Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
20271

كيا مسبوق ( جس كى امام كے ساتھ كوئى ركعت رہ جائے ) اشخاص ميں سے كوئى امام بن سكتا ہے ؟

ہمارى كمپنى ميں نماز كے ليے جگہ ہيں جہاں ہم روزانہ نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ ادا كرتے ہيں، ميں نے ديكھا ہے كہ جماعت سے پيچھے رہ جانے والے لوگ امام كے ساتھ ملتے ہيں اور امام كى سلام كے بعد اپنى نماز مكمل كرنے لگتے ہيں تو بعد ميں آنے والا كوئى بھائى اپنے بائيں ( جو كہ خود بھى دير سے آيا تھا ) جانب والے شخص كى اقتدا ميں نماز ادا كرنا شروع كر ديتا ہے اس طرح يہ اس كا امام بن جاتا ہے، كيا ايسا كرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

يہ مسئلہ مسبوق شخص كا كسى دوسرے مسبوق شخص كى دوران نماز اقتدا كرنے كے نام سے موسوم ہے، اور اس مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، كچھ منع كرتے ہيں اور كچھ جواز كے قائل ہيں.

شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے جواز كو راجح قرار ديا ہے ذيل ميں ہم ان كى كلام پيش كرتے ہيں:

" اگر دير سے آنے والے دو مسبوق شخص مسجد ميں داخل ہوں اور ايك شخص دوسرے سے كہے كہ جب امام سلام پھير دے تو ميں تيرا امام ہوں؛ تو دوسرا شخص كہے كوئى حرج نہيں، اور جب امام سلام پھيرے تو دونوں ميں سے ايك شخص دوسرے كا امام بن جائے، تو يہ شخص اقتدا سے امامت ميں منتقل ہو گيا، اور دوسرا شخص ايك شخص كى امامت سے دوسرے شخص كى امامت ميں داخل ہوا.

( بعض علماء كرام كا كہنا ہے ): كہ يہ جائز ہے؛ اور اس ميں كوئى حرج نہيں كہ جماعت كے ساتھ دير سے آكر ملنے والے دو اشخاص اتفاق كر ليں كہ ان ميں سے ايك امام بن جائيگا.

ان كا كہنا ہے كہ: ايك شخص كى امامت سے دوسرے شخص كى امامت ميں منتقل ہونا سنت نبويہ سے ثابت ہے، جيسا كہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ واقعہ ہوا:

وہ اسطرح كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بيمارى ميں ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نے لوگوں كى امامت كروائى پھر دوران نماز ہى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تشريف لے آئے، چنانچہ جب ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نے انہيں ديكھا تو پيچھے ہٹ گئے تا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم آگے آ جائيں، چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز مكمل كروائى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 687 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 418 ).

چنانچہ اس قصہ ميں دو انتقال ہوئے:

پہلا:

ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كا امامت سے اقتدا ميں منتقل ہونا.

دوسرا:

صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم كا ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى امامت سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى امامت ميں منتقل ہونا.

( اور ايك قول يہ بھى ہے ) كہ يہ جائز نہيں؛ كيونكہ يہ امام سے امام كى طرف منتقل ہونا، اور بغير كسى عذر كے اقتدا سے امامت كى جانب منتقل ہونا ہے، اور ادنى سے اعلى كى طرف منتقل ہونا ممكن نہيں، چنانچہ انسان كا امام ہونا مقتدى ہونے سے اعلى ہے.

ان كا كہنا ہے: اور اس ليے بھى كہ سلف رحمہم اللہ كے دور ميں يہ معروف نہ تھا، چنانچہ جب صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہم ميں سے كسى كى كچھ نماز رہ جاتى تو وہ اس پر متفق نہ ہوتے تھے كہ كوئى ايك آگے بڑھ كر امام بن جائے، اور اگر يہ خير ہوتى تو اس ميں صحابہ كرام سبقت لے جاتے.

ليكن اس كے جواز كے قائلين يہ نہيں كہتے كہ مسبوق افراد سے يہ مطلوب نہيں ہے كہ وہ كسى ايك كو امام بنانے پر متفق ہوں، بلكہ وہ يہ كہتے ہيں كہ: اگر ايسا كر ليا جائے تو جائز ہے.

اسے جائز كہنے اور يہ مستحب اور مشروع ہے كہنے ميں فرق ہے، چنانچہ ہم اس كى مشروعيت كے قائل نہيں، اور نہ ہى لوگوں كے ليے يہ مندوب قرار ديتے ہيں كہ جب ان كى كچھ نماز رہ جائے تو وہ نماز ميں داخل ہونے سے قبل كسى ايك كو كہيں كہ ميں تمہارا امام ہوں، ليكن اگر وہ ايسا كر ليں تو ہم ان كى نماز باطل نہيں كرتے.

يہى قول صحيح ہے، يعنى يہ جائز ہے، ليكن ايسا كرنا نہيں چاہيے؛ كيونكہ سلف رحمہ اللہ كے دور ميں يہ معروف نہ تھا، اور جو سلف رحمہ اللہ تعالى كے ہاں معروف نہ ہو اس كا ترك كرنا افضل ہے؛ اس ليے كہ ہميں علم ہے كہ خير و بھلائى ميں وہ ہم سے سبقت لے جانے والے تھے، اور اگر يہ خير و بھلائى ہوتى تو وہ ہم سے سبقت لے جاتے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 2 / 316 - 317 ).

واللہ اعلم  .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments