Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
20473

بچوں كى پرورش كے متعلق سوال

مجھے علم ہے كہ اگر خاوند اور بيوى ميں طلاق ہو جائے تو غير بالغ بچوں كى پرورش كا زيادہ حق عورت كو ہے، اور اگر عورت شادى كر لے تو پھر خاوند كو زيادہ حق حاصل ہو گا، ميرا سوال يہ ہے كہ:
اگر باپ بچوں كے خرچ كا حق ادا نہ كرتا ہو تو كيا پھر بھى اسے ماں سے بچوں كو حاصل كرنے كا حق حاصل ہے، ميں ايسے شخص كى بات كر رہى ہوں جو كہتا ہے وہ اخراجات پورے كر سكتا ہے، اس نے ايك اور عورت سے شادى كر لى ہے اور اس كا ايك بيٹا بھى ہے وہ اس كے اخراجات پورے كر رہا ہے ليكن وہ اپنى پہلى بيوى كے دونوں بچوں كے اخراجات ادا نہيں كرتا، وہ پہلى بيوى كو كہتا ہے كہ اگر اس نے دوسرى شادى كر لى تو وہ اس سے اولاد چھين لے گا، كيا يہ صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

علماء اس پر متفق ہيں كہ بچہ جب تك تميز كرنے كى عمر تك نہ پہنچے اس وقت تك پرورش ماں كا حق ہے، كيونكہ بچہ اس عمر ميں مہربانى و رحمدلى كا محتاج ہوتا ہے، اور اسے ديكھ بھال كى ضرورت ہوتى ہے جو صرف عورتيں ہى كر سكتى ہيں، ليكن جب وہ شادى كر لے تو يہ حق ساقط ہو جاتا ہے، كيونكہ شادى كے بعد عورت اپنے خاوند اور اس كى اولاد كى خدمت ميں مشغول ہو جائيگى، اور خاوند اور بچے كى پرورش كى مصلحت ميں تعارض ہو جاتا ہے، شادى كرنے سے ماں كا حق ساقط ہونے پر ابن منذر رحمہ اللہ نے علماء كا اجماع نقل كيا ہے.

ديكھيں: الكافى ابن عبد البر ( 1 / 296 ) اور المغنى ( 8 / 194 ).

اس كى دليل درج حديث ہے:

عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

ايك عورت نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئى اور عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے اس بيٹے كے ليے ميرا پيٹ اس كے ليے رہنے كى جگہ تھى، اور ميرى چھاتى اس كى خوراك كا باعث تھى، اور ميرى گود اس كى حفاظت كى جگہ تھى، اور اس كے باپ نے مجھے طلاق دے دى ہے، اور اب اس كو مجھ سے چھيننا چاہتا ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے فرمايا:

" تم جب تك نكاح نہيں كرتى اس كى زيادہ حقدار ہو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2276 ) مسند احمد حديث نمبر ( 6707 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابو داود حديث نمبر ( 1968 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے، اور ابن كثير رحمہ اللہ نے ارشاد الفقيہ ( 2 / 250 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

دوم:

علماء كرام كا اتفاق ہے كہ بچے كے اخراجات باپ پر واجب ہيں چاہے وہ اپنى بيوى كو ركھے يا اسے طلاق دے، اور چاہے بيوى مالدار ہو يا مسكين و فقير باپ كى موجودگى ميں ماں پر اولاد كى خرچ لازم نہيں ہو گا.

اور مطلقہ عورت كا بچوں كى پرورش كرنے كى صورت ميں اولاد كا سارا خرچ باپ كے ذمہ ہوتا ہے، اور دودھ پلانے اور پرورش كرنے والى عورت بچے كو دودھ پلانے كى اجرت كا مطالبہ كر سكتى ہے.

اولاد كے خرچ و اخراجات ميں بچے كى رہائش اور كھانا پينا اور لباس اور تعليم اور ہر وہ جس كى انہيں ضرورت ہو وہ اشياء شامل ہيں، اور ان اخراجات كو بہتر طريقہ سے مقرر كيا جائيگا اور اس ميں خاوند كى حالت كا خيال ركھا جائيگا.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ كشادگى والے كو اپنى كشادگى سے خرچ كرنا چاہيے اور جس پر اس كے رزق كى تنگى كى گئى ہو اسے چاہيے كہ جو كچھ اللہ تعالى نے اسے دے ركھا ہے اسى ميں سے ( اپنى حيثيت كے مطابق ) دے، كسى شخص كو اللہ تعالى تكليف نہيں ديتا مگر اتنى ہى جتنى طاقت اسے دے ركھى ہے، اللہ تعالى تنگى كے بعد آسانى و فراغت بھى كر دے گا }الطلاق ( 7 ).

اور يہ چيز علاقے اور شخص كے اعتبار سے مختلف ہو گى اس ليے اگر خاوند غنى و مالدار ہے تو خرچ اس كى مالدارى كے مطابق ہو گا، يا پھر اگر فقير و تنگ دست يا متوسط طبقہ كا ہے تو بھى اس كى حالت كے مطابق ہو گا.

اور جب والدين كسى متعين مبلغ پر اتفاق كر ليں چاہے زيادہ ہو يا قليل تو يہ ان پر منحصر ہے، ليكن تنازع اور اختلاف كے وقت فيصلہ قاضى ہى كريگا.

علماء كرام كا اتفاق ہے كہ مطلقہ عورت خاوند سے بچے كو دودھ پلانے كى اجرت كا مطالبہ كر سكتى ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بچے كى رضاعت اكيلے والد كے ذمہ ہے، اور جب ماں طلاق شدہ ہو تو اسے بچے كو دودھ پلانے پر مجبور نہيں كيا جا سكتا، ہمارے علم ميں اس كے متعلق كوئى اختلاف نہيں "

ديكھيں: المغنى ( 11 / 430 ).

اور ابن قدامہ كا يہ بھى كہنا ہے:

جب ماں بچے كو دودھ پلانے كى اجرت كا مطالبہ كرے تو يہ اس كا حق ہے، چاہے باپ كو دودھ پلانے والى بغير اجرت كے مل جائے يا اجرت كے بغير نہ ملے "

ديكھيں: المغنى ( 11 / 431 ).

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" علماء كرام كا اتفاق ہے كہ رضاعت كى اجرت كا اسے حق ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{اور اگر وہ تمہارے بچوں كو دودھ پلائيں تو تم انہيں ان كى اجرت دے دو }. انتہى

ماخوذ از: الفتاوى الكبرى ( 3 / 347 ).

سوم:

پرورش ـ جيسا كہ علماء نے اس كى تعريف كى ہے ـ يہ شمار ہو گى كہ جو بچہ اپنے معاملات كو خود نپٹا نہ سكے اور تميز نہ كر سكے اس كى حفاظت اور ديكھ بھال كرنا اور اس كى تربيت كرنا اور جو اس كى اصلاح كا باعث ہو اور اسے تكليف دہ اشياء سے بچائے يہ پرورش كہلائيگى"

ديكھيں: روضۃ الطالبين ( 9 / 98 ).

اس پرورش كا مقصد چھوٹے بچے كى ديكھ بھال اور اس كے امور كو سرانجام دينا ہے، لہذا پرورش ميں پرورش كردہ بچے كى مصلحت كا خيال ركھنا ہے، اس ليے جب باپ اس واجب كو پورا نہ كرے اور اس سے رك جائے ـ اور اس ميں خرچ بھى شامل ہے ـ تو وہ گنہگار ہو گا، اور اس سے اس كا حق پرورش ساقط ہو جائيگا.

الروض المربع ميں درج ہے:

" اور پرورش والے بچے كو ايسے ہاتھ ميں نہيں رہنے ديا جائيگا جو اس كى حفاظت نہ كر سكے اور نہ ہى اس كى ديكھ بھال كرے، كيونكہ ايسا كرنے سے پرورش كا مقصد فوت ہو جائيگا "

ديكھيں: الروض المربع ( 3 / 251 ).

اور ابن قدامہ المقدسى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" پرورش تو بچے كے حق كى وجہ سے ثابت ہے، لہذا يہ ايسے طريقہ سے مشروع نہيں ہو گى جس ميں بچے كى ہلاكت و ضياع اور اس كے دين كا ضياع ہو "

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 8 / 190 ).

اور ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس بنا پر كہ جب ہم والدين ميں سے كسى ايك كو مقدم كريں تو ہميں بچے كى حفاظت اور ديكھ بھال كا خيال كرنا ہو گا، اسى ليے امام مالك اور ليث رحمہما اللہ كہا كرتے تھے:

جب ماں حفاظت اور بچاؤ كى جگہ نہ ہو، يا پسند نہ ہو تو باپ كو اس سے اپنى بيٹى لينے كا حق حاصل ہے، اور اسى طرح امام احمد رحمہ اللہ سے مشہور روايت ميں ہے، كيونكہ باپ كو حفاظت و ديكھ بھال پر قادر شمار كيا جائيگا، ليكن اگر وہ اس كى ادائيگى كرنے ميں كاہل و سست ہو يا عاجز ہو يا پسند نہ ہو يا پھر ديوث ہو اور ماں اس كے برعكس صحيح ہو تو پھر بلاشك و شبہ ماں بيٹى كى زيادہ حقدار ہو گى.

ہمارے شيخ كہتے ہيں:

جب والدين ميں سے كسى ايك نے بھى بچے كى تعليم چھوڑ دى جو اللہ نے ان كے ذمہ واجب كى تھى تو وہ گنہگار ہے اور وہ اس كا ولى و ذمہ دار نہيں بن سكتا، بلكہ جو كوئى بھى اپنى ذمہ دارى ميں رہنے والے كے واجب كى ادائيگى نہيں كرتا تو اس كو اس كى ولايت كا كوئى حق نہيں، بلكہ يا تو اس سے اس كى ولايت ختم كر دى جائيگى اور اس كى جگہ كسى اور كو قائم مقام بنا ديا جائيگا، يا پھر اسے اس كے سپرد كر ديا جائيگا جو اس واجب كو پورا كرتا ہو، كيونكہ مقصود اللہ اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى حسب امكان اطاعت و فرمانبردارى ہے....

اگر بالفرض باپ كسى ايسى عورت سے شادى كر ليتا ہے جو اس كى بيٹى كى مصلحت كا خيال نہيں كرتى، اور نہ ہى اس كى ديكھ بھال كرتى ہے، اور اس بچى كى ماں اپنى سوكن سے زيادہ بچى كا خيال ركھ سكتى ہے تو پھر قطعى طور پر پرورش ماں كا حق ہو گا "

ديكھيں: زاد المعاد ( 5 / 424 ).

اور شيخ عبد الرحمن السعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور اگر ان دونوں ميں سے كوئى ايك بچے كى پرورش كے واجبات ميں سے كسى چيز ميں سستى و كوتاہى كرتا ہے، اور بچے كو جس كى ضرورت تھى اس مصلحت كو پورا نہيں كرتا تو اس كى ولايت ساقط ہو جائيگى اور دوسرے كو متعين كر ديا جائيگا "

ديكھيں: فتاوى السعديۃ ( 535 ).

اس بنا پر جب باپ اپنى اولاد كے اخراجات روك لے تو اس كا حق پرورش ساقط ہو جائيگا، چاہے اس نے ماں كو نقصان دينے كے ليے ہى بچوں كا خرچ بند كيا ہو، يہ اس كى دليل ہے كہ باپ اولاد مى مصلحت كا امين نہيں، اور اس حالت ميں ماں كو قاضى كے پاس جا كر اپنى اولاد كا خرچ طلب كرنے كا حق حاصل ہو گا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments