Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
21376

اذان كا طريقہ

نماز باجماعت سے قبل تكبير ( اس سے اذان مقصود ہے ) كيسے كہے، كونسے كلمات كہنا ہونگے؟
كيا ہر كلمہ ايك بار كہنا ہى كافى ہے، ميرے ليے يہ معاملہ خلط ملط ہو گيا ہے ؟

الحمد للہ :

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اذان ميں ايك سے زيادہ طريقہ ثابت ہے، ان سب طريقوں پر عمل كرنا مسنون ہے، تا كہ سنت كو زندہ كيا جا سكے اور نزاع و اختلاف پيدا نہ ہو، كيونكہ اگر ايك ہى طريقہ سے اذن كہى جائيگى تو كم علمى يا پھر مذہبى تعصب كى بنا پر اختلاف پيدا ہو گا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

سنت نبويہ ميں جو بھى اذان كا طريقہ وارد ہے وہ جائز ہے، بلكہ اگر تشويش اور قتنہ پيدا نہ ہو تو كبھى اس طريقہ پر اور كبھى دوسرے طريقہ كے مطابق اذان ہونى چاہيے.

چنانچہ امام مالك رحمہ اللہ تعالى كے نزديك اذان كے سترہ جملے ہيں، دو بار شروع ميں اللہ اكبر، اور ترجيع ـ يعنى شھادتين اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشھد ان محمد رسول اللہ كو دو بار كہے، ايك بار پست آواز سے اور دوسرى بار بلند آواز سےـ.

اور امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كے نزديك انيس جملے ہيں ابتدا ميں چار بار اللہ اكبر اور ترجيع يعنى شھادت ڈبل كہے.

يہ سب طريقہ سنت نبويہ صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہيں، چنانچہ اگر آپ اس طرح اذان ديں تو يہ بھى بہتر ہے، اور كبھى دوسرے طريقہ سے اذان ديں تو بھى بہتر ہے.

اور قاعدہ و اصول يہ ہے كہ: جو عبادات كئى ايك طرح سے ثابت ہوں يعن ان ميں تنوع ہو تو انسان كو ان سب طريقہ پر عمل كرنا چاہيے"

ديكھيں: الشرح الممتع ( 2 / 51 - 52 ).

امام احمد اور امام ابو حنيفہ رحمہما اللہ تعالى كا مسلك يہ ہے كہ اذان ميں پندرہ جملے ہيں، جو كہ بلال رضى اللہ تعالى عنہ كى اذان ہے.

امام مالك اور امام شافعى رحمہما اللہ تعالى كى دليل:

ابو محذورہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں يہ اذان سكھائى:

" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

َأشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

دوبارہ بلند اور لمبى آواز كے ساتھ پھر يہ كلمات كہو:

َأشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ( نماز كى طرف آؤ ) دو بار

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ ) دو بار

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں )

صحيح مسلم حديث نمبر ( 379 ).

يہ حديث امام مالك اور امام شافعى رحمہما اللہ تعالى كى دليل ہے، كيونكہ اس ميں شروع ميں تكبير دو طرح سے وارد ہے، امام مالك كے مسلك كے مطابق دو بار، اور امام شافعى كے مسلك كے مطابق چار بار.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

صحيح مسلم ميں حديث اسى طرح ہے، اكثر اصل نسخوں ميں شروع ميں تكبير دو بار ہى ہے، اور مسلم كے علاوہ دوسرى كتب حديث ميں چار بار اللہ اكبر وارد ہے.

قاضى عياض رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: صحيح مسلم كے بعض فارسى طرق ميں اللہ اكبر چار بار وارد ہے...

اور امام شافعى اور ابو حنيفہ، اور امام احمد اور جمہور علماء كرام نے چار بار ہى اللہ اكبركہنا قرار ديا ہے، ليكن امام مالك رحمہ اللہ تعالى اس حديث سے استدلال كرتے ہوئے اللہ اكبر دو بار كہنا قرار ديتے ہيں. اھـ

امام ابو حنيفہ اور امام احمد رحمہما اللہ كى دليل:

عبد اللہ بن زيد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ: جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كو نماز كے وقت جمع كرنے كے ليے ناقوس بنانے كا حكم ديا تو ميرے پاس خواب ميں ايك شخص آيا جس كے ہاتھ ميں ناقوس تھا ميں نے كہا: اے اللہ كے بندے كيا تم يہ ناقوس فروخت كروگے ؟

تو اس نے جواب ديا: تم اسے خريد كر كيا كرو گے ؟ ميں نے جواب ديا: ہم اس كے ساتھ نماز كے ليے بلايا كرينگے، تو وہ كہنے لگا: كيا ميں اس سے بھى بہتر چيز تمہيں نہ بتاؤں ؟

تو ميں نے اس سے كہا: كيوں نہيں، وہ كہنے لگا:

تم يہ كہا كرو:

" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

َأشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ( نماز كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ( نماز كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں )

راوى بيان كرتے ہيں: پھر وہ كچھ ہى دور گيا اور كہنے لگا:

اور جب تم نماز كى اقامت كہو تو يہ كلمات كہنا:

" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

َأشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ( نماز كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )

قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ ( يقينا نماز كھڑى ہو گئى )

قَدْ قَامَتْ الصَّلاةُ ( يقينا نماز كھڑى ہو گئى )

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں ).

عبد اللہ رضى اللہ تعالى بيان كرتے ہيں چنانچہ جب صبح ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس گيا تو اپنى خواب بيان كى، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ان شاء اللہ يہ خواب حق ہے، تم بلال رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ كھڑے ہو كر اسے اپنى خواب بيان كرو، اور وہ اذان كہے، كيونكہ اس كى آواز تم سے زيادہ بلند ہے.

چنانچہ ميں بلال رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ كھڑا ہوا اور انہيں كلمات بتاتا رہا اور وہ ان كلمات كے ساتھ اذان دينے لگے، جب عمر رضى اللہ تعالى نے يہ اپنے گھر ميں سنے تو وہ اپنى چادر كھينچتے ہوئے چلے آئے اور كہنے لگے:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اس ذات كى قسم جس نے آپ كو حق دے كر مبعوث كيا ہے، ميں نے بھى اسى طرح كى خواب ديكھى ہے چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: الحمد للہ "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 499 ) ابن خزيمہ نے صحيح ابن خزيمہ ( 1 / 191 ) ميں اور ابن حبان نے صحيح ابن حبان ( 4 / 572 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے، اور امام ترمذى نے اس كى تصحيح امام بخارى رحمہ اللہ تعالى سے نقل كى ہے، جيسا كہ سنن بيھقى ( 1 / 390 ) ميں ہے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( اور اگر ايسے ہى ہے تو اہل حديث اور ان كى موافقت كرنے والوں كا مسلك صحيح ہے، وہ يہ كہ اس سلسلہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ہر ثابت شدہ چيز كو جائز قرار دينا، وہ اس ميں سے كسى چيز كو بھى ناپسند نہيں كرتے، جبكہ اذان اور اقامت كا طريقہ متنوع ہے، جيسا كہ قرآت اور تشھدات ميں تنوع پايا جاتا ہے.

اور كسى شخص كے ليے بھى لائق نہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت كے ليے جو كچھ بھى مسنون كيا ہے اسے ناپسند كرے، ليكن وہ شخص جس كى حالت اختلاف اور تقرقہ تك پہنچ جائے حتى كہ وہ اسى بنا پر دوستى و دشمنى كرنے لگے، اور اس طرح كے مسائل جسے اللہ تعالى نے جائز قرار ديا ہے پر لڑنا اور قتال كرنے لگے، جيسا كہ بعض مشرقى لوگ كرتے ہيں تو يہ ان لوگوں ميں سے ہيں جنہوں نے اپنے دين كو ٹكڑے كر ديا اور گروہ گروہ بن گئے، ....

اس طرح كے مسائل ميں سنت پر مكمل عمل اس طرح ہو سكتا ہے كہ كبھى اس پر عمل كيا جائے اور كبھى اس پر، اور ايك جگہ ايك طريقہ تو دوسرى جگہ دوسرا طريقہ؛ كيونكہ سنت ميں وارد شدہ طريقہ ترك كرنا اور اس كے علاوہ دوسرے طريقہ پر ہى عمل پيرا رہنا سنت كو بدعت اور مستحب كو واجب كرنے كا باعث بن سكتا ہے، اور جب كچھ دوسرے لوگ دوسرا طريقہ اختيار كريں تو يہ كام تفرقہ اور اختلاف تك لے جانے كا باعث ہے.

اس ليے مسلمان شخص كو چاہيے كہ وہ سب اصول و قواعد كا خيال ركھے جس ميں كتاب و سنت پر عمل ہوتا ہے، اور خاص كر نماز باجماعت كے مسئلہ ميں...

اذان ميں امام مالك اور امام شافعى نے ترجيع ( يعنى اشھد ان لا الا اللہ اور اشھد ان محمد رسول اللہ كو دوبارہ كہنا ) اختيار كى ہے، ليكن امام مالك اللہ اكبر دو بار اور امام شافعى اللہ اكبر چار بار كہنے كے قائل ہے.

اور امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ نے اسے اختيار نہيں كيا، ليكن امام احمد رحمہ اللہ تعالى كے ہاں يہ دونوں ہى سنت ہيں، ليكن اس كا ترك كرنا انہيں زيادہ پسند ہے، كيونكہ يہ اذان بلال رضى اللہ تعالى عنہ ہے.

اور امام مالك و شافعى و امام احمد اقامت كے كلمات اكہرے كہنے كے قائل ہيں، اس كے باوجود وہ كہتے ہيں: دو اور تين بار كہنا سنت ہے، اور ابو حنيفہ و امام شافعى و امام احمد قد قامت الصلاۃ كے الفاظ دو بار كہنے كے قائل ہيں، ليكن امام مالك رحمہ اللہ نہيں. واللہ اعلم.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 22 / 66 - 69 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments