209: فجر كى اذانيں كتنى ہيں ؟


نماز فجر كے ليے كتنى اذانيں ہيں ؟
اور اگر علاقے كے سارے لوگ مسجد ميں جمع ہوں تو كيا پھر بھى " الصلاۃ خير من النوم " كہنے كا كوئى فائد باقى رہتا ہے ؟
ميں نے سنا ہے كہ ايسا كرنا بدعت ہے، آخر ميں يہ كہ آيا اس كے متعلق كوئى حديث ہے، اس موضوع كے متعلق كچھ معلومات ارسال كريں ؟

الحمد للہ :

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں نماز فجر كے ليے دو اذانيں كہى جاتى تھيں، ايك اذان طلوع فجر سے قبل تا كہ قيام كرنے والا شخص واپس چلا جائے، اور سونے والا متنبہ ہو جائے، اور دوسرى اذان نماز فجر كا وقت شروع ہونے كے وقت تا كہ لوگوں نماز فجر كا وقت داخل ہونے كا علم ہو جائے، اور لوگوں كو نماز كے ليے دعوت، اس كے علاوہ اذان كے كئى ايك فوائد ہيں.

جمہور علماء كرام كے ہاں " الصلاۃ خير من النوم " دوسرى اذان ميں كہا جائيگا، چنانچہ مؤذن كو چاہيے كہ وہ اس كى حرص ركھے، اور يہ عبارت ضرور كہے، چاہے لوگ مسجد ميں ہى ہوں، كيونكہ اس كے ايسے فوائد ہيں جو خيال ميں نہيں آتے، اور پھر اس ميں اس حقيقت كى ياد دہانى بھى ہے كہ: نماز نيند سے بہتر ہے، " الصلاۃ خير من النوم " كہ اس دن اور اس كے بعد سے بھى بہتر ہے.

اور مسلمان اس عبارت سے اس طرح بھى فائدہ حاصل كرينگے، كہ وہ بھى اس عبارت كو دہرائينگے جس سے انہيں اجروثواب اور زيادہ حاصل ہو گا، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جب تم مؤذن كى اذان سنو تو تم بھى اس طرح كہو جس طرح مؤذن كہتا ہے "

يہ حديث صحيح ہے.

اور مسجد كے قريب عورتيں اور بچے بھى اس سے مستفيد ہونگے، بلكہ ہو سكتا ہے مسلمان جن بھى اور ہو سكتا ہے مسجد ميں سونے اوراونگھنے والا يا پھر بيٹھ كر سونے والا بھى مستفيد ہو، اس ليے يہ عبارت پابندى سے كہنى چاہيے اور اس سنت كو ترك نہيں كرنا چاہيے.

اللہ تعالى آپ اور ہميں سنت كى پيروى اور اس كى حرص ركھنے كى توفيق عطا فرمائے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments