20940: قیامت کے دن لوگوں کی اقسام


براۓ مہربانی مندرجہ ذيل آیات کی شرح فرمادیں
{ وکنتم ازواجا ثلاثا ، فاصحاب المیمنۃ مااصحاب المیمنۃ واصحاب المشئمۃ مااصحاب المشئمۃ } اورتم تین جماعتوں ہوجا‎ؤگے ، تو دائيں ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں دائيں ہاتھ والے ، اور بائيں ہاتھ والے کیا حال ہے بائيں ہاتھ والوں کا ۔ الواقعۃ ( 7 - 9 )

الحمد للہ
حافظ ابن کثير رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :

یعنی قیامت کے دن لوگ تین اقسام میں بٹ جائيں گے ۔

امام طبری رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے :

اوراسی طرح انہیں سورۃ کے آخر میں موت کے وقت ان ہی تین اقسام میں تقسیم کیا ہے ۔

پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان جماعتوں کے حالات کی تفصیل بیان کرتے ہوۓ کہا ہے : واصحاب المیمنۃ ، یہ ان کے مقام کی عظمت اور ان کے حالات کی بڑائ ہے ،

اور یہ فرمان : واصحاب المشئمۃ مااصحاب المشئمۃ } اور بائيں ہاتھ والے کیا حال ہے بائيں ہاتھ والوں کا ۔

یعنی شمال والے یہ ان کی حالت کی ہولناکی ہے ۔

اور { السابقون السابقون } اور سبقت لے جانے والے توسبقت لے جانے والے ہی ہیں ، یعنی دنیا میں خیروبھلائ کے کاموں میں سبقت لےجانے والے ہی آخرت ميں جنت میں داخل ہونے میں سبقت لے جانے والے ہیں اور وہ یہ ہیں جن کے اوصاف یہ ہیں ، المقربون ، وہ نعمتوں والی جنتوں ميں اللہ تعالی کے قریب اور اعلی علیین میں بلند درجات میں ہیں جن کے اوپراور کوئ درجہ نہیں پایا جاتا ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں بھی سبقت لے جانووالوں میں سے بناۓ آمین یا رب العالمین ۔

واللہ تعالی اعلم ۔ دیکھیں تفسیر ابن سعدی ص ( 832 ) ۔

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments