Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
20064

بيٹوں كے حقوق

بيوى بچے اور بہنيں اور بھائى اور والدين زندہ ہوں تو ان سب كے حقوق كيا ہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

بيوى كے حقوق:

بيوى كے حقوق ہم تفصيل كے ساتھ سوال نمبر ( 10680 ) ميں بيان كر چكے ہيں آپ اس كا مطالعہ كريں.

دوم:

اولاد كے حقوق:

اللہ سبحانہ و تعالى نے والدين پر بچوں اور اس كى اولاد كے حقوق ركھے ہيں، اور اسى طرح والد كے بھى اپنى اولاد پر حقوق ہيں.

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ كا قول ہے:

" اللہ سبحانہ و تعالى نے انہيں ابرار اس ليے كہا ہے كہ انہوں نے اپنے والدين اور اولاد كے ساتھ نيكى كى ہے، اسى طرح تيرے والد كا بھى تجھ پر حق ہے، اور اسى طرح بچے كا بھى تجھ پر حق ہے "

ديكھيں: الادب المفرد ( 94 ).

عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ..... اور تيرے بچے كا بھى تجھ پر حق ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1159 ).

والدين كے ذمہ ان كى اولاد كے كچھ حقوق ايسے ہيں جو اولاد كى ولادت سے قبل ہيں، جن ميں سے چند ايك درج ذيل ہيں:

1 ـ نيك و صالح بيوى اختيار كى جائے تا كہ وہ ايك نيك و صالح ماں ثابت ہو سكے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" عورت كے ساتھ چار اسباب كى بنا پر نكاح كيا جاتا ہے: اس كے مال و دولت كى وجہ سے، اور اس حسب و نسب كى وجہ سے، اور اس كى خوبصورتى و جمال كى بنا پر، اور اس كے دين كى وجہ سے، تيرے ہاتھ خاك آلودہ ہوں تو دين والى كو اختيار كر "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4802 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1466 ).

شيخ عبد الغنى الدھلوى كہتے ہيں:

" دين والى اور صالح اور شريف حسب و نسب والى عورت تلاش كرو، تا كہ عورت زنا كى پيداوار نہ ہو كيونكہ يہ رذيل اور قبيح چيز كہيں اس كى اولاد ميں منتقل نہ ہو جائے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ زانى مرد زانيہ يا مشركہ عورت كے علاوہ كسى اور سے نكاح نہيں كرتا، اور زانيہ عورت زانى يا مشرك مرد كے علاوہ كسى اور سے زنا نہيں كرتى }النور ( 3 ).

يہاں كفؤ اور برابر كا رشتہ تلاش كرنے كا حكم اس ليے ديا ہے كہ كہيں عار لاحق نہ ہو جائے "

ديكھيں: شرح سنن ابن ماجہ ( 1 / 141 ).

بچہ پيدا ہونے كے بعد والدين پر حقوق:

1 ـ جب بچہ پيدا ہو تو اسے گھڑتى دينا مسنون ہے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ابو طلحہ رضى اللہ تعالى عنہ كا بچہ بيمار تھا تو ابو طلحہ گھر سے چلے گئے اور بعد ميں بچہ فوت ہو گيا، جب ابو طلحہ واپس آئے تو دريافت كيا:

ميرے بچے نے كيا كيا ؟

تو ام سليم رضى اللہ تعالى عنہا نے عرض كيا: وہ پہلے سے سكون ميں ہے، اور ابو طلحہ كو رات كا كھانا پيش كيا تو انہوں نے كھانا تناول كيا اور پھر بيوى سے ہم بسترى كى، اور جب فارغ ہوئے تو بيوى كہنے لگے:

بچے كو دفن كر ديا ہے، جب صبح ہوئى تو ابو طلحہ رضى اللہ تعالى عنہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور سارا واقعہ بتايا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

كيا تم نے رات ازدواجى تعلقات قائم كيے ہيں ؟

تو ابو طلحہ رضى اللہ تعالى عنہ نے عرض كيا: جى ہاں چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كے ليے بركت كى دعا كرتے ہوئے فرمايا:

" اے اللہ ان دونوں كے ليے بركت فرما "

چنانچہ ام سليم نے بچہ جنم ديا تو ابو طلحہ مجھے كہنے لگے: اس كا خيال ركھو حتى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس لے جاؤ، تو اسےنبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس لائے اور ام سليم نے اس كے ساتھ كچھ كھجوريں بھيجيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بچے كو اٹھايا اور دريافت كيا كيا اس كے ساتھ كچھ ہے ؟

ت وانہوں نے جواب ديا كہ جى ہاں كھجوريں ہيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كھجوريں لے كر چبائيں اور اپنے منہ سے نكال كر بچے كے منہ ميں ركھ كر اسے گھڑتى دى اور اس كا نام عبد اللہ ركھا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5153 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2144 ).

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" علماء كرام كا اتفاق ہے كہ نومولود كو ولادت كے وقت كھجور سے گھڑتى دى جائے، اور اگر كھجور نہ مل سكے تو پھر كوئى اور ميٹھى چيز كھجور چبائى جائے حتى كہ وہ مائع بن جائے تو بچے كے منہ ميں لگائى جائے تا كہ وہ اسے نگل لے"

ديكھيں: شرح النووى مسلم شريف ( 14 / 122 - 123 ).

2 ـ بچے كا اچھا سا نام مثلا عبد اللہ يا عبدالرحمن ركھا جائے.

نافع ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بلاشبہ تمہارے ناموں ميں اللہ كے ہاں سب سے پسنديدہ نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہيں "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2132 ).

اور انبياء كے ناموں پر بچے كا نام ركھنا مستحب ہے:

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميرے ہاں رات بيٹا پيدا ہوا ہے اور ميں نے اس كا نام اپنے باپ ابراہيم كے نام پر ركھا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2315 ).

بچے كا ساتويں روز نام ركھنا مستحب ہے، ليكن اس سے قبل نام ركھنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ مندرجہ بالا حديث سے اس كا ثبوت ملتا ہے.

سمرۃ بن جندب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہر بچہ اپنے عقيقہ كے ساتھ رہن اور گروى ركھا ہوا ہے ساتويں دن اس كى جانب سے عقيقہ كيا جائے اور ا سكا نام ركھا جائے اور اس كا سر منڈوايا جائے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2838 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 4541 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" نام ركھنا حقيقتا جس چيز كا نام ركھا جاتا ہے اس كى تعريف اور پہچان ہوتى ہے، كيونكہ جب نام ركھا گيا ہو ليكن مسمى يعنى جس كا نام ركھا گيا ہے وہ ابھى مجھول الاسم ہو تو جس كى تعريف كى جا رہى ہے يعنى نام ركھا جا رہا ہے وہ نہيں ہے، اس ليے جس دن اس كا وجود ہو اسى دن اس كا نام ركھنا جائز ہوگا.

ليكن تين يوم تك يا پھر عقيقہ كے دن ساتويں روز تك نام ركھنے ميں تاخير كرنا جائز ہے، اور اس سے پہلے يا بعد ميں بھى جائز ہے، بہر حال اس ميں وسعت پائى جاتى ہے.

ديكھيں: تحفۃ المودود ( 111 ).

3 ـ اسى طرح ساتويں روز بچے كا سر منڈا كر اس كے بالوں كے وزن كے برابر چاندى صدقہ كرنا بھى مسنون ہے:

على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حسن رضى اللہ تعالى عنہ كى جانب سے ايك بكرى عقيقہ ميں ذبح كى اور فرمايا:

فاطمہ اس كا سر مونڈ كر اس كے سر كے بالوں كے برابر چاندى صدقہ كرو، اس كے بالوں كا وزن ايك يا درھم سے كچھ كم ہوا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1519 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 1226 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

4 ـ اسى طرح جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے كہ بچے كا والد بچے كى جانب سے عقيقہ كرے ايسا كرنا مستحب ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہر بچہ اپنے عقيقہ كى وجہ سے رہن اور گروى ہے "

اس ليے بچے كى جانب سے دو بكرے اور بچى كى جانب سے ايك بكرا ذبح كيا جائيگا.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں حكم ديا كہ:

" بچے كى جانب سے دو بكرے كافى ہونگے، اور بچى كى جانب سے ايك بكرا كافى ہوگا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1513 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 1221 ) ميں صحيح كہا ہے، اور سنن ابو داود حديث نمبر ( 2834 ) اور سنن نسائى حديث نمبر ( 4512 ) اور سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3163 ) ميں روايت كيا ہے.

5 ـ ختنہ كرنا:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" پانچ اشياء فطرتى ہيں: ختنہ، زيرناف بال صاف كرنا، اور بغلوں كے بال اكھيڑنا، اور ناخن كاٹنا، اور مونچھيں كاٹنا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5550 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 257 ).

تربيت كے حقوق:

عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم سب ذمہ دار ہو، اور تم سب سے تمہارى ذمہ دارى اور رعايا كے بارہ ميں پوچھا جائيگا تم اس كے جوابدہ ہو، حكمران لوگوں كا ذمہ دار ہے اور اس سے اس كى رعايا كے بارہ ميں پوچھا جائيگا وہ اس كا جوابدہ ہے، اور مرد اپنے گھر والوں كا ذمہ دار ہے اس سے اس كى ذمہ دارى كے بارہ ميں پوچھا جائيگا، اور عورت اپنے خاوند كے گھر اور اس كى اولاد كى ذمہ دار ہے اس سے اس كى رعايا اور ذمہ دارى كے بارہ ميں پوچھا جائيگا، اور غلام اپنےمالك كے مال كا ذمہ دار ہے، اور اس سے اس كى ذمہ دارى كے بارہ ميں سوال كيا جائيگا، خبردار تم سب ذمہ دار ہو اور سب سے اس كى ذمہ دارى كے بارہ ميں سوال كيا جائيگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2416 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1829 ).

اس ليے والدين كو چاہيے كہ وہ اپنى اولاد كے دينى واجبات اور دوسرے شرعى مستحب فضائل اور ان كے دنياوى امور جس ميں ان كا معاش ہو كا خيال كريں.

اس ليے آدمى اپنى اولاد كى تربيت ميں سب سے پہلے اہم چيز كى طرف توجہ ديتے ہوئے شرك و بدعات سے خالى صحيح عقيدہ كى تربيت كرے، اور خاص كر نماز كى تعليم كى طرف توجہ دے، اور پھر انہيں اخلاق و آداب حميدہ كى تعليم دے اور ہر خير و بھلائى اور فضل كا علم دلائے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور جب لقمان نے اپنے بيٹے كو نصيحت كرتے ہوئے كہا اے ميرے بيٹے اللہ كے ساتھ شرك مت كرنا، كيونكہ شرك بہت بڑا عظيم ظلم ہے }لقمان ( 13 ).

عبدالملك بن ربيع بن سبرۃ اپنے باپ اور داد سے بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بچے سات برس كا ہو تو اسے نماز كى تعليم دى اور جب دس برس كا ہو جائے تو اسے ( نماز ادا نہ كرنے ) پر مارو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 494 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 407 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 4025 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ربيع بنت معوذ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يوم عاشورا كے دن صبح كے وقت انصار كى بستيوں كى طرف پيغام بھيجا كہ جس نے بھى روزہ نہيں ركھا وہ باقى سارا دن بغير كھائے پيے گزارے اور جس نے روزہ ركھا ہے وہ اپنا روزہ پورا كرے.

وہ بيان كرتى ہيں كہ: اس كے بعد ہم روزہ ركھا كرتى تھيں اور اپنے بچوں كو بھى روزہ ركھواتيں اور انہيں روئى كا كھلونا بنا كر ديتيں، اور جب ان ميں سے كوئى بھوك كى بنا پر روتا تو ہم اسے وہ كھلونا دے ديتى حتى كہ افطارى كا وقت ہو جاتا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1859 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1136 ).

اور سائب بن يزيد بيان كرتے ہيں كہ مجھے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ حج كرايا گيا تو ميرى عمر سات برس تھى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1759 ).

ـ بچوں كى آداب و اخلاق پر تربيت كرنا:

ماں اور باپ كو چاہيے كہ وہ اپنے بيٹے اور بيٹيوں كو اخلاق حسنہ اور بلند آداب كى تعليم ديں، چاہے وہ اللہ كے ساتھ ادب ہو يا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ادب، يا پھر قرآن مجيد اور امت مسلمہ كا ادب، اور اس كے ساتھ ساتھ ہر اس شخص كا ادب جس كا ان پر حق ہو، نہ تو وہ اپنے ساتھيوں كے ساتھ غلط طرح سے رہيں اور نہ ہى دوست و احباب اور پڑوسيوں كے ساتھ.

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" باپ كو چاہيے كہ وہ اپنے بچے كو دينى امور ميں سے جس كى بچے كو ضرورت ہے كى تعليم دے اور ادب سكھائے، يہ تعليم والد اور سب ذمہ داران پر بچوں كو سكھانى فرض ہے اور بلوغت سے قبل سكھائى جائے، امام شافعى اور ان كے اصحاب نے يہى بيان كيا ہے.

امام شافعى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اگر بچے كا باپ نہيں تو ماؤوں كو چاہيے كہ وہ بھى اس تعليم كا اہتمام كريں، اور اگر باپ نے مال نہيں چھوڑا تو پھر جس كے ذمہ نفقہ اور خرچ ہے وہ خرچ كرےگا، كيونكہ وہ اس كا محتاج اور ضرورتمند ہے " واللہ اعلم.

ديكھيں: شرح النووى صحيح مسلم ( 8 / 44 ).

اسے چاہيے كہ وہ ہر چيز كا ادب سكھائے، يعنى كھانے پينے كے آداب، اور لباس پہننے اور سونے كے آداب اور گھر سے نكلنے اور داخل ہونے كے آداب، اور سوارى پر سوار ہونے كے آداب بھى اور اسى طرح ہر معاملہ كے آداب سكھائے جائيں.

اور بچوں كے ذہن ميں نيك صفت مردوں كى صفات ذہن نشين كى جائيں اور ايثار و قربانى سے محبت سكھائى جائے اور جود و سخا كى محبت ڈالى جائے، اور انہيں بخل و بزدلى اور قلت مرؤوت اور اچھى اشياء سے پيچھے رہنے سے دور رہنا سكھايا جائے.

مناوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جس طرح آپ كے والدين كے آپ پر حقوق ہيں اسى طرح آپ كے اولاد كے بھى آپ پر حقوق ہيں، يعنى بہت سارے حقوق جن ميں بچوں كى بعينہ فرائض كى تعليم اور انہيں شرعى آداب سكھانا، اور بچوں كو عطيہ دينے ميں عدل و انصاف كرنا، چاہے ہبہ ہو يا وقف يا كوئى اور تحفہ، اور اگر بغير كسى عذر كے كسى ايك بچے كو فضيلت دى گئى تو بعض علماء اسے باطل قرار ديتے ہيں، اور بعض اسے مكروہ سمجھتے ہيں "

ديكھيں: فيض القدير ( 2 / 574 ).

اس بنا پر وہ اپنے بيٹے اور بيٹيوں كو ہر اس چيز سے بچا كر ركھے جو انہيں جہنم كى آگ كے قريب كرنے كا باعث بنتى ہو.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو اپنے آپ اور اپنے گھر والوں كو جہنم كى آگ سے بچاؤ جس كا ايندھن لوگ اور پتھر ہيں، اس پر ايسے سخت اور شديد فرشتے مقرر ہيں جو اللہ تعالى كے حكم كى نافرمانى نہيں كرتے، اور انہيں جو حكم ديا جاتا ہے اس پر عمل كرتے ہيں }التحريم ( 6 ).

قرطبى رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" .... حسن رحمہ اللہ نے اس آيت سے يہى تعبير كى ہے كہ " وہ انہيں نيكى كا حكم دے، اور برائى سے منع كرے "

اور بعض علماء كہتے ہيں: جب اللہ تعالى نے فرمايا كہ:

اپنے آپ كو بچاؤ .

اس ميں اولاد بھى داخل ہے كيونكہ اولاد اس كا حصہ ہے جيسا كہ وہ اس فرمان بارى تعالى ميں شامل ہے:

{ تم پر كوئى حرج نہيں كہ تم اپنے گھروں سے كھا }.

تو يہاں باقى سب رشتہ داروں كو عليحدہ ذكر نہيں كيا گيا، اس ليے اسے حلال و حرام سكھائے اور انہيں معاصى و گناہوں سے بچائے.

ديكھيں: تفسير القرطبى ( 18 / 194 - 195 ).

نفقہ و اخراجات:

نفقہ والد پر واجب ہے اس ليے اسے اولاد پر اخراجات كرنے ميں كوئى كوتاہى كرنى جائز نہيں، بلكہ اسے اولاد پر صحيح طرح خرچ كرنا چاہيے.

عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" آدمى كے گناہ كے ليے يہى كافى ہے كہ جسے وہ كھلاتا ہے وہ ضائع ہو جائے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1692 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 4481 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اسى طرح اولاد كے سب سے عظيم اور بڑے حقوق ميں يہ بھى شام ہے كہ اس كى اچھى تربيت كى جائے اور خاص كر لڑكى كا بہت خيال كيا جائے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس صالح عمل كى ترغيب بھى دلائى ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى زوجہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" ميرے پاس ايك عورت آئى اور اس كے ساتھ دو بيٹياں تھيں وہ مجھ سے سوال كر رہى تھى، ميرے پاس سوائے ايك كھجور كے كچھ نہ ملا تو ميں نے اسے وہى ايك كھجور دے دى اور اس نے وہ ايك كھجور دو حصوں ميں تقسيم كر كے دونوں كو دے اور چلى گئى.

پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم آئے تو ميں نے انہيں سارا واقعہ سنايا تو آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جسے يہ بيٹياں دى گئى ہوں اور وہ ان كى اچھى تربيت كرے تو وہ اس كے ليے جہنم كى آگ سے بچاؤ كا باعث ہونگى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5649 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2629 ).

اسى طرح اہم امور ميں يہ بھى جو كہ اولاد كے حقوق ميں سے ہے اور اس كا خيال كرنا ضرورى ہے كہ اولاد كے مابين عدل و انصاف كيا جائے، اس حق كى طرح صحيح حديث ميں اشارہ كرتے ہوئے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ سے ڈر جاؤ اور تقوى اختيار كرتے ہوئے اپنى اولاد كے مابين عدل و انصاف كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2447 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1623 ).

اس ليے بيٹيوں كو بيٹوں پر فوقيت اور افضليت دينى جائز نہيں، اور نہ ہى بيٹوں كو بيٹيوں پر،اور اگر باپ اس غلطى ميں پڑ جائے اور وہ اپنى اولاد ميں سے كسى ايك كو دوسے پر فضيلت دے بيٹھے اور عدل و انصاف نہ كرے تو اس سے بہت سارى خرابياں پيدا ہو سكتى ہيں جن ميں سے چند ايك درج ذيل ہيں:

اس بچے كو فى نفسہ ضرر و نقصان ہوگا، كيونكہ جن بچوں كو محروم ركھا گيا اور انہيں نہيں ديا گيا تو وہ اس بچے سے حسد كرينگے اور اسے ناپسند كرنے كى حالت ميں پرورش پائينگے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسى طرح اشارہ كرتے ہوئے نعمان كے والد كو فرمايا تھا:

" كيا تم يہ پسند كرتے ہو كہ تمہارى اولاد تمہارے ساتھ حسن سلوك اور نيكى كرنے ميں برابرى كريں ؟

نعمان كے والد كے جواب ميں كہا: جى ہاں "

يعنى معنى يہ ہوا كہ جب تم چاہتے ہو كہ اولاد تمہارے ساتھ نيكى و احسان ميں برابر ہو تو پھر آپ انہيں عطيہ دينے ميں بھى عدل و انصاف كريں.

اور پھر اس ميں يہ خرابى بھى ہو گى كہ بھائى ايك دوسرے كو ناپسند كرينگے اور ان ميں بغض و عداوت اور حسد كى آگ بھڑكے گى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments