20962: بليرڈ كھيلنے كا حكم اور ہارنے والے كا كھيل كى اجرت ادا كرنا


بعض اوقات ہم غم و پريشانى سے تسلى حاصل كرنے كے ليے بليرڈ كھيلتے ہيں، اور بعض اوقات ہم كھيلتے ہيں كہ ہارنے والا شخص ٹيبل كى اجرت ادا كرے گا، تو كيا يہ جائز ہے ؟

الحمد للہ :

اول:

آج نوجوانوں كى حالت پر غور فكر كرنے والا شخص يہ پاتا ہے كہ نوجوانوں ميں سے اكثر تو نفع مند علم يا پاكيزہ اور حلال رزق كى تلاش اور جدوجھد كرنے سے دور ہٹ چكے ہيں، اور وہ اپنے اوقات كو تباہ و برباد اور قتل كر رہے ہيں، اور بغير كسى فائدہ كے ضائع كيے جارہے ہيں، جس كى بنا پر انہيں نفسياتى مشكلات اور جسمانى بيماريوں كا سامنا كرنا پڑتا ہے.

سلف صالحين ميں سے ايك شخص كچھ كھيل كود كرنے والے لوگوں كے پاس سے گزرے اور كہا: كاش كہ وقت مال كے ساتھ فروخت ہو رہا ہوتا تو ميں ان لوگوں كے اوقات خريد ليتا!

جى ہاں يہ بہت عظيم اور جليل القدر لوگ تھے انہيں مطالعہ اور ريسرچ اور جدو جھد اور كوشش كے ليے پورا دن كافى نہيں ہوتا تھا، اور انہوں نے اپنے كھانے اور نيند ميں كمى كر لى تھى تا كہ ان كے اوقات ضائع نہ ہوں.

پھر ہم نوجوانوں كو ديكھتے ہيں جس سے بہت دكھ اور پريشانى ہوتى ہے كہ وہ اپنى عمر كے بہترين سال كھيل كود اور لہو لعب ميں صرف كرديتے ہيں، ہم اپنے نوجوان بھائيوں سے يہ نہيں چاہتے كہ وہ اللہ تعالى كى جانب سے حلال اور مباح كردہ كھيل كود كو حرام كر ليں، ليكن ہم تو ان سے يہ چاہتے ہيں كہ وہ صرف اسى كھيل كود ميں نہ لگيں رہيں، اور دن اور رات ميں يہى چيز ان كى زندگى نہ بن جائے، بلكہ انہيں ايسے كھيل تلاش كرنے چاہييں جو ان كى عقلوں اور جسموں كے ليے مفيد ہوں اور ان كى مہارت ميں اضافہ كا باعث ہوں.

دوم:

كلبوں ميں بليرڈ كھيلنا جائز نہيں، اس كھيل كى ذاتى حرمت كى بنا پر نہيں، بلكہ اس ليے كہ ان كلبوں ميں برائياں بہت زيادہ كثرت سے پائى جاتى ہيں، وہاں گالى گلوچ اور نمازيں ترك كرنا، اور جوا بھى ہوتا ہے، اور ان كلبوں ميں جا كر كھيلنا بغير كسى ضرورت كے صرف اس جگہ موجود رہنے كے ليے برائى پر خاموشى اختيار كر لينا.

اور يہ كھيل ايسى جگہ پر كھيلنا جہاں برائياں نہ ہوں تو اس كھيل ميں كوئى حرج نہيں ليكن اس كھيل كى كچھ شروط ہيں:

1 - شرط سے خالى ہو.

2 - اس ميں گالى گلوچ اور سب و شتم اور حقارت و كينہ و بغض اور كراہت نہ ہو.

3 - يہ واجبات كى ضياع كا باعث نہ ہو، مثلا نمازيں، طلب علم، اور اہل و عيال كى تربيت اور ادب سكھانے اور ان كا خيال ركھنے ميں مخل نہ ہوتا ہو.

يہ بيان كيا جا چكا ہے كہ عام فقھاء كرام نے شطرنج كھلنا حرام قرار ديا ہے، ان ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى شامل ہيں، اور جس نے اس كى اجازت دى ہے اس نے بھى ان اور ان جيسى دوسرى شرائط كے ساتھ اجازت دى ہے.

نوجوانوں كى كھيل ميں غور و خوض كرنے سے ہميں يہ ملتا ہے كہ يہ شرطيں وہاں ناپيد اور معدوم ہيں.

شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى شطرنج كے متعلق كہتے ہيں:

اور انكى كلام بليرڈ وغيرہ پر بھى منطبق ہوتى ہے جو آج كل نوجوان كھيل رہے ہيں:

مقصد يہ كہ جب بھى شطرنج ظاہرى يا باطنى واجب سے مشغول كر دے تو وہ علماء كرام كے متفقہ فيصلہ كے مطابق حرام ہے، اور واجبات پورا كرنے كى بجائے اس ميں مشغول رہنا زيادہ واضح ہے كہ اس كى شرح و بسط كى جائے، اور اسى طرح اگر نماز كے علاوہ كسى اور واجب سے مشغول كردے ( يعنى روك دے ) جان كى مصلحت، يا اہل و عيال كى مصلحت، يا امر بالمعروف اور نہى عن المنكر، يا پھر صلہ رحمى، يا والدين سے حسن سلوك، يا جس كا كرنا واجب ہے مثلا ولايت يا امامت يا اس كے علاوہ دوسرے امور سے روك دے.

اور بہت ہى كم بندے ہيں جو اس ميں پڑے ہوں اور واجب سے نہ ركے ہوں، لہذا اس طرح كى صورت ميں بالاتفاق حرمت كا جاننا ضرورى اور لازمى ہے، اور اسى طرح جب كسى حرام كام پر مشتمل ہو يا كسى حرام كام كو لازم كردے، تو بالاتفاق حرام ہے، مثلا: اس كا جھوٹ و كذب بيانى اور فاجر و قسم كى قسموں يا خيانت جسے غفلت كا نام ديتے ہيں، يا ظلم كرنے يا پھر ظلم پر اعانت كرنے پر مشتمل ہو، تو يہ مسلمانوں كے ہاں بالاتفاق حرام ہے، اگر يہ مقابلہ اور نيزہ بازى ميں بھى ہو، تو پھر اگر يہ شطرنج يا نرد شير وغيرہ ميں ہو تو كيسے؟

اور اسى طرح جب فرض كيا جائے كہ يہ اس كے علاوہ كسى اور فساد كو لازم كرتى ہے، مثلا فحاشى كى شروعات كے اجتماع پر، يا ظلم و زيادتى ميں تعاون وغيرہ پر، يا اس سے كھيلنا ايسى اشياء كى كثرت اور ظہور كى طرف لے جائے جو اس كے ساتھ ترك واجب يا حرام فعل پر مشتمل ہو، تو يہ اور اس طرح كى دوسرى صورتيں ايسى ہيں جن كى حرمت پر مسلمانوں كا اتفاق ہے.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 218 ).

دوم:

اور يہ كہ ہارنے والا اس گيم كى اجرت ادا كرے، تواس كے بارہ ميں گزارش ہے كہ يہ جوا اور قمار بازى ہے، اور يہ مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى كى وجہ سے حرام ہے:

{اے ايمان والو بات يہى ہے كہ شراب ، اور درگاہيں، اور فال نكالنے كے پانسے كے تير، گندى باتيں اور شيطانى عمل ہيں، اس سے الگ تھلگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ شراب اور جوے كے متعلق تمہارے درميان عداوت و دشمنى بغض ڈال دے، اور تمہيں اللہ تعالى كے ذكر اور نماز سے روك دے، كيا تم ركنے والے ہو} المائدۃ ( 90 - 91 ).

اس ليے كہ - اگر يہ كھيل حرام كام سے خالى ہو تو پھر - اصل يہ ہے كہ اس كھيل كى اجرت سب كھلاڑيوں كے ذمہ ہے، تو اس طرح كھيلنے والا اس ميں داخل ہو گا كہ ہار جائے تو اپنى اور دوسرے كھلاڑيوں كى اجرت بھى ادا كرے گا، اور يا پھر جيت جائے تو اجرت ميں سے اس كا حصہ ساقط ہو جائے گا اور وہ اجرت ادا نہيں كرے گا، اسے مقابلہ كہا جاتا ہے، اور يہ مقابلہ ميں كچھ رقم بطور شرط ركھى جاتى ہے، اور شريعت ميں يہ جائز نہيں، صرف وہ جائز ہے جس كى نص وارد ہے اور جس سے جہاد ميں معاونت حاصل كى جاتى ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مقابلہ ميں مال حاصل كرنا صرف تير اندازى يا اونٹ يا گھوڑے ميں ہے، اس كے علاوہ كسى ميں نہيں"

جامع ترمذى حديث نمبر ( 1700 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يعنى تير اندازى يا گھوڑ سوارى كى دوڑ ميں يا اونٹ ميں، اور علماء كرام نے جھاد ميں مدد و معاون اشياء كا بھى اس پر قياس كيا ہے، اور بعض علماء كرام نے شرعى علم ميں ہونے والے مقابلے بھى اس كے ساتھ ملحق كيے ہيں، كيونكہ اس سے شريعت كى مدد و نصرت ہوتى ہے، جيسے كہ جھاد، اور تلوار كے ساتھ ہوتى ہے.

مستقل كميٹى سے " بيبى ووٹ " كھيل اور ہارنے والے شخص كا اس كھيل كى قيمت ادا كرنے كے حكم كے متعلق سوال كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

جب اس كھيل كى حالت وہى ہو جو بيان كى گئى ہے كہ اس ميں كھيلنے والى ميز پر مجسمے ہوں، اور ہارنے والے شخس كا كھلونا استعمال كرنے كى بنا پر كھيل كى اجرت ادا كرنا كئى ايك امور كى بنا پر حرام ہے:

اول:

اس كھيل ميں مشغول ہونا اس لہو لعب ميں شمار ہوتا ہے جس سے كھلينے والے كى فراغت ميں خلل پڑتا ہے، اور اس كى اكثر دينى و دنياوى مصلحتيں ضائع ہو كر رہ جاتى ہيں، اور كھيلنے والا اس كا عادى ہو جاتا ہے، اور اس سے بھى بڑھ كہ يہ جوا كھيلنے كا ذريعہ بنتا ہے، جو كھيل بھى اس طرح كا ہو وہ شرعا باطل اور حرام ہے.

دوم:

احاديث صحيحہ جن ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور اللہ تعالى نے مصور كى شديد قسم كى وعيد سنائى اور عذاب دينے كا ذكر كيا ہے مجسمے اور تصاوير بنانا اور تيار كرنا اور اس پر راضى ہونا كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتا ہے، اور ايسا كرنے والے كو آگ اور المناك قسم كا عذاب ديا جائے گا.

سوم:

ہارنے والے كے ليے كھيل كى اجرت كى ادائيگى كرنا حرام ہے؛ اس ليے كہ يہ اسراف و فضول خرچى اور لہو ولعب ميں مال ضائع كرنے ميں شام ہوتا ہے، اور يہ كھيلنے كى اجرت كا معاہدہ باطل ہے، اور كھلاڑى سے كمائى كرنا حرام اور باطل طريقہ سے مال كھانا ہے، تو اس طرح يہ كبيرہ گناہ اور اور جوا و قمار بازى ہے جو شريعت اسلاميہ ميں حرام ہے.

ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 4 / 439 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments