Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
20471

كيا مسلمان عورت بے نماز كے ساتھ اٹھے بيٹھے اور كھا پى لے ؟

كيا كسى مسلمان عورت كے ليے بے نماز عورت كے ساتھ شادى وغيرہ كى دعوت ميں اٹھنا بيٹھنا اور شب بيدارى كرنا جائز ہے ؟
كيا جس برتن كو اس نے استعمال كيا ہے ہم اسى برتن ميں كھا پى سكتے ہيں ؟

الحمد للہ :

جو شخص بھى بالكل نماز ادا نہيں كرتا وہ كافر ہے، اور اسلام سے اس كا كوئى تعلق نہيں، جيسا كہ سوال نمبر ( 5208 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے.

اس بنا پر سوال ميں مذكورہ عورت مسلمان نہيں، چنانچہ اس عورت كے ساتھ بائيكاٹ كرنا واجب ہے، ليكن اگر اسے توبہ كرنے اور اللہ تعالى كى طرف رجوع كرنے، اور نماز پابندى كے ساتھ ادا كرنے پر ابھارنے كے ليے مجلس كى جائے تو جائز ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ذيل فتوى ہے:

" جس نے بھى نماز كى فرضيت كا انكار كرتے ہوئے جان بوجھ كر عمدا نماز ترك كى تو باتفاق علماء كرام وہ كافر ہے.

اور اگر وہ نماز ميں سستى كرتا ہوا اور اسے حقير سمجھ كر نماز ترك كرتا ہے تو صحيح قول كے مطابق وہ بھى كافر ہے.

اس بنا پر ايسے لوگوں كے ساتھ اٹھنا بيٹھنا اور ان سے تعلقات ركھنا جائز نہيں، بلكہ ان كے ساتھ بائيكاٹ كرنا واجب ہے، ليكن بائيكاٹ كرنے سے قبل انہيں يہ بتانا اور واضح كرنا ضرورى ہے كہ تارك نماز كافر ہے، اگر اسے اس كا علم نہ ہو.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہمارے اور ان كے مابين عہد نماز ہے چنانچہ جس نے بھى نماز ترك كى اس نے كفر كيا "

اور يہ سب كو عام ہے چاہے وہ اس كى فرضيت كا انكار كرنے والا ہو يا پھر سستى و كاہلى كى بنا پر نماز ترك كرے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے " اھـ

ماخوذ از: فتاوى اسلاميۃ تاليف شيخ مسند ( 1 / 373 ).

رہا مسئلہ اس كے استعمال كردہ برتن ميں كھانے پينے كا تو اس كا حكم بھى كفار كے برتنوں والا حكم ہى ہے، اور مسلمان كے ليے كفار كے برتن استعمال كرنا جائز ہيں، جب اس كے متعلق يہ علم ہو كہ وہ ان برتنوں ميں حرام اشياء مثلا شراب، اور خنزير كا گوشت وغيرہ نہيں ركھتے.

صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں عمران بن حصين رضى اللہ تعالى عنہ سے حديث مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام نے ايك مشركہ عورت كے مشكيزہ سے پانى استعمال كيا تھا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 344 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 682 ).

ليكن اگر يہ يقين ہو يا پھر غالب گمان ہو كہ ان برتنوں ميں انہوں نے حرام اشياء استعمال كى ہيں تو انہيں استعمال سے قبل دھونا ضرورى ہے، كيونكہ صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں ابو ثعلبہ خشنى رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ہے:

" وہ بيان كرتے ہيں كہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور عرض كى:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہم اہل كتاب كے علاقے ميں رہتے ہيں، اور ان كے برتنوں ميں كھاتے ہيں.... الخ

چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تو نے جو يہ كہا ہے كہ تم لوگ اہل كتاب كے علاقے ميں رہتے ہو اور ان كے برتنوں ميں كھاتے ہو، اگر تو تمہيں ان برتنوں كے علاوہ اور برتن مل جائيں تو پھر ان كے برتنوں ميں مت كھاؤ، ليكن اگر تمہيں ان برتنوں كے علاوہ كوئى اور برتن نہيں ملتے تو پھر انہيں دھو كر ان ميں كھا لو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5496 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1930 ) اور يہ الفاظ مسلم شريف كے ہيں.

مزيد تفصيل كے ليے آپ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كى فتح البارى ( 1 / 453 ) اور الشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كى الشرح الممتع ( 1 / 67 - 69 ) كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments