20791: گھر والے پردہ نہ كرنے ديں تو كيا ان كى بات مان لى جائے ؟


ميں مسلمان ہوں، ان شاء اللہ چند ماہ بعد ميرى شادى ہونے والى ہے، ميرے والدين كا تعلق پاكستان سے ہے، وہ چاہتے ہيں كہ ميں عام رواج كے مطابق لباس پہنوں جو كڑھائى والا اسكارف، اور لمبا اور كھلا تنورہ ( قميص كى شكل ميں ) زيب تن كروں، ميں اپنے ضمير كى ملامت محسوس كرتى ہوں، كيونكہ ميں وہى لباس زيب تن كرنا اور اسى طرح پردہ كرنا چاہتى ہوں جس طرح شريعت ايك مسلمان لڑكى كو حكم ديتى ہے.
ميں نے اپنى كچھ مسلمان بہنوں سے بات بھى كى ہے جو يہ كہتى ہيں كہ ايسا لباس اسلام ميں قابل قبول نہيں، اور اس طرح مجھے غير محرم رشتہ دار بھى ديكھيں گے، مجھے سمجھ نہيں آرہى كہ كيا كروہ، كيونكہ پورے خاندان ميں اكيلى ميں ہى پردہ كرتى ہوں، اور اگر ميں يہ لباس پہننے سے انكار كروں تو ميرے ليے بڑى مشكلات پيدا ہو سكتى ہيں، اور خاندان ميں ہنگامہ كھڑا ہو جائيگا، خاص كر اللہ كى اطاعت ميں اپنى برادرى سے باہر شادى كر رہى ہوں، اس ليے مجھے كيا كرنا چاہيے، اس ليے آپ سے نصيحت كى گزارش ہے ؟

الحمد للہ:

نصيحت كے حصول اور اس كى كوشش كرنے پر ہم آپ كے شكر گزار ہيں، اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كے معاملہ ميں آسانى پيدا فرمائے، اور آپ كى يہ مشكل ختم كر دے، اور كوئى راہ نكال دے.

عورت كو حكم ہے كہ وہ غير محرم اور اجنبى مردوں سے اپنى زينت كو چھپا كر ركھے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا حكم ہے:

﴿ اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ ﴾النور ( 31 ).

اس ليے عورت كے پردہ ميں شرط ركھى گئى ہے كہ وہ پردہ بذاتہ خود زينت نہ ہو؛ كيونكہ عورت كو تو زينت كے اظہار نہ كرنے كا حكم ديا گيا ہے، جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے.

اسى طرح عورت كے لباس ميں يہ شرط بھى ہے كہ لباس كھلا اور سارے بدن كے ليے ساتر ہو، اور وہ لباس موٹا ہو،باريك ا ور شفاف نہ ہو كہ جسم كے اعضاء كا حجم ظاہر نہ ہو.

آپ كو چاہيے كہ آپ اپنے گھر والوں كو نصيحت كريں، اور انہيں يہ بيان كريں كہ اللہ تعالى كى شريعت اور اس كے ا حكام پر عمل كرنے كى ضرورت ہے، اللہ نے يہى حكم ديا ہے، اور آپ اپنے خاوند كو بھى يہ بتائيں، كيونكہ قيامت كے روز اللہ كے سامنے وہ اس سلسلہ ميں جوابدہ ہے، اور آپ كى عصمت و غيرت كو محفوظ ركھنے پر مامور ہے.

آپ اللہ تعالى سے عاجزى و انكسارى كے ساتھ يہ دعا بھى كريں كہ اللہ تعالى آپ كى حفاظت فرمائے، اور آپ كے خاندان والوں كو خير و بھلائى كى ہدايت نصيب فرمائے، اور آپ جس پر ہيں اس پر ثابت قدم رہيں، چاہے يہ چيز ان كى ناراضگى و تنگى كا باعث بنے، كيونكہ اللہ خالق الملك كى نافرمانى ميں كسى بھى مخلوق كى اطاعت و فرمانبردارى نہيں كى سكتى.

اس ليے آپ كے ليے جائز نہيں كہ اللہ تعالى كے حرام كردہ كے ارتكاب ، يا اللہ كى جانب سے واجب كردہ كے ترك كرنے ميں اپنے والدين يا خاوند كى اطاعت كريں، نہ ہى سہاگ رات ميں اور نہ ہى اس كے بعد.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" معصيت و نافرمانى ميں كوئى اطاعت نہيں، بلكہ اطاعت تو نيكى ميں ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7257 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1840 ).

مزيد آپ درج ذيل سوالات كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں:

سوال نمبر ( 11967 ) اور ( 6408 ) اور ( 6991 ) اور ( 5393 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں، كيونكہ ان ميں پردہ كرنے كا طريقہ اور حكم بيان كيا گيا ہے، اس ليے آپ ان كا مطالعہ ضرور كريں، اور ان ميں سے جو چاہيں اپنے والد كو سنائيں، اور يہ جوابات اپنے والدين كے سامنے ركھيں، تا كہ وہ شرعى حكم پر مطمئ ہو سكيں.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں موت تك صراط مستقيم پر ثاب قدم ركھے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments