Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
20712

كام كاج كى بنا پر نماز بروقت ادا نہيں كرسكتا لہذا كيا كرے ؟

ميں اسٹريليا ميں رہائش پذير اور فاسٹ فوڈ ہوٹل ميں ملازم ہوں جہاں اكثر اشياء چكن سے تيار كردہ ہيں، ہفتہ ميں تين روز كام كرتا ہوں اور روزانہ مسلسل تين سے چار گھنٹے ڈيوٹى ہوتى ہے ( يعنى پانچ گھنٹوں كے كام ميں اسے آرام نہيں ملتا ) دن چھوٹا اور نماز كے اوقات ميں اختلاف كى بنا پر بعض اوقات ايسا ہوتا ہے كہ ميں نماز ادا نہيں كر سكتا، الا يہ كہ ڈيوٹى سے قبل يا بعد ميں عصر اور مغرب كى نماز جمع كر لوں، فى الحال تو ميرى كوئى نماز نہيں رہتى كيونكہ ڈيوٹى اور نماز كے اوقات ميں كوئى تعارض نہيں، ميرى گزارش ہے كہ ميرى اس پريشانى كا كوئى حل نكاليں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے، مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

اول:

سوال نمبر ( 21958 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے كہ كام كاج كى بنا پر نماز وقت سے تاخير كرنى جائز نہيں، اور پھر اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ ايسے لوگ جنہيں تجارت اور خريد و فروخت اللہ كے ذكر سے اور نماز قائم كرنے اور زكاۃ ادا كرنے سے غافل نہيں كرتى، وہ اس دن سے ڈرتے ہيں جس دن بہت سے دل اور آنكھيں الٹ پلٹ ہو جائينگى، اس ارادے سے كہ اللہ تعالى انہيں ان كے اعمال كا بہترين بدلہ عطا فرمائے، بلكہ اپنے فضل سے كچھ اور زيادہ عطا فرمائے، اللہ تعالى جسے چاہے بغير حساب كے روزياں عطا فرماتا ہے ﴾ النور ( 37 - 38 ).

چنانچہ آپ كو چاہيے كہ اپنے كام كاج كے اوقات ميں منظم كريں تا كہ وہ نماز كى ادائيگى كے معارض نہ ہو، اور اس سلسلے ميں اپنے آفس كے ساتھ اتفاق كريں اور اس كا مناسب حل تلاش كريں، چاہے اس ميں آپ كو مشكل اور مشقت بھى ہو مثلا ڈيوٹى كا وقت زيادہ كر ليں.

آپ كو علم ہونا چاہيے كہ اوقات ميں نماز كى ادائيگى كى حرص اور اس كى پابندى كے باعث جو كچھ آپ كے دل ميں ہے وہ ايمان كى زيادتى ہے، اس كى پابندى سے آپ كو اس ميں آنے والى مشقت كا نعم البدل اور عوض دے گى، بلكہ ان شاء اللہ يہ مشقت لذت ميں بدل جائيگى، كيونكہ آپ نے يہ مشقت اللہ تعالى كى راہ اور اس كى رضامندى كے حصول كے ليے اٹھائى ہے.

دوم:

سائل اس پر قابل ستائش ہے كہ جب اس كى نماز ضائع ہو جائے يا وہ اسے بے وقت ادا كرے تو اسے غم و حزن لاحق ہو جاتا ہے، مومن ہونا بھى اسى طرح چاہيے كہ اگر اس كا كوئى عمل صالحہ رہ جائے تو وہ اس پر غمزدہ ہو، ليكن واجب يہ ہے كہ يہ غم و حزن اس كے عمل كى تصيحيح كا باعث ہو اور اس ميں كمى و كوتاہى كے خاتمہ اور اجتناب كا سبب بنے، ليكن دل ميں صرف غم و حزن ہو اور نمازيں ضائع ہوتى رہيں اور اعمال برے ہوتے رہيں ايسا نہيں ہونا چاہيے.

سوم:

آپ كا يہ كہنا كہ: آپ ڈيوٹى شروع ہونے سے قبل يا بعد ميں نماز عصر اور مغرب جمع كرتے ہيں "

ميرے بھائى آپ كے علم ميں ہونا چاہيے كہ شريعت ميں جن نمازوں كو جمع كيا جا سكتا ہے وہ ظہر اور عصر، اور ومغرب و عشاء كى نمازيں ہيں، انہيں جمع كرنا تو شريعت سے ثاتب ہے، ليكن نماز عصر كو مغرب كے ساتھ جمع كرنا شريعت سے ثابت نہيں اور نہ ہى ايسا كرنا صحيح ہے، اور نہ ہى علماء كرام ميں سے كسى نے ايسا كرنے كا كہنا ہے.

لہذا غروب آفتاب كے بعد عصر اور مغرب كى جو نمازيں جمع كر كے ادا كى گئى ہيں، نماز عصر كو وقت سے تاخير كر كے ادا كرنے ميں اللہ تعالى سے توبہ كرنى ضرورى ہے، اور اس كے ساتھ آئندہ ايسا نہ كرنے كا عزم بھى كرنا ہو گا.

اور عصر اورمغرب كى جو نمازيں مغرب كى نماز كا وقت شروع ہونے سے قبل ( يعنى غروب آفتاب سے قبل ) جمع كى گئى ہيں ان كے متعلق آپ كو علم ہونا چاہيے كہ وقت سے قبل نماز ادا كرنا صحيح نہيں ہے، چنانچہ آپ كى مغرب كى نماز صحيح نہيں، اس بنا پر آپ وقت سے قبل ادا كردہ مغرب كى نمازيں شمار كريں، اور اس كى تعداد معلوم كرنے كى كوشش كريں، اور اپنے دين اور نفس ميں احتياط كريں، اور شك كے وقت آپ زيادہ تعداد كو لے كر ان نمازوں كى قضاء كريں، اور ايسا كرنے ميں بقدر استطاعت جتنى جلدى ہو كرليں.

چہارم:

آپ كو چاہيے كہ اس مشكل كو حل كرنے ميں سنجيدگى سے كام ليں، يہ معاملہ دس منٹ سے زيادہ وقت نہيں ليتا، يعنى آپ دس منٹ ميں نماز ادا كر سكتے ہيں، چنانچہ آپ كمپنى كے ساتھ طے كرليں كہ ان دس منٹوں كے بدلے ڈيوٹى سے قبل يا بعد آپ ڈيوٹى سرانجام دينگے، اور پھر اس كا تصور بھى نہيں كيا جا سكتا كہ آپ دس منٹ كى اجازت مانگيں اور اجازت نہ ملے، آپ بيت الخلاء جانا چاہيں تو وہ آپ كو منع نہيں كرينگے حالانكہ اس ميں دس منٹ يا اس سے بھى زيادہ وقت صرف ہو سكتا ہے.

اور پھر آپ كے ملك ميں ايسے قوانين بھى ہونگے جو اقليات كو اپنے دينى معاملات اور شعائر پر عمل كرنے كا حق ديتے ہونگے، اور كمپنيوں كے مالكوں پر اپنے ملازمين كے دين كا احترام لازم كرتے ہونگے، ايسے قوانين ہو سكتے ہيں جن كے ساتھ آپ اپنے حق كا مطالبہ كرسكيں.

اور اگر آپ كے ليے سب راستے تنگ ہوں اور كمپنى والوں كے ساتھ يہ مشكل حل نہ ہو سكے تو آپ كوئى اور كام تلاش كريں جو آپ كى نماز كے اوقات كے ساتھ تعارض نہ ركھے، اور اگر آپ ايسا كوئى كام نہ حاصل كر سكيں اور آپ كے ليے موجودہ ملازمت ترك كرنے ميں كوئى ضرر اور نقصان ہو تو اميد كى جاتى ہے كہ اس ضرورت كى بنا پر آپ كے ليے نمازيں جمع كرنا جائز ہونگى، اور ان شاء اللہ ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں.

چنانچہ آپ ظہر اور عصر يا تو جمع تقديم يا پھر جمع تاخير كر كے ادا كرليں، يا مغرب اور عشاء جمع تقديم يا تاخير كے ساتھ نمازيں ادا كريں، جس طرح آپ كے ليے آسانى ہو.

جمع تقديم يہ ہے كہ دونوں نمازيں اس طرح جمع كر كے ادا كى جائيں كہ ان ميں سے پہلى نماز اس كے وقت ميں ادا ہو.

اور جمع تاخير يہ ہے كہ دونوں نمازيں اس طرح جمع ہوں كہ دوسرى نماز اس كے وقت ميں ادا كى جائے.

اللہ تعالى سے ہمارى دعاء ہے كہ ہميں دين كى سمجھ اور اچھے قول و عمل كى توفيق نصب فرمائے، اور آپ كے معاملات ميں آسانى پيدا كرے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments