200640: رمضان میں مؤذن کی نقل اتارتے ہوئے آذان دے دی، اور گھر والوں نے روزہ افطار کرلیا، اب بہت پشیمان ہے، تو اس پر کیا لازم آئے گا؟


سوال: گذشتہ رمضان میں مجھ سے سنگین غلطی ہوگئی تھی، میں نے گھر میں مغرب سے کچھ پہلے مؤذن کی نقل اتارتے ہوئے آذان دی، میری آواز کو مؤذن کی آواز سمجھ کر میری امی اور ماموں نے روزہ افطار کرلیا، لیکن جب میں نے معاملے کی حقیقت بتلائی تو وہ [کھانے پینے سے ]رک گئے، مجھے اپنے کئے پر بہت ندامت ہے۔
اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مجھ پر کیا واجب ہے؟
کیا میں ماموں اور امی کی طرف سے ساٹھ ساٹھ روزے رکھوں؟
اور کیا میں ان ساٹھ روزوں کو آنیوالے رمضان کے بعد بھی رکھ سکتا ہوں؟

الحمد للہ:

افطاری کیلئے آذان کے انتظار کے وقت آپ نے مؤذن کی نقل اتار کر اچھا کام نہیں کیا، آپکو چاہئے تھا کہ روزہ داروں کیلئے اس وقت کا اندازہ لگاتے [کہ یہ وقت انکے لئے کتنا حساس ہوتا ہے]

اگر آپ نے یہ کام آذان اور روزے کیساتھ مذاق کرتے ہوئے نہیں کیا، اور نہ ہی آپکا مقصد روزے داروں کو دھوکہ دینا مقصود تھا، تو ایسی صورت حال میں آپ پر کچھ نہیں ہے، لیکن پھر بھی آپکو اس سے سبق لینا چاہئے، کہ آپ اپنی حرکتوں کیلئے مناسب وقت تلاش کریں، اور سنجیدہ امور کیلئے مختص وقت میں کسی بھی نامناسب کھیل کود، یا حرکات مت کریں۔

اور اگر آپ نے یہ کام روزہ داروں کو دھوکہ دینے کیلئے کیا تھا تو آپ اپنے کیے پر توبہ و استغفار کریں، آپ پر دو ماہ کے مسلسل روزے وغیرہ لازم نہیں آتے۔

اور آپکی والدہ اور ماموں پر کوئی گناہ نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے یہ سمجھا کہ مغرب کا وقت شروع ہوگیا ہے اس لئے روزہ افطارکر لیا۔

لیکن کیا آپکی والدہ اور ماموں پر روزے کی قضا لازم ہوگی یا نہیں؟ اس بارے میں علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں، چنانچہ جمہور علمائے کرام کہتے ہیں کہ انہیں اس دن کے روزے کی قضا لازمی دینا ہوگی۔

جبکہ کچھ اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ قضا لازم نہیں ہوگی، اور اصل یہی ہے کہ انسان بری الذمہ ہوتا ہے، جبکہ شریعت میں اس قسم کی صورت حال کے متعلق موجبِ قضا کوئی [حکم ]وارد نہیں ہے، حالانکہ اس قسم کا واقعہ عہد نبوی میں بھی ہوچکا ہے۔

اسی [دوسرے]موقف کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، اور ابن عثیمین رحمہما اللہ نے اختیار کیا ہے۔

لیکن پھر بھی اگر انسان اپنی عبادت کے بارے میں محتاط [قدم اٹھائے]، اور اس قسم کے مسائل کے متعلق علمائے کرام کے اختلاف سے بچنے کیلئے اس دن کے روزے کی قضا دے دے تو یہ زیادہ بہتر ہے، ویسے بھی ایک دن کی قضا دینا عام طور پر کوئی مشقت والا کام نہیں ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"[اگر کسی نے]غروب آفتاب [کا وقت]سمجھتے ہوئے پانی پی لیا، تو جمہور اہل علم کے ہاں صحیح موقف کے مطابق اس دن کے روزے کی قضا دے دے، اور یہی محتاط موقف ہے، جبکہ کچھ اہل علم اس پر قضا لازم قرار نہیں دیتے؛ [انکی دلیل یہ ہے کہ] اسکا عذر قابل قبول ہے، جان بوجھ کر اس نے نہیں کیا، لیکن [حق کے ]قریب تر یہی ہے کہ وہ روزے کی قضا دے دے"انتہی

"فتاوى نور على الدرب لابن باز" جمع و ترتیب از: شويعر (16/ 267 )

مزید تفصیل کیلئے: سوال نمبر: : (38543)اور (66155) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب ویب سائٹ
Create Comments