Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
20406

دف بجانے كے جواز كے مقامات

ميرا سوال دف كے متعلق ہے، ميرے خيال كے مطابق يہ واحد موسيقى كا آلہ ہے جو حلال ہے، اور مسلمان اسے استعمال كر سكتے ہيں، ميں نے كچھ ايام قبل ميں نے پڑھا ہے كہ اس كے استعمال كے ليے كچھ حدود و قيود بھى ہيں مثلا:
صرف اسے عورتيں ہى بجا سكتى ہيں، اور صرف عيد اور خوشى شادى بياہ كے موقع پر ہى بجايا جا سكتا ہے، اس كے علاوہ حرام ہے، جہاں ميں نے يہ كلام پڑھى ہے اس ميں اس كى كوئى دليل بيان نہيں كى گئى، تو كيا يہ ممنوعات صحيح ہيں، اور كيا اس كے علاوہ بھى كوئى ممنوعہ جگہ پائى جاتى ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

امام بخارى رحمہ اللہ نے صحيح بخارى ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان روايت كيا ہے:

" ميرى امت ميں كچھ لوگ ايسے آئينگے جو زنا اور ريشم اور شراب اور گانا بجانا حلال كر لينگے "

يہاں " الحر " سے مراد زنا ہے.

تو يہ حديث ہر قسم كے موسيقى كے آلات كى حرمت پر دلالت كرتى ہے، اور ان آلات ميں دف بھى شامل ہے.

اور عبد اللہ بن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" دف حرام ہے، اور گانے بجانے والے آلات حرام ہيں، اور طبل يعنى ڈھول حرام ہے، اور بانسرى حرام ہے "

سنن بيھقى ( 10 / 222 ).

ليكن كچھ ايسى احاديث وارد ہيں جو كچھ مواقع پر دف بجانے كى اباحت پر دلالت كرتى ہيں، جو درج ذيل ہيں:

عيد كے موقع پر.

شادى بياہ كے موقع پر.

اور سفر سے واپس آنے والے شخص كى آمد كے موقع پر.

اس كے دلائل يہ ہيں:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ابوبكر رضى اللہ تعالى عنہ ان كے پاس آئے تو اس وقت دو لڑكياں منى كے ايام ميں دف بجا رہى تھيں، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كپڑا اوڑھ كر ليٹے ہوئے تھے، چنانچہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نے ان دونوں لڑكيوں كو ڈانٹا اور منع كيا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے چہرہ سے كپڑا اتارا اور فرمانے لگے:

" اے ابو بكر انہيں كچھ نہ كہو يہ عيد كے دن ہيں، اور يہ منى كے ايام ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 944 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 892 )

ب ـ ربيع بنت معوذ بن عفراء رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ميرى شادى كے موقع پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم آئے اور تيرى طرح ہى ميرے بستر پر بيٹھ گئے، تو ہمارى چھوٹى بچيوں نے دف بجانا شروع كر دى اور بدر كے موقع پر قتل ہونے والے ميرے بزرگوں كا مرثيہ پڑھتے ہوئے ايك بچى كہنے لگى:

اور ہم ميں وہ نبى ہے جو كل كى بات كا علم ركھتا ہے.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" يہ بات نہ كہو، بلكہ اس سے پہلے جو باتيں كہہ رہى تھى وہ كہتى رہو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4852 ).

ج ـ بريدہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايك معركہ ميں گئے اور جب واپس آئے تو ايك سياہ رنگ كى بچى آ كر كہنے لگى:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں نے نذر مانى تھى كہ اگر آپ كو اللہ تعالى نے صحيح ركھا تو ميں آپ كے سامنے دف بجاؤنگى اور اشعار گاؤنگى .

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے فرمايا:

" اگر تم نے نذر مانى تھى تو پھر دف بجا لو، وگرنہ نہيں "

تو وہ دف بجانے لگى، اور اسى اثناء ميں ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ وہاں آ گئے اور وہ دف بجا رہى تھى، اور پھر على رضى اللہ تعالى عنہ آ گئے تو وہ ابھى دف بجا رہى تھى، اور پھر عثمان رضى اللہ تعالى عنہ بھى آ گئے تو وہ دف بجاتى رہى، اور پھر عمر رضى اللہ تعالى عنہ داخل ہوئے تو اس نے دف اپنے سرين كے نيچے چھپا كر اس كے اوپر بيٹھ گئى.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" اے عمر بلا شبہ شيطان تجھ سے خوفزدہ رہتا اور ڈرتا ہے، ميں بيٹھا ہوا تھا اور يہ بچى دف بجاتى رہى، اور ابوبكر رضى اللہ تعالى عنہ آئے تو يہ دف بجاتى رہى، اور پھر على آئے تو بھى بجاتى رہى، اور پھر عثمان آئے تو بھى بجاتى رہى، اے عمر جب تم آئے تو اس نے دف ركھ دى "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 3690 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 2913 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

تو يہ احاديث ان تين مواقع پر دف بجانے كے جواز پر دلالت كرتى ہيں، اور اس كے علاوہ كسى اور موقع پر دف بجانے كا حكم اپنے اصل يعنى حرمت پر ہى قائم رہے گا، اور بعض علماء كرام نے اس ميں توسيع كرتے ہوئے بچے كى ولادت اور ختنہ كے موقع پر دف بجانا جائز قرار ديا ہے، اور كچھ اور علماء نے اس ميں اور وسعت كرتے ہوئے كہا ہے كہ جو بھى كسى خوشى كا موقع ہو اس ميں دف بجانى جائز ہے، مثلا مريض كى شفايابى كے موقع وغيرہ پر.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 38 / 169 ).

ليكن بہتر يہى ہے كہ اسى پر اقتصار كيا جائے جو نص يعنى احاديث ميں آيا ہے، اس كے علاوہ كسى اور موقع پر دف نہ بجائى جائے.

واللہ تعالى اعلم.

دوم:

صحيح يہى ہے كہ صرف عورتيں ہى دف بجا سكتى ہيں، اور مردوں ميں سے اگر كوئى شخص دف بجاتا ہے تو اس نے عورتوں كے سات مشابہت كى، اور يہ كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتا ہے.

شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں:

دين اسلام ميں جو چيز ضرورى اور لازمى معلوم ہوتى ہے اس ميں يہ شامل ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت كے كسى بھى صالح شخص اور امت كے عبادت گزار اور زاہد افراد كو اس بات كى اجازت نہيں دى كہ وہ جمع ہو كر تاليوں كى گونج ميں يا پھر بانسرى وغيرہ يا دف بجا كر كوئى اشعار اور نظم سنيں اور سنائيں.

اسى طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ بھى اجازت نہيں دى كہ وہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم كے طريقہ اور كتاب اللہ الحكيم كو چھوڑ كر كسى اور طريقہ كى اتباع كريں، نہ تو باطن ميں اور نہ ہى ظاہر ميں، نہ كسى خاص شخص كو اور نہ ہى كسى عام شخص كو اس بات كى اجازت ہے.

ليكن شادى كے موقع پر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كچھ كھيل كود اور گانے كى اجازت دى ہے، جس طرح كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے عورتوں كو شادى بياہ كے موقع پر دف بجانے كى اجازت دى، ليكن مرد حضرات نہ تو دف بجا سكتے ہيں، اور نہ ہى تالياں بجا سكتے ہيں، بلكہ صحيح حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" عورتوں كے ليے تالي بجانا، اور مرد كے ليے سبحان اللہ كہنا ہے "

اور ايك دوسرى حديث ميں فرمان نبوى ہے:

" مردوں سے مشابہت كرنے والى عورتوں پر لعنت ہے، اور عورتوں سے مشابہت كرنے والے مردوں پر بھى لعنت ہے "

اور جب گانا اور دف اور تالى بجانا عورتوں كے كام ميں شامل ہے تو مردوں ميں سے ايسا كام كرنے والے شخص كو علماء كرام مخنث اور ہيجڑے اور گويوں ( بھانڈ ) كا نام ديتے تھے، اور علماء كرام كى كلام ميں يہ چيز مشہور ہے.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 11 / 565 - 566 ).

اور ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" قوى احاديث ميں عورتوں كو اس كى اجازت ہے، اس ليے عورتوں سے مشابہت كى عمومى نہى اور ممانعت كى بنا پر ان كے ساتھ مردوں كو نہيں ملايا جا سكتا "

ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 226 ).

اور شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" دف بجانے كى اجازت صرف عورتوں كے ليے خاص ہے، ليكن مردوں كے ليے دف استعمال كرنى جائز نہيں، نہ تو مرد اسے شادى كے موقع پر استعمال كر سكتے ہيں، اور نہ ہى كسى اور موقع پر، بلكہ مردوں كے ليے تو اللہ تعالى نے لڑائى كے آلات كو سيكھنا مشروع كيا ہے، مثلا نشانہ بازى، اور گھڑ سوارى، اور دوڑ وغيرہ "

ماخوذ از: مجلۃ الجامعۃ الاسلاميۃ المدينۃ النبويۃ عدد نمبر ( 3 ) سال دوم محرم ( 1390 ھـ ) صفحہ نمبر ( 185 - 186 ).

اور شيخ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

" رہا شادى كا مسئلہ تو اس ميں دف كے ساتھ عام اشعار گانے مشروع ہيں جن ميں حرام كى دعوت نہ ہو، اور نہ ہى كسى حرام كام كى مدح سرائى كى گئى ہو، اور پھر يہ رات كے حصہ ميں صرف خاص كر عورتوں كے ليے ہو اس ميں عورتيں ہى يہ اشعار پڑھيں، نكاح كے اعلان اور نكاح و سفاح و زنا ميں فرق كرنے كے ليے، جيسا كہ صحيح احاديث ميں اس كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثبوت ملتا ہے "

ماخوذ از: التبرج و خطرہ. ( كتاب: بےپردگى اور اس كے خطرات ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments