Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
20107

كريڈٹ كارڈ كے ذريعہ زكاۃ كى ادائيگى

كيا كريڈٹ كارڈ كے ذريعہ زكاۃ كى ادائيگى جائز ہے؟ ميرا اتنا بيلنس ہے كہ جو اس رقم كو پورا كرسكتا ہے، اور ميں اس كى ادائيگى بغير كسى فائدہ دينے كے ادا كرتا ہوں ؟

الحمد للہ :

اول:

كريڈٹ كارڈوں كے نظام ميں شراكت كرنا جائز نہيں، صرف وہ شخص كر سكتا ہے جسے اس پر مجبور كر ديا جائے، كيونكہ يہ ايك سودى معاہدہ ہے، اور كتاب و سنت اور اجماع سے سود كى حرمت ثابت ہے.

آپ اس كى مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 13735 ) اور ( 13725 ) اور ( 3402 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

اس كارڈ كے ذريعہ زكاۃ ادا كرنے كے متعلق عرض ہے كہ: اگر تو آپ كے پاس اتنا بيلنس ہے جو ادائيگى كى رقم پورى كر سكے اور آپ كو كوئى فائدہ بھى نہ دينا پڑے - جيسا كہ آپ نے سوال ميں ذكر كيا ہے - تو اس طريقہ سے زكاۃ كى ادائيگى ميں كوئى حرج نہيں.

ليكن اگر آپ كے پاس اتنا بيلنس نہيں جو آپ كى ادائيگى كى رقم كو پورا كرسكے تو پھر يہ بنك سے فائدے كے عوض قرض شمار ہو گا، جو كہ حرام كردہ سود ہے, اور اس طريقہ سے نہ تو زكاۃ ادا كرنى جائز ہے اور نہ ہى كوئى اور رقم، اور اللہ تعالى تو پاكيزہ ہے اور پاكيزہ چيز كے علاوہ كچھ بھى قبول نہيں فرماتا.

واللہ اعلم  .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments