Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
21438

عورت كا پتلون ( پينٹ ) پہننا

كيا عورتوں كے ليے پينٹ پہننا جائز ہے، اگر جواب نفى ميں ہو كيوں جائز نہيں ؟

الحمد للہ:

مسلمان عورت پر واجب ہے كہ وہ ايسا لباس پہنے جو اس كے سارے جسم كو چھپائے، اور اس كى سترپوشى كرے، اور يہ اس طرح ہو سكتا ہے كہ عورت كوئى بھى ايسا لباس مت پہنے جو اس كى جلد كا وصف ظاہر كرے، مثلا شفاف اور باريك كپڑا، اور نہ ہى وہ جسم كے اعضاء كا حجم واضح كرے مثلا تنگ لباس مت پہنے.

پتلون ( پينٹ ) عورت كے جسم اور اس ستر والى جگہ كا حجم واضح كرتى ہے، اس ليے عورت كے ليے پينٹ پہننى جائز نہيں، اور اگر وہ پہنے تو پينٹ كے اوپر شرٹ كى بجائے كھلى اور لمبى قميص پہنے كيونكہ اسلام كے اہداف ميں ستر كى حفاظت اور اسے ظاہر نہ كرنا شامل ہے.

كيونكہ اس ميں سستى اور كوتاہى برتنا اللہ تعالى كے حرام كردہ كے زنا اور اس كے اسباب كے وسائل ميں پڑنا ہے، اس ليے مسلمان شخص پر واجب ہے كہ وہ اپنے لباس اور حركات و سكنات، اور كلام ميں اسلامى آداب كا خيال ركھے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ ﴾النور ( 31 ).

واللہ تعالى اعلم .

الشيخ عبد الرحمن البراك
Create Comments