2036: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بلند مرتبہ (منزلۃ رفیعۃ) کیا ہے


میری خواہش ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بلند مرتبہ (منزلۃ رفیعۃ) کے متعلق معلوم کروں ؟

الحمدللہ

جو بھی اذان سنے اس کے لۓ یہ مشروع ہے کہ وہ موذن کے ساتھ ساتھ مکمل اذان کے کلمات کہے اور جب اذان کے کلمات کہنے سے فارغ ہو تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے (درورد ابراہیمی از مترجم )

پھر اس کے بعد یہ کہے :

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جو شخص اذان سننے کے بعد یہ کلمات کہے :

اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلاۃ القائمۃ آت محمد الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاما محمودا الذی وعدتہ

( اس پوری پکار (اذان) کے اور قائم رہنے والی نماز کے رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور بزرگی عطا فرما اور انہیں مقاما محمود میں پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے )

تو اس کے لۓ قیامت کے دن میری شفاعت حلال ہو گئ- صحیح بخاری حدیث نمبر 579

تو اس دعا میں یہ عبارت (الدرجۃ الرفیعۃ) نہیں ہے لہذا یہ نہیں کہا جائے گا اور الوسیلۃ والفضیلۃ میں جو عطف ہے وہ عطف بیان یعنی عطف تفسیر ہے اور وہ وسیلہ یہ ایسا مرتبہ ہے جو کہ سب مخلوق سے زیادہ اور بڑھ کے ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود اس کی تفسیر بیان کی ہے ۔

عبداللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

( جب تم موذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو تم بھی اسی طرح کہو پھر مجھ پر درود بھیجو (درورد ابراہیمی از مترجم ) کیونکہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے پھر اس کے بعد میرے لے وسیلہ مانگو کیونکہ یہ جنت میں ایک ایسا مرتبہ ہے جو کہ صرف ایک بندے کے لائق ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں تو جس نے میرے لۓ وسیلہ مانگا قیامت کے دن اس کے لۓ میری شفاعت حلال ہو گئ-

صحیح مسلم حدیث نمبر 577

اور مقام محمود یہ شفاعت عظمی ہے جو کہ اللہ تعالی کے ہاں لوگوں کے درمیان فیصلے کے لۓ کی جائے گی اور اس کی اجازت صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دی جائے گی اور یہی اللہ تعالی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لۓ اس فرمان میں ذکر کیا گیا ہے :

< سورج ڈھلنے سے رات کی تاریکی تک نماز قائم کریں اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقینا فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گيا ہے رات کے کچھ حصہ میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کیا کریں یہ زیادتی آپ کے لۓ ہے عنقریب اللہ تعالی آپ کو مقام محمود میں کھڑا کریں گے > الاسراء 78- 79

اور اسے مقام محمود اس لۓ کہا گیا ہے کہ سب مخلوق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مرتبے پر فائز ہونے کی تعریف کرے گے کیونکہ اس شفاعت سے محشر کی ہولناکی اور ان کی تکلیف دور ہو گی اور مخلوق کے درمیان حساب وکتاب ہو گا-

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments