Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
20824

اسلام ميں سزائے موت كى سزا كے اسباب

ميں معلوم كرنا چاہتا ہوں كہ اسلام ميں بطور حد قتل ( سزائے موت ) كے اسباب اور شروط كيا ہيں ؟

الحمد للہ:

قتل ( سزائے موت ) اس شخص كو كيا جاتا ہے جس ميں درج ذيل اوصاف پائے جائيں:

1 - مرتد:

وہ شخص جو اسلام لانے كے بعد كافر ہو جائے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

جو شخص اپنا دين بدل لے اسے قتل كر دو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6524 ).

2 - شادى شدہ زانى:

اس كى سزا رجم ہے يعنى اسے موت تك پتھر مارنا.

محصن يعنى شادى شدہ وہ شخص ہے جس نے صحيح نكاح كے ساتھ اپنى بيوى سے جماع كيا ہو، اور وہ دونوں آزاد عاقل اور بالغ ہوں.

چنانچہ جب شادى شدہ مرد يا عورت زنا كرے تو ان دونوں كو موت تك رجم كيا جائيگا؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو، اللہ سبحانہ و تعالى نے ان عورتوں كے ليے راہ نكال دى ہے، كنوارہ كنوارى ( سے زنا كرے تو ) اسے سو كوڑے اور ايك برس تك جلاوطن كيا جائيگا، اور شادى شدہ شادى شدہ عورت ( كے ساتھ زنا كرے ) تو سو كوڑے اور رجم ہو گا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1690 ).

اور اس ليے كہ بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ اور زيد بن خالد جھنى رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے وہ دونوں بيان كرتے ہيں كہ:

" ايك اعرابى شخص رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور عرض كى: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں آپ كو اللہ كا واسطہ ديتا ہوں كہ آپ ميرا فيصلہ كتاب اللہ كے مطابق كريں.

تو دوسرا شخص كہنے لگا: ـ وہ پہلے شخص سے زيادہ تيز اور سمجھ دار تھا ـ جى ہاں آپ ہمارا فيصلہ كتاب اللہ كے ساتھ كريں، اور مجھے كچھ كہنے كى اجازت ديں.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: كہو كيا كہنا چاہتے ہو.

وہ شخص كہنے لگا:

ميرا بيٹا اس كا ملازم تھا ( يعنى اس شخص نے ميرا بيٹا مزدورى كے ليے ركھا ) تو اس نے اس كى بيوى سے زنا كر ليا.

اور مجھے بتايا گيا كہ ميرے بيٹے پر رجم كى سزا ہے تو ميں نے اسے بطور فديہ سو بكرياں اور ايك لونڈى دى.

جب ميں نے اہل علم سے دريافت كيا تو انہوں نے مجھے بتايا ميرے بيٹے كو سو كوڑے اور ايك برس جلاوطنى كى سزا ہے، اور اس عورت كو رجم كى سزا ہو گى.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے ميں تمہارے درميان اللہ كى كتاب سے فيصلہ كرونگا؛ لونڈى اور بكرياں واپس ہونگى، اور آپ كے بيٹے كو سو كوڑے اور ايك برس جلاوطنى كى سزا ہے.

اے انيس ( ايك صحابى كا نام ہے ) تم اس عورت كے پاس جاؤ اگر تو وہ اعتراف كرتى ہے تو اسے رجم كر دو.

راوى كہتے ہيں: تو وہ اس عورت كے پاس گئے اور اس نے اعتراف كر ليا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے رجم كرنے كا حكم ديا اور عورت كو رجم كر ديا گيا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2725 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1698 ).

العسيف: مزدور كو كہتے ہيں.

3 - قتل عمد:

عمدا قتل كرنے والے شخص كو قصاص ميں قتل كيا جائيگا، ليكن اگر مقتول كے ورثاء اور ولى اسے معاف كر ديں، يا پھر ديت لينے پر راضى ہو جائيں تو قاتل كو قصاص ميں قتل نہيں كيا جائيگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو! تم پر مقتولوں كا قصاص لينا فرض كيا گيا ہے، آزاد آزاد كے بدلے، اور غلام غلام كے بدلے، اور عورت عورت كے بدلے، ہاں جس كسى كو اس كے بھائى كى طرف سے كچھ معافى دے دى جائے اسے بھلائى كى اتباع كرنى چاہيے، اور آسانى كے ساتھ ديت ادا كرنى چاہيے، تمہارے رب كى طرف سے يہ تخفيف اور رحمت ہے، اس كے بعد جو كوئى بھى سركشى كرے اسے دردناك عذاب ہو گا } البقرۃ ( 178 ).

اور اس سے اگلى آيت ميں فرمان بارى تعالى كچھ اس طرح ہے:

{ عقلمندو! قصاص ميں تمہارے ليے زندگى ہے، اس باعث تم ( قتل ناحق سے ) ركو گے }البقرۃ ( 179 ).

اور اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص بھى گواہى دے كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود نہيں، اور ميں اللہ كا رسول ہوں اس مسلمان شخص كا خون بہانا حلال نہيں، ليكن تين اشياء كى بنا پر: يا تو وہ شادى شدہ زانى ہو، اور قتل كے بدلے قتل كرنا، اور دين كو ترك كرنے اور جماعت سے عليحدہ ہونے والے شخص كو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6484 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1676 ).

4 - ڈاكو اور لٹيرے اور اسےمحارب كہا جاتا ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ جو اللہ تعالى سے اور اس كے رسول سے لڑيں اور زمين ميں فساد كرتے پھريں ان كى سزا يہى ہے كہ وہ قتل كر ديے جائيں، يا سولى چڑھا ديئے جائيں، يا مخالف جانب سے ان كے ہاتھ پاؤں كاٹ ديئے جائيں، يا انہيں جلاوطن كر ديا جائے يہ تو ہوئى ان كى دنيوى ذلت اور خوارى، اور آخرت ميں ان كے ليے بڑا بھارى عذاب ہے }المآئدۃ ( 33 ).

5 - جاسوس:

وہ شخص جو مسلمانوں كى جاسوسى كر كے ان كے دشمنوں كو خبريں پہنچائے.

اس كى دليل صحيح بخارى اور صحيح مسلم كى درج ذيل حديث ہے:

حاطب بن ابى بلتعہ رضى اللہ تعالى عنہ نے مكہ كے مشركوں ميں كچھ كو خط لكھا جس ميں انہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے كچھ معاملات كى خبر دى، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اے حاطب يہ كيا ہے ؟

تو حاطب رضى اللہ تعالى عنہ نے جواب ميں عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ ميرے بارہ ميں جلدى نہ كريں، ميں ايسا شخص تھا جو قريش كے ساتھ آ كر ملا تھا، اور ان كے قبيلہ ميں شامل نہيں تھا، اور آپ كے ساتھ جو مہاجرين ہيں ان كے مكہ ميں رشتے ناطے ہيں، وہ ان كے اہل و عيال اور اموال كى حفاظت كرينگے، ميں نے چاہا كہ جب ميں نسب ميں قريشى نہيں، تو ميں ان پر كوئى ايسا احسان كروں جس كى بنا پر وہ ميرے رشتہ داروں كى حفاظت كريں.

اور ميں نے يہ كام كفر اور مرتد ہونے كى بنا پر نہيں كيا، اور نہ ہى اسلام لانے كے بعد كفر پر راضى ہونے كى بنا پر كيا ہے.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اس نے تمہارے ساتھ سچ بولا ہے.

عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مجھے حكم ديں كہ ميں اس منافق كى گردن اتار دوں.

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

يہ جنگ بدر ميں شريك ہوا ہے، اور تجھے كيا علم كہ اللہ تعالى نے اہل بدر پر جھانكا اور فرمايا: تم جو چاہو كرو ميں نے تمہيں بخش ديا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3007 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2494 ).

اس حديث سے وجہ استدلال يہ ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےعمر رضى اللہ تعالى عنہ كا حاطب رضى اللہ تعالى عنہ كو اس فعل كى بنا پر قتل كا مستحق ٹھرنے كا اقرار كيا، ليكن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عمر رضى اللہ تعالى عنہ كو بتايا كہ اس قتل ميں ايك چيز مانع ہے اور وہ يہ كہ حاطب رضى اللہ تعالى عنہ جنگ بدر ميں شريك تھے.

ابن قيم رحمہ اللہ حاطب بن ابى بلتعہ رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث كے متعلق كہتے ہيں:

" مسلمان جاسوس كو قتل نہ كرنے كى رائے ركھنے والوں نے اس حديث سے استدلال كيا ہے، مثلا امام شافعى اور ابو حنيفہ رحمہم اللہ، اور اس حديث سے اس جاسوس كو قتل كرنے كى رائے ركھنے والوں نے بھى استدلال كيا ہے مثلا امام مالك اور امام احمد كے ساتھيوں ميں سے ابن عقيل رحمہم اللہ وغيرہ.

ان كا كہنا ہے: كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك ايسى علت بيان كى جو قتل كرنے ميں مانع تھى اور وہ حاطب رضى اللہ تعالى عنہ كا جنگ بدر ميں شريك ہونا ہے، اور اگر اسلام قتل ميں مانع ہوتا تو پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس سے زيادہ مخصوص چيز كے ساتھ علت بيان نہ كرتے، اور وہ جنگ بدر ميں شريك ہونا ہے " اھـ كچھ كمى و بيشى كے ساتھ

ديكھيں: زاد المعاد ( 2 / 115 ).

اور ايك دوسرى جگہ ميں كہتے ہيں:

" اور صحيح يہ ہے كہ اس ـ جاسوس ـ كوقتل كرنا حكمران اور امام كى رائے پر منحصر ہے، اگر تو اس كے قتل ميں مسلمانوں كى مصلحت ہو تو اسے قتل كيا جائيگا، اور اگر اسے باقى ركھنے ميں زيادہ مصحلت ركھتا ہو تو اسے قتل نہيں كيا جائيگا " اھـ

ديكھيں: زاد المعاد ( 3 / 422 ).

اور اوپر جو بيان ہوا ہے اس ميں تارك نماز اور جادوگر اور زنديق بھى داخل ہوگا، كيونكہ يہ بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے فرمان:

" دين كو ترك كرنے اور جماعت سے عليحدہ ہونے والا "

كے تحت آتا ہے.

اور رہى اس سزا كو نافذ كرنے شروط تو يہ بہت زيادہ ہيں: اور ہر جرم كى مخصوص شروط ہيں، اس كى تفصيل فقھاء كى كتب ميں ديكھى جا سكتى ہيں.

اور مرتد اور شادى شدہ زانى كو قتل كرنے كى حكمت آپ سوال نمبر ( 20327 ) كے جواب ميں ديكھ سكتے ہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments