Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
21290

نئے ھجری سال کی مبارکباد دینے کاحکم

کیانئے ھجری سال پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے برکت کی دعا دینایا ہرسال تم خيریت سے رہو کہنا یا کوئي خط وغیرہ ارسال کرنا جس میں اسے نئے سال کی خير وبرکت کی دعا لکھنا جائز ہے ؟

الحمد للہ
شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے پوچھاگیا کہ نئے سال کی مبارکباد دینے کا حکم کیا ہے اورمبارکباد دینے والے کوکیا جواب دینا چاہیے ؟

توشيخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

اس مسئلہ میں صحیح یہی ہے کہ : اگرکوئي شخص آپ کومبارکباد دیتا ہے تواسے جوابا مبارکباد دو لیکن اسے نئے سال کی مبارکباد دینے میں خود پہل نہ کرو ، مثلا اگر کوئي شخص آپ کویہ کہتا ہے کہ :

ہم آپ کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہیں ، توآپ اسے جواب میں یہ کہیں : اللہ تعالی آپ کو خیروبھلائي دے اوراسے خيروبرکت کا سال بنائے ، لیکن آپ لوگوں کونئے سال کی مبارکباد دینے میں پہل نہ کریں ، اس لیے کہ میرے علم میں نہیں کہ سلف رحمہم اللہ تعالی میں سے کسی ایک سے یہ ثابت ہو کہ وہ نئے سال پر کسی کومبارکباد دیتے ہوں ۔

بلکہ یہ بات بھی آپ کے علم میں ہونا ضروری ہے کہ سلف رحمہ اللہ تعالی نے تومحرم کے مہینہ کو نئے سال کی ابتداء نہیں بنایا بلکہ یہ تو عمررضی اللہ تعالی عنہ کے دورخلافت میں شروع ہوا ۔ انتھی ۔

مصدر : یہ جواب موسوعہ اللقاء الشھری والباب المفتوح سوال نمبر ( 853 ) اصدار اول ناشر مکتب الدعوۃ الارشاد عنیزہ القصیم سے لیا گیا ۔

اورشیخ عبدالکریم الخضير نے ھجری سال کے شروع ہونے کی مبارکباد دینے کے بارہ میں کہا ہے :

کسی مسلمان کوتہوار روں مثلا عید وغیرہ پردعاکےالفاظ کوعبادت نہ بتاتے ہوئے مطلقا دعا دینے میں کوئي حرج والی بات نہيں ، اورخاص کرایسا کرنے میں جب محبت ومودت اور خوشی وسرور مسلمان کے سے خوشدلی سے پیش آنا مقصود ہو ۔

امام احمد رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں :

میں مبارکباد دینے میں ابتداء نہيں کرونگا ، لیکن اگر مجھے کوئي مبارکباد دے تو میں اسے جواب ضرور دونگا ، اس لیے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے ، لیکن مبارکباد دینے کی ابتداء کرنا سنت نہيں نہ جس کا حکم دیا گيا ہو اورنہ ہی اس سے روکا ہی گيا ہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments