑھائى فيصد ہے، اور تجارتى مال سب سے اہم مال ہے، اس ليے سب مالوں كى بنسبت اسے آيت ميں بالاولى داخل ہونا چاہيے.

سمرہ بن جندب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ہميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس ميں سے زكاۃ نكالنے كا حكم ديا كرتے تھے جو ہم نے فروخت كے ليے تيار كيا ہوتا "

سنن ابو داود .

اور عمر نے حماس رحمہ اللہ تعالى كو كہا:

اپنے مال كى زكاۃ ادا كرو، تو اس نے جواب ديا:

ميرے پاس تو تركش اور چمڑہ ہے.

تو عمر نے كہا: اس كى قيمت لگاؤ اور زكاۃ ادا كرو.

امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے اس قصہ سے دليل پكڑى ہے.

ابو ہر يرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اور خالد پر تو تم ظلم كرتے ہو، اس نے اپنى ذرہيں اللہ كى راہ ميں روك ركھى ہيں، اور تيا ركر ركھى ہيں"

صحيح بخارى و صحيح مسلم.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى وغيرہ كہتے ہيں:

اس ميں تجارت كى زكاۃ كے واجب ہونے كى دليل ہے، وگرنہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم انہيں معذور نہ سمجھتے.

اور بخارى و مسلم ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مرفوع حديث مروى ہے كہ:

" مسلمان كے غلام اور اس كے گھوڑے ميں زكاۃ نہيں ہے "

امام نووى وغيرہ كہتے ہيں:

يہ حديث اس كى دليل ہے كہ زخيرہ كے مال ميں كوئى زكاۃ نہيں ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 186 - 187 ).

سوم:

اور آپ كى ملكيت ميں جو جواہرات ہيں، اگر تو وہ سونے اور چاندى كے ہيں تو نصاب پورا ہونے كى شكل ميں اس ميں اڑھائى فيصد زكاۃ واجب ہو تى ہے، اور سونے كا نساب تقريبا پچاسى گرام ہے.

ليكن اگر وہ سونے اور چاندى كے نہيں ـ مثلا ياقوت اور مرجان ہيں ـ اور زيب و زينت كے ليے تيار كيے گئے ہيں ( تجارت كے ليے نہيں ) تو اس ميں كوئى زكاۃ نہيں، ليكن اگر تجارت كے ليے ہيں تو اس ميں زكاۃ واجب ہوتى ہے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

سونے ميں زكاۃ ہے، ليكن قيمتى پتھر اور الماس اگر تجارت كے ليے نہيں تو اس ميں زكاۃ نہيں ہے.

ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ للشيخ ابن باز ( 14 / 121 ).

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے:

يہ فتوى كئى ايك سوالات پر مشتمل ہے:

نقدى چاہے وہ سونا ہو يا چاندى كتاب و سنت كے دلائل سے اس ميں زكاۃ كا وجوب ثابت ہے، اور بالذات تجارتى سامان مقصود نہيں، بلكہ اس سے نقدى مقصود ہے چاہے وہ سونا ہو يا چاندى، اور امور كا اعتبار اس كے مقاصد سے ہوتا كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے"

اس ليے وہ غلام جو خدمت كے ليے ركھا گيا ہو اس ميں زكاۃ نہيں، اور نہ ہى اس گھوڑے ميں جو سوارى كے ليے ہے، اور نہ ہى اس گھر اور مكان ميں جو رہائش كے ليے ہو، اور نہ ہى پہننے كے ليے لباس ميں، اور نہ زبرجد، ياقوت اور مرجان وغيرہ جبكہ يہ زيبائش كے ليے ركھے جائيں.

ليكن اگر يہ مذكورہ اشياء تجارت كے ليے ركھى جائيں تو پھر اس ميں زكاۃ واجب ہو گى، كيونكہ اس كا مقصد سونے اور چاندى اور اس كے قائم مقام نقدى كا حصول ہے، تو اس بنا پر تجارتى سامان كى زكاۃ نہ دينے والا شخص غلطى پر ہے..

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 312 - 313 ).

اور سائل كا يہ كہنا كہ:

( اس كے علاوہ بھى ہمارے پاس ايك ملين ريال كى مختلف اشياء ہيں ) اگر تو يہ اشياء سونا يا چاندى يا تجارت كے ليے ہيں تو اس ميں زكاۃ ہے، ليكن اگر اس سے مقصود استعمال والى گاڑى اور سامان وغيرہ ہے تو پھر اس ميں زكاۃ نہيں.

جواب كا خلاصہ يہ ہوا كہ:

سال مكمل ہونے كے بعد سائل اپنے پاس موجود سامان كى قيمت لگائے اور اس كے ساتھ سونے اور چاندى اور نقدى وغيرہ كى بھى قيمت شامل كر كے سب ميں سے اڑھائى فيصد زكاۃ نكال دے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments