Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
21271

اللہ تعالی کےمندرجہ ذیل فرمان میں وصیت مقدم کیوں مقدم ہے { من بعد وصيّة يوصى بها أو دَيْن }

قرآن مجید میں لفظ وصیت لفظ دین سے مقدم کیوں کیا گيا ہے ، حالانکہ ہمیں علم تویہ ہے کہ قرض کی ادائيگی وصیت سے قبل کی جاتی ہے ؟

الحمد للہ
امام قرطبی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

اگر یہ کہا جاۓ کہ قرض سے پہلے وصیت ذکرکرنے میں کیا حکمت ہے ، حالانکہ قرض کی ادائيگي بالاجماع مقدم ہے ، یعنی میت کے ترکہ سے قرض کی ادائيگی اس کی وصیت پوری کرنے سے قبل کی جاۓ گی ۔۔۔

اس سوال کا جواب پانچ وجہوں سے ہے :

پہلی :

یہاں پر صرف میراث پر مقدم ہيں اوران دونوں کی اپنی ترتیب کا کوئ لحاظ نہيں اسی لیے وصیت لفظی طورپر دین سے مقدم ہے ۔

دوسرا جواب :

اس لیے کہ وصیت کا التزام بہت ہی کم تھا اس کی اہمیت کی بنا پر اسے مقدم کیا گیا ہے ، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ لا يغادر صغيرة ولا كبيرة } الکہف ( 49 )

تواس آیت میں صغیرہ کوکبیرہ پر مقدم کیا گيا ہے ۔

تیسرا جواب :

وصیت کواس لیے مقدم کیا گيا ہے کہ یہ مسکینوں اورکمزور لوگوں کا حق ہے اورقرض کو اس لیے مؤخر کیا ہے کہ وہ قرض لینے والے کا حق ہے جو اسے قوت وطاقت سے طلب کرسکتاہے اوراسے اس میں بات کرنے کا حق بھی ہے ۔

دیکھیں : الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ( 5 / 74 ) ۔

بعض علماء کرام نے اس میں دووجوہات کا اوربھی اضافہ کیا ہے :

وصیت کودین سے اس لیے پہلے ذکر کیا گيا ہے کہ وصیت توصرف نیکی اورصلہ رحمی کی بنا پر کی جاتی ہے بخلاف دین کے کیونکہ اس میں غالبا تفریط کی نوع ہوتی ہے ،تووصیت کے افضل ہونے کی وجہ سے اسے مقدم کیا گيا ۔

یہ بھی کہا گيا ہےکہ : وصیت اس لیے مقدم کی گئ ہے کہ یہ ایسی چيز ہے جو بغیر کسی عوض کے لی جاتی ہے اوردین وقرض عوض کی بنا پر ہے تووصیت کا اخراج قرض کی ادائيگی سے بھی وارث کے لیے مشکل ہے ۔

اوروصیت کا ادا کرنا تفریط کے گمان میں آتا ہے لیکن قرض کی ادائيگی میں وارث مطمئن ہوتا ہے اس لیے وصیت کومقدم کیا گیا ہے ۔

دیکھیں کتاب : التحقیقات المرضیۃ فی المباحث الفرضیۃ ص ( 27 ) تالیف : شیخ صالح الفوزان ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments