Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
20849

دوسری شادی کر لی اور دونوں مسلمان ہوگۓ اب پہلی بیوی کا کیا کرے ؟

ایک جدید مسلم دوست کا سوال :
ایک آدمی نے شادی کی جس سے اس کے دو بچے ہيں ، وہ کام کے سلسلے میں سعودیہ گیا اوراپنے بیوی بچوں کوملک میں ہی چھوڑ دیا ، سعودیہ میں ایک عورت سے تعارف کے بعد پہلی بیوی کے علم کے بغیر ہی دوسری شادی کرلی اوراس سے بھی ایک بچہ پیدا ہوا اورسعودیہ میں کام کرنے والے دونوں میاں بیوی نے اسلام قبول کرلیا ۔
اس لیے کہ وہ دونوں جدید مسلمان ہیں ان کوخدشہ ہے کہ ہم نے گناہ کا کام کیا ہے ، توکیا ممکن ہے کہ آپ ہمیں کوئ نصیحت کریں ؟
1 - مذکورہ تعلق کا کیا حکم ہے ؟
2 - آدمی کے ذمہ پہلی بیوی اوربچوں کے بارہ میں کیا واجبات ہیں ؟
3 - وہ کون سے گناہ کے مرتکب ہوۓ ہيں اوراس سے بچنے کے لیے انہيں کیا کرنا چاہیے تا کہ آئندء وقوع پذیر نہ ہو ؟
گزارش ہے کہ اس جیسے حالات کوختم کرنے کے لیے کو‏ئ نصیت فرمائيں

الحمد للہ :

اول :

ہم اللہ تعالی کی حمدو ثنا بیان کرتے ہیں جس نے آپ دونوں کواسلام کی ھدایت نصیب فرمائ اوراسے قبول کرنے کی توفیق نے نوازا ، اورہم اللہ تعالی سے دعا گوہیں کہ وہ آپ کودین اسلام پرموت تک ثابت قدم رکھے تا کہ آّّپ اللہ تعالی کی جنت اوراس کی رضا مندی حاصل کرسکیں ۔

ہم آپ کوخوشخبری دیتے ہیں کہ اسلام پہلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے ، توانسان نے جتنے بھی گناہ اورمعصیات کا ارتکاب کیا ہو توپھراللہ تعالی اسے اسلام کی ھدایت نصیب فرماۓ تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوجاتا ہے جس طرح اس کی ماں نے آج ہی جنا ہو ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ آپ ان کافروں سے کہہ دیجیۓ ! کہ اگر یہ لوگ باز آجائيں توان کے پہلے سارے گناہ معاف کردیۓ جائيں گے } الانفال ( 38 ) ۔

{ اگر یہ لوگ بازآجائيں } یعنی اپنے کفرسے رک جائيں اوراللہ وحدہ لاشریک کے دین اسلام کوقبول کرلیں ۔ تفسیر السعدی ۔

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( اسلام پہلے سب گناہوں کومٹا دیتا ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 121 ) یعنی معصیات سے پاک صاف کردیتا ہے ۔

کسی آدمی کا بھی اجنبی عورت سے تعلقات رکھنا جائزنہیں ، اوراگرشادی سے قبل اگران کے کچھ تعلقات تھے وہ معصیت اورگناہ تھے جو کہ ان کے ذمہ لکھے جاچکے ہیں ، اوراگریہ تعلقات قبول اسلام سے قبل تھے تواللہ سبحانہ وتعالی نے اسلام کی بناپر یہ گناہ معاف کردیے ہیں ۔

اوراگرقبول اسلام کے بعد اس کا ارتکاب کیاگیا ہے تواس سےتوبہ کی جاۓ ، اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے کہ جوبھی صدق دل سےاللہ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہوا توبہ کرتا ہے وہ اسے قبول فرماتا ہے ۔

اللہ تعالی کا اسی کے بارہ میں فرمان ہے :

{ اوروہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اورگناہوں سے درگزر کرتا ہے اورجوکچھ تم کررہے ہو سب جانتا ہے } الشوری ( 25 ) ۔

اوردوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :

{ اورہاں میں بلاشبہ ان کوبخش دینے والا ہوں جوتوبہ کریں ایمان لائيں اورنیک عمل کریں اورپھرراہ راست پربھی رہیں } طہ ( 82 ) ۔

توبہ اوراس کی شروط کے بارہ میں مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر( 13990 ) کا مراجعہ کریں ۔

سوم :

مرد کا دوسری عورت سے شادی کرنے میں گناہ اورمعصیت نہیں بلکہ اللہ تعالی نے مرد کے لیے چارعورتوں سے بیک وقت شادی کرنا مباح کیا ہے شرط یہ ہے کہ اگروہ ان چاروں میں عدل وانصاف قائم رکھ سکتا اوران کے حقوق ادا کرسکتا ہو تو اس کا جوازہے ۔

دوسری شادی کے بارہ میں پہلی بیوی کوبتانااوراس کے علم میں لانا واجب نہیں ہے ۔

چہارم :

پہلی بیوی اوربچوں کے متعلق اس پرواجب ہے کہ وہ ان پران کی ضروریات کے مطابق خرچہ کرے اوران کی ضروریات پوری کرے اورسب سے اہم یہ ہے کہ انہیں آگ سےبچانے اورھدایت کی کوشش کریں جس طرح کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ اے ایمان والو ! تم اپنے آپ اوراپنے گھروالوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اورپتھر ہيں ، جس پرسخت دل فرشتے مقرر ہیں جنہیں اللہ تعالی کی جانب سے جوبھی حکم ملتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جوحکم دیا جاۓ بجا لاتے ہیں } التحریم ( 6 ) ۔

اس کے ذمہ ہے کہ وہ ہرممکن وسیلہ سے اپنی پہلی بیوی کودعوت دے اورنصیحت کرے اوراسے اسلام قبول کرنے کی ترغیب دلاۓ ، اوراگروہ اسے قبول کرنے سے انکارکردے تواگربیوی کا تعلق اہل کتاب سے ہے ( یعنی وہ یھودیہ یا نصرانیہ ہے ) تواسے اس بات کی اجازت وہ اسے رکھے اوراس سے جدائ اختیارنہ کرے ، لیکن اگروہ بت پرست ہے تواس مسلمان کے لیے جائزنہیں کہ وہ بت پرست بیوی اپنے پاس رکھے بلکہ اسے چھوڑ دینا چاہۓ ۔

مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 9949 ) کا مراجہ کریں ۔

یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ اگرماں باپ میں کوئ ایک اسلام قبول کرے تواس کی اولاد ( اگروہ نابالغ ہوں ) کوماں یا باپ کے مسلمان ہونے کی بنا پرمسلمان کا حکم دیا جاۓ گا ، لیکن جوبالغ ہوچکے ہوں وہ ماں باپ کے حکم میں نہیں آتے ۔ دیکھیں المغنی لابن قدامۃ المقدسی ( 13 / 115 ) اوراحکام اھل الذمۃ لابن القیم ( 2 / 507 ) ۔

لھذا اس کے ذمہ ہے کہ وہ اپنی نابالغ اولاد کو یہ تعلیم دے کہ اللہ تعالی نے اس پراوران سب پربھی دین حق کی طرف ھدایت نصیب فرماکربہت بڑا انعام کیا ہے ، اوراس پرضروری ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پرعمل کرتےہوۓ اپنی اولاد کوچھوٹی عمرمیں ہی طہارت اورنماز وغیرہ کے احکام کی تعلیم دے تاکہ وہ اس کےعادی ہوجائيں ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( اپنی اولاد کوسات برس کی عمرمیں نماز پرھنے کا حکم دو ، اورجب وہ دس برس کے ہوجائيں توانہیں نماز نہ پڑھنے پرمارو ، اور ان کے بستر علیحدہ علیحدہ کرو) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 459 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 5868 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

مزید تفصیل کے سوال نمبر ( 10016 ) کا مراجعہ کریں ۔

یہاں پرکام کے لیے رہنا اورچھوٹے چھوٹے بچوں کوضائع ہونے اوردین سےانحراف کے لیے وہاں چھوڑنا کسی بھی طرح لائق نہیں ، اس پرضروری ہے کہ وہ انہیں وہاں سے اپنے پاس لاۓ تا کہ وہ اس کےپاس رہیں اوران کی تربیت ہو، تا اللہ تعالی نے اس سلسلہ میں اس جوواجبات مقرر کررکھے ہيں ان کی ادائیگي ہوسکے ۔

اوراگروہ انہیں یہاں نہیں لاسکتا توپھران سے ہمیشہ رابطہ رکھتے ہوۓ ان کی راہنمائ کرے ، اوراس کے لیے یہ کسی بھی طرح جائزنہیں کہ وہ انہيں ضائع ہونے کے لیے چھوڑ دے اس لیے کہ وہ قیامت کے دن ان کا جواب دہ ہے ۔

اورایسے ہی ہم اپنے جدید مسلمان بھائ کواس کی رغبت دلاتے ہیں کہ وہ دونوں احکام اسلام سیکھیں اوراس کے لیے اہل علم سے سوالات کریں اورانٹرنیٹ پرمفید ویپ سائٹس کودیکھتے رہیں ، اوراس کے ساتھ ساتھ وہ مطلوبہ احکام اسلامیہ کی اپنے اوپرتطبیق بھی کرتے رہیں ۔

ہم اللہ تعالی سے ان کے لیے توفیق اورثابت قدمی کی دعا کرتے ہيں اوران کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی انہیں اپنی رضا اورپسندیدہ کام کرنے کی توفیق نصیب کرے ، آمین یا رب العالمین ۔

واللہ اعلم

الاسلام سوال وجواب
Create Comments