Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
20198

كراٹے كھيلنے كا حكم جس ميں شرك اور جھكنا شامل ہے

ميں ايك تعليمى ادارے ميں كنگ فو ( كراٹے ) سيكھ رہا ہوں، اور تقريبا چار برس سے اسى معلم سے سيكھ رہا ہوں، اور اب ميں اس كے قريبى طلبا ميں شامل ہونے لگا ہوں جنہيں اس نے باقى طلبا سے مخصوص كر ركھا ہے، تا كہ انہيں لڑائى كے زيادہ اسلوب سكھائے، اور اس نے مجھے بيمارى اور اس كا چائنى علاج ( يا كھيل كے معين اور مخصوص طريقے ) سكھائے ہيں.
ٹرينگ سينٹر ميں اس وقت ميرى حالت يہ حتمى تقاضا كرتى ہے كہ ميں ٹرينگ سينٹر ميں مزيد افراد كو ٹرينگ كے ليے لاؤں، اور شخصى طور پر بھى ميرى نيت يہى ہے كہ ميں ٹرينگ سينٹر ميں مزيد افراد لاؤں جو اپنا دفاع كرنا سيكھ سكيں، ليكن اس ٹرينگ سينٹر ميں مشكل يہ ہے كہ وہ دو قسم كا شرك ـ اكبر ـ وقفہ وقفہ سے ہوتا ہے، چاہے ٹرينگ دينے والا معلم طالب كو اس پر مجبور نہيں كرتا جب تك كہ طالب علم خود اس ميں رغبت نہ ركھتا ہو.
تو كيا اس ٹرينگ سينٹر ميں لوگوں كو ٹرينگ كى غرض سے كہ وہ اس شركيہ كام ميں شريك ہوں حرام ہو گا، اور كيا اگر وہاں لائے جانے بچے ہوں تو بھى حكم ايك ہى ہو گا ؟

الحمد للہ:

مختلف قسم كى وہ ايكسر سائز كرنا اور كھيليں جو شرعى حكم كے مخالف نہ ہوں اور اللہ تعالى كى عبادت كا مقصد پورا كرتى ہوں ان امور ميں شامل ہوتى ہيں جن پر شريعت نے ابھارا ہے تا كہ جسمانى صحت اور بدنى قوت اور عقل كى سلامتى بحال رہے، اور اس كى مشروعيت پركتاب و سنت كے دلائل ملتے ہيں، بلكہ اس پر ابھارا بھى گيا ہے.

ليكن بعض حالات ميں يہ كھيل اور ورزش حرام ہو جاتى ہيں، اور حرمت اس كى ذاتى بنا پر نہيں، بلكہ اس ليے كہ اس كى بنا پر كچھ حرام امور سرانجام ديے جاتے ہيں، اور يہى چيز سائل كى ذكر كردہ چيز پر بھى منطبق ہوتى ہے.

شرعى مخالفت كے وقوع كى مثال يہ ہے كہ: غير اللہ كے ليے جھكنا اور ركوع كرنا حرام ہے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ايك شخص كہنے لگا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہم ميں جب كوئى شخص اپنے دوست كو ملے تو كيا وہ اس كے ليے جھك جائے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" نہيں "

تو وہ شخص كہنے لگا: تو وہ اس سے معانقہ كرے اور اس كا بوسہ لے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" نہيں "

تو وہ شخص كہنے لگا: تو كيا وہ اس سے مصافحہ كر لے ؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جى ہاں، اگر چاہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2728 ) ترمذى نے اسے حسن صحيح كہا ہے، سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 3702 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 160 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" سلام كے وقت جھكنا ممنوع كردہ افعال ميں شامل ہوتا ہے، جيسا كہ ترمذى شريف كى حديث ميں وارد ہے:

صحابہ كرام نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا آيا جب كوئى شخص اپنے ( مسلمان ) بھائى كو ملے تو كيا وہ اس كے ليے جھك جائے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" نہيں "

اور اس ليے بھى كہ ركوع اور سجود اللہ عزوجل كے علاوہ كسى كے ليے كرنا جائز نہيں "

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 1 / 377 ).

اگر آپ جانتے ہيں كہ جس شخص كو آپ اس ٹرينگ سنٹر ميں شركت كرنے كى دعوت دے رہے ہيں وہ كسى حرام يا شرك كى كوئى قسم كا مرتكب ہو گا تو آپ كے ليے ايسا كرنا جائز نہيں، چاہے وہ شخص بڑى عمر كا ہو يا بچہ ہو.

كيونكہ اس ميں گناہ و معصيت ميں معاونت ہوتى ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم نيكى و بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو اور برائى و معصيت اور نافرمانى ميں ايك دوسرے كاتعاون مت كرو ﴾ المآئدۃ ( 2 ).

اللہ تعالى ہميں اور آپ كو ايسے كام كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جو اسے پسند ہيں، اور جن سے وہ راضى ہوتا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments