Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
20705

اگر مطلقہ عورت شادى كر لے تو اسے حق پرورش نہيں ملے گا

ميں نے اپنى بيوى كو طلاق دے دى ہے اور ہمارے چار بيٹے ہيں جن كى عمريں سات پانچ اور تين اور ايك برس ہے، پھر ميرى طلاق شدہ بيوى نے ايك مسلمان شخص سے شادى كر لى، اور ميں نے اپنى اولاد كا حق پرورش طلب كيا تو بيوى نے بچوں كى پرورش كا حق مجھے دينے سے انكار كر ديا، اور ميرے ليے بچوں سے ملنا بھى مشكل كر ديا، اس حالت ميں ميرے ذمہ كيا واجب ہوتا ہے ؟
اور كيا قرآن و سنت ميں كوئى ايسى دليل ملتى ہے جو باپ كو بچوں كى تربيت و پرورش كا حق ديتى ہو، ميرى بيوى كہتى ہے كہ اگر اس سلسلہ ميں كوئى صريح آيت نہ ہو تو يہ مسئلہ اجتھاد كى طرف لوٹتا ہے اور اس كا اجتھاد يہى ہے، كيا اس كى بات صحيح ہے ؟

الحمد للہ:

ماں جب تك شادى نہ كرے تو وہ سات برس سے قبل تك اپنے بچوں كى پرورش كى زيادہ حقدار ہے، اور جب شادى كر لے تو يہ حق پروش اس كے ساتھ والے كو منتقل ہو جائيگا، اس كى دليل درج ذيل حديث ہے:

عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

ايك عورت نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئى اور عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے اس بيٹے كے ليے ميرا پيٹ اس كے ليے رہنے كى جگہ تھى، اور ميرى چھاتى اس كى خوراك كا باعث تھى، اور ميرى گود اس كى حفاظت كى جگہ تھى، اور اس كے باپ نے مجھے طلاق دے دى ہے، اور اب اس كو مجھ سے چھيننا چاہتا ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے فرمايا:

" تم جب تك نكاح نہيں كرتى اس كى زيادہ حقدار ہو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2276 ) مسند احمد حديث نمبر ( 6707 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح سنن ابو داود حديث نمبر ( 1968 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

باپ كو اپنے بچے ديكھنے اور ان كے حالات دريافت كرنا ممكن بنانا ضرورى ہے، چاہے وہ ماں كى پرورش ميں ہو يا كسى اور كى پرورش ميں.

اس ليے كہ ماں كى شادى سے حق پرورش ساقط ہو كر اس كے بعد والے كى طرف منتقل ہو جاتا ہے، اور ماں كے بعد كون زيادہ حقدار ہو گا اس كى تعيين ميں فقھاء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، بعض علماء كہتے ہيں كہ حق پرورش نانى كو منتقل ہو جائيگا، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے يہ راجح قرار ديا ہے كہ نانى كى بجائے باپ اولى ہے، اس بنا پر حق پرورش آپ كى طرف منتقل ہو جائيگا "

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 26 ) مكمل طبع.

اسى طرح اگر ماں كافر يا فاسق ہو تو حق پرورش باپ كو منتقل ہو جائيگا، حتى كہ جو لوگ كہتے ہيں كہ باپ كى بجائے نانى زيادہ حقدار ہے ان كے ہاں بھى باپ كى طرف منتقل ہو جائيگا.

اور يہ جاننا ضرورى ہے كہ پرورش كا مقصد بچے كى ديكھ بھال اور اس كى حفاظت ہے، اس ليے كسى شخص كے فسق و فجور اور فساد يا ضياع و سستى و كوتاہى يا كثرت سفر كى وجہ سے اس كا حق پرورش ساقط ہو جاتا ہے، كيونكہ يہ اشياء بچے كى مصلحت كے ليے نقصاندہ اور مضر ہيں.

اور والدين كو بچے كى مصلحت كو مدنظر ركھتے ہوئے اس معاملہ ايك دوسرے كا تعاون كرنا چاہيے تا كہ ان دونوں كا اختلاف اور تنازع بچے كے ضائع ہونے اور ناكامى كا باعث نہ بنے.

قرآن مجيد ميں كوئى مخصوص آيت نہيں جو يہ تحديد كرتى ہو كہ پرورش كا زيادہ حقدار كون ہے، ليكن مسلمان شخص كو اللہ عزوجل كا يہى فرمان كافى ہے:

﴿ اور رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) تمہيں جو ديں وہ لے ليا كرو، اور جس سے تمہيں روكيں اس سے رك جايا كرو، اور اللہ كا تقوى اختيار كرو يقينا اللہ تعالى سخت سزا دينے والا ہے ﴾الحشر ( 7 ).

اور يہ فرمان بارى تعالى بھى:

﴿ قسم ہے تيرے پروردگار كى! يہ اس وقت تك مومن ہى نہيں ہو سكتے جب تك كہ تمام آپس كے اختلاف ميں آپ كو حاكم نہ مان ليں، پھر جو آپ ان ميں فيصلہ كر ديں ان سے اپنے دل ميں كسى طرح كى تنگى اور ناخوشى نہ پائيں اور فرمانبردارى كے ساتھ قبول كر ليں ﴾النساء ( 65 ).

اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالى اس طرح ہے:

﴿ اور ديكھو كسى مومن مرد و عورت كو اللہ اور اس كے رسول كے فيصلہ كے بعد اپنے كسى امر كا كوئى اختيار باقى نہيں رہتا، ( ياد ركھو ) اللہ تعالى اور اس كے رسول كى جو بھى نافرمانى كريگا، وہ صريح گمراہى ميں پڑے گا ﴾الاحزاب ( 36 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فيصلہ ہے كہ اگر ماں شادى كر لے تو اس كا حق پرورش ساقط ہو جاتا ہے، جيسا كہ اوپر حديث ميں بيان ہو چكا ہے، اس ليے مومن عورت كو اس فيصلہ پر راضى ہو كر اسے تسليم كرنا چاہيے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments