Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
21241

وضوء ميں بسم اللہ پڑھنے كا حكم

وضوء ميں بسم اللہ پڑھنے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

وضوء ميں بسم اللہ پڑھنے كے حكم ميں علماء كا اختلاف ہے:

امام احمد كے ہاں بسم اللہ واجب ہے، ان كى دليل درج ذيل حديث ہے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص بسم اللہ نہيں پڑھتا اس كا وضوء ہى نہيں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 25 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے حسن قرار ديا ہے، المغنى ابن قدامہ ( 1 / 145 ) بھى ديكھيں.

اور جمہور علماء كرام جن ميں امام ابو حنيفہ، امام مالك، اور امام شافعى رحمہم اللہ اور امام احمد كى ايك روايت شامل ہےكہ بسم اللہ وضوء كى سنن ميں شامل ہے واجب نہيں.

انہوں نے عدم وجوب پر درج ذيل دلائل سے استدلال كيا ہے:

1 - نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك شخص كو وضوء كرنے كى تعليم ديتے ہوئے فرمايا:

تم وضوء اس طرح كرو جس طرح تجھے اللہ تعالى نے حكم ديا ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 302 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 247 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور يہ درج ذيل فرمان بارى تعالى كى طرف اشارہ ہے:

﴿ اے ايمان والو جب تم نماز كے ليے كھڑے ہوؤ تو اپنے چہرے اور كہنيوں تك ہاتھ دھو ليا كرو، اور اپنے سروں كا مسح كرو، اور دونوں پاؤں ٹخنوں تك دھويا كرو، اور اگر تم جنابت كى حالت ميں ہو تو پھر طہارت كرو اور اگر تم مريض ہو يا سفر ميں يا تم ميں سے كوئى ايك پاخانہ كرے يا پھر بيوى سے جماع كرے اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاكيزہ مٹى سے تيمم كرو اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح كرلو، اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا، ليكن تمہيں پاك كرنا چاہتا ہے، اور تم پر اپنى نعمتيں مكمل كرنى چاہتا ہے، تا كہ تم شكر كرو ﴾المآئدۃ ( 6 ).

اور اس ميں بسم اللہ پڑھنے كا حكم نہيں ہے.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 1 / 346 ).

اس حديث كو ابو داود نے ان الفاظ سے بھى مكمل الفاظ ميں روايت كيا ہے، اور اس ميں عدم وجوب كى واضح دليل ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم ميں سے كسى كى بھى اس وقت تك نماز مكمل نہيں ہوتى جب تك وہ اچھى طرح وضوء نہ كر لے، جيسا كہ اسے اللہ تعالى نے حكم ديا ہے، چنانچہ وہ اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ كہنيوں تك دھوئے، اور سر كا مسح كرے، اور دونوں پاؤں ٹخنوں تك دھوئے... " الحديث

سنن ابوداود حديث نمبر ( 856 ).

يہاں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بسم اللہ كا ذكر نہيں كيا، جو اس كى دليل ہے كہ بسم اللہ پڑھنا واجب نہيں.

ديكھيں: السنن الكبرى للبيھقى (1 / 44 ).

2 - بہت سے صحابہ جنہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے وضوء كا طريقہ بيان كيا ہے انہوں نے بسم اللہ كا ذكر نہيں، اگر واجب ہوتى تو اسے لازمى بيان كيا جاتا.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 130 ).

بہت سے حنابلہ نے جن ميں خرقى اور ابن قدامہ شامل ہيں يہى قول اختيار كيا ہے.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 145 ) الانصاف ( 128 ).

اور معاصر علماء ميں سے محمد بن ابراہيم اور محمد بن عثيمين رحمہم اللہ نے اختيار كيا ہے.

ديكھيں: فتاوى الشيخ محمد بن ابراہيم ( 2 / 39 ) الشرح الممتع ( 1 / 130 ، 300 ).

بسم اللہ كو واجب قرار دينے والوں نے جس حديث سے استدلال كيا ہے انہوں نے اس كا جواب دو طرح ديا ہے:

پہلا:

يہ حديث ضعيف ہے.

علماء كى ايك جماعت جن ميں امام احمد، بيھقى، نووى اور بزار شامل ہيں نے اس حديث كو ضعيف قرار ديا ہے.

امام احمد رحمہ اللہ سے وضوء ميں بسم اللہ كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

اس سلسلے ميں كوئى حديث ثابت نہيں، اور نہ ہى مجھے اس مسئلہ ميں كسى ايسى حديث كا علم ہے جس كى سند جيد ہو. اھـ

المغنى ابن قدامہ ( 1 / 145 ).

ديكھيں: السنن الكبرى للبيھقى ( 1 / 43 ) المجموع للنووى ( 1 / 343 ) تلخيص الحبير ( 1 / 72 ).

دوسرا جواب:

اگر حديث صحيح بھى ہو تو اس كا معنى يہ ہے كہ: اس كا وضوء مكمل نہيں، اس كا معنى يہ نہيں كہ اس كا وضوء بسم اللہ كے بغير صحيح نہيں ہے.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 1 / 347 ) اور المغنى ابن قدامہ ( 1 / 146 ).

اس بنا پر ـ اگر ـ حديث صحيح ہو تو يہ بسم اللہ كى استحباب پر دلالت كرتى ہے نہ كہ وجوب پر. واللہ اعلم.

اس ليے اگر كوئى شخص بسم اللہ پڑھے بغير وضوء كرے تواس كا وضوء صحيح ہے، ليكن اسے اس سنت پر عمل كرنے كا ثواب حاصل نہيں ہوا، ليكن احتياط اسى ميں ہے كہ انسان وضوء سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ترك نہ كرے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments