21091: اگر مسافر چار يوم سے زيادہ رہنے كى نيت كرے تو نماز پورى ادا كرے گا


ميں جزائر كا باشندہ ہوں اور تقريبان تين برس سے برطانيا آيا ہوا ہوں ميں نے جب سے ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كا فتوى سنا ہے كہ قصر كے ليے كوئى حد زمنى نہيں، نماز قصر كر ہا ہوں.
ميں اپنے آپ كو حالت انتظار ميں شمار كرتا ہوں كہ كب ميرے ملك ميں امن ہو اور ميں واپس جاؤں، آپ سے گزارش ہے كہ ايسا صريح فتوى ديں جو ميرى حالت پر منطبق ہوتا ہو، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا فتوى يہ ہے كہ جب سفر كا وصف باقى رہے مسافر كو قصر اور جمع كرنے كى رخصت ہے، كيونكہ نصوص مطلق ہيں، اور ان سے قبل شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كا بھى يہى قول ہے.

ليكن جمہور علماء كرام كہتے ہيں كہ جب تك مسافر چار يوم يا زيادہ رہنے كى نيت نہيں كرتا اسے سفر كى رخصت پر عمل كرنے كى اجازت ہے، اور فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى بھى يہى فتوى ديتے تھے.

الشيخ عبد الكريم الخضير
Create Comments