21576: اصلاح کرنے والوں اوردعاۃ کی عزتیں


ان آخری آیام میں دعوت دینے والوں کی عزت ظاہری طور پر اچھالی جانے لگی ہے اورانہیں مختلف جماعتوں میں تقسیم اوران کی نسبت کی جانے لگی ہے آپ کی اس میں کیا راۓ ہے ؟

الحمد للہ
 

بلاشبہ اللہ تعالی عدل وانصاف اوراحسان کا حکم دیتا ہے اورظلم و دشمنی اورزیادتی سے منع فرماتا ہے ، اوراللہ تعالی نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی وہی دے کر مبعوث کیا جو ان سے پہلے انبیاء ورسل کو دیا گيا تھا کہ وہ دعوت توحید اوراللہ تعالی کی خالص عبادت کی دعوت پھیلائيں ۔

اوراللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عدل وانصاف قائم کرنےکا حکم دیا اوراس کے خلاف ظلم وزيادتی اورغیراللہ کی عبادت سے روکا ہے ، اوراسی طرح فرقہ بندی اورلوگوں کے حقوق پر ظلم وزیادتی کرنے سے بھی منع فرمایا ہے ۔

اس دورمیں بہت زيادہ پھیل چکاہے کہ بہت سے علم ودعوت اورخیرو بھلائ کے کاموں کی طرف منسوب لوگ اپنے دوسروں مشہور دعاۃ اورواعظ حضرات کی عزت اچھالتے ہیں ، اوروہ طالب علموں اوردعوت وتبلیغ کا کام کرنے والوں کی بارہ میں باتیں کرتے ہیں ۔

اوریہ سب کچھ ان کی مجالس میں چوری چھپے ہوتا اوربعض اوقات کیسٹوں میں ریکارڈ کرکے لوگوں میں بھی پھیلایا جاتا ہے ، اوربعض اوقات ایسے کام اعلانیہ اورظاہری طورپربھی مساجدمیں عمومی دروس کے اندرکیے جاتے ہیں ، یہ ایک ایسا کام ہے جواللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کئ اعتبار سےمخالفت ہے جن میں سے چندایک یہ ہیں :

اول :

یہ دوسرے مسلمانوں کے حقوق پر زيادتی ہے ، بلکہ لوگوں میں سے خاص طورلوگ طالب علم اوردعوتی کام کرنے والے واعظ جنہوں نے اپنی کوششوں کولوگوں کی راہنمائ اوران کے عقائد ومنھج کو صحیح صرف کیا اوردروس اورتقاریری پروگرام کو منظم کرنے اورنفع مند کتب تالیف کرنے میں جدوجھد اور اپنی کوششیں صرف کیں ۔

دوم :

یہ کہ مسلمانوں کی وحدت واجتماعیت میں تفریق اوران کی صفوں کوچیرنے کے مترادف ہے ، حالانکہ مسلمان تووحدت واجتماعیت کے محتاج ہیں اورتفرقہ اوراختلافات اورآپس میں کثرت سے قیل وقال سے دوررہنے کی ضرورت ہے ۔

اورخاص کران دعاۃ اورواعظین کے بارہ میں باتیں کرنا جواہل سنت اورسلفی منھج سے تعلق رکھتے ہيں جوکہ بدعات اورخرافات کے خلاف لڑنے میں معروف مصروف ہيں اوراس ان بدعات و خرافات کی دعوت دینے والوں کے سامنے ڈٹ جانے والے اوران کی سازشوں اورعیبوں کے پردہ کوچا ک کرنے والے ہیں ۔

ہم تواس طرح کے عمل میں کوئ مصلحت نہیں دیکھتے لیکن ان میں صرف ان دشمنوں کے لیے ہی مصلحت نظر آتی ہے جواہل کفر ونقاق ہيں اورمسلمانوں کونقصان دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ، یا پھر اس میں بدعتی اورگمراہ لوگوں کے لیے ہی مصلحت نظر آتی ہے ۔

سوم :

اس عمل میں علمانی نظریہ اورمغربیت کا ذہن رکھنے والوں اورملحد قسم کے لوگوں کا تعاون مدد ہے ، جن کے بارہ میں مشہور ہے کہ وہ دعوتی کام کرنے والوں کی عزت اچھالتے ہيں اوران پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں اوراپنی تحریر اورتقریر میں لوگوں کوان کے خلاف ابھارتے ہیں ۔

یہ کوئ اسلامی اخوت وبھائ چارہ نہیں کہ یہ جلدباز لوگ اپنے دشمنوں کی اپنے طالب علم اوردعوتی کام کرنے والے بھائيوں وغیرہ کے خلا ف مدد کریں ۔

چہارم :

اس عمل سے ہر خاص اورعام شخص کے دل میں فساد کا بیج بونا ہے اورجھوٹ و بہتان اور باطل افواہوں کی نشروترویج ہے ، اوریہ غیبت چغلی کی کثرت کا سبب ہے اورکمزورنفوس کے مالک لوگوں کے لیےشرکے دروازے کوکھولنا ہے جن کی عادت ہی شبہات اورفتنہ پھیلانا ہے ، اوروہ مومنوں کوبغیر کسی جرم کے اذیتوں سے دوچار کرتے ہیں ۔

پنجم :

جوکلام بھی کہی جاتی ہے اس میں سے بہت سی کی توکوئ حقیقت ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ تو صرف وہم وگمان ہوتے ہیں جنہیں شیطان ان کے لیے مزين کردیتا ہے اورانہیں دھوکہ دیتا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :

{ اے ایمان والو ! بہت سے بدگمانیوں سے بچو یقین جانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اوربھید نہ ٹٹولا کرو اورنہ تم میں سے کوئ کسی کی غیبت کرے } الحجرات ( 12 ) ۔

اور مومن کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے دوسرے مومن بھائ کی کلام کواچھے انداز سے لے اوراسے اچھے معانی پہناۓ ، سلف میں سے کسی کا کہنا ہے کہ : اپنے بھائ کے منہ سے نکلے ہوۓ کلمہ کے بارہ میں سوء ظن نہ رکھو بلکہ اس میں کوئ خیر تلاش کرنے کی کوشش کرواوراچھے معنی پر محمول کرو ۔

ششم :

اوربعض طلباء اورعلماء کرام کرام کا وہ اجتھاد جن مسائل میں اجتھاد جائز ہے تواس اجتھاد میں صاحب اجتھاد اگر اجتھاد کرنے کا اہل ہوتواس کا کوئ مؤاخذہ نہیں ہوسکتا اورنہ ہی اس پربات کی جاسکتی ہے اوراگر اس میں کسی دوسرے میں اس کی مخالفت کی ہوتو اس سے اچھے انداز میں بحث کرنی چاہيۓ اوراس میں بھی یہ کوشش ہونی چاہيۓ کہ سب سےقریب ترین راہ سے حق تک پہنچا جاۓ اورشیطان کے وسوسوں اورمومنوں کے درمیان اختلاف کوختم کردینا چاہيۓ ۔

اوراگریہ نہ ہوسکے اورکوئ یہ دیکھے کہ اس مخالفت کوضروربیان کرنا چاہیۓ توپھر کسی اچھی سی عبارت اوراحسن انداز میں اوراشارہ کنایہ سے بغیر کسی جرح قدح اورھجوم کے یا پھراقوال میں اختلاف کے بغیر کرنا چاہیےجوکہ بعض اوقات حق کورد کرنےکا باعث بنتا ہے ۔

کیونکہ یہ حق سے اعراض کا بھی باعث بن سکتا ہے ، اورنہ ہی لوگوں کےسامنے پیش کیا جاۓ یا پھر نیتوں پرحملے کیے جائيں یاپھرایسے ہی کلام میں زیادتی کی جاۓ جس کی ضرورت ہی نہیں ، اس طرح کے معاملات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے :

ان لوگوں کوکیا ہوا کہ وہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں ۔

تومیں اپنے ان بھائیوں کوجوواعظین کے عزت اچھالنے کی کوشش کرتے ہيں یہ نصیت کروں گا کہ وہ جوکچھ اپنے ہاتھوں سے لکھ چکے یا پھر اپنی زبانوں سے نکال چکے ہيں جوبعض نوجوانوں کے دلوں کے فساد کاباعث بن چکا ہے اس سے اللہ تعالی کے سامنے توبہ کریں اوراس کی جانب رجوع کریں ۔

اس چيز نے نوجوانوں کے دلوں میں حسدوبغض اورکینہ وحقد پیدا کردیا اورانہیں نفع مند علم کےحصول کے منع کررکھا ہے ، اوراسی طرح قیل وقال اورواعظین کے بارہ میں کثرت کلام کی بنا پردعوت الی اللہ کا بھی نقصان ہوا ، اورلوگوں کوناراض کرنے والی غلطیوں کی تلاش وتتبع اوراس میں تکلف کرنا یہ سب کچھ نقصان دہ ہے اس سے توبہ کرنی چاہيۓ ۔

اورمیں انہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جوکچھ وہ کربیٹھے ہیں اس کا کفارہ ادا کریں چاہے وہ لکھنے کی صورت میں ہو جس میں وہ اپنے آپ کواس فعل سے بری کرائيں اورجن لوگوں نے ان کی بات سن کر اپنے ذہنوں میں غلط قسم کے خیالات پیدا کرلیے تھے ان کے ذہن بھی صاف کریں ۔

اورانہیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کے تقرب والے اورنتائج دینے والے اعمال کریں جوکہ اللہ کے بندوں کے لیے بھی نفع مند ہوں ، اورپھر وہ کسی کی مطلقا تکفیر کرنے یا پھر اسے فاسق اوربدعتی کہنے میں جلد بازي سے پرہيز کریں بلکہ انہيں اس میں اس وقت تک نہيں پڑنا چاہیے جب تک کہ ان سے پاس ایسی چیزوں کے دلائل نہ ہوں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جس نے بھی اپنے کسی( مسلمان ) بھائ کوکافر کہا توان دونوں میں سے کسی ایک نےاس کاگناہ حاصل کرلیا ) صحیح بخاری وصحیح مسلم ۔

حق کے داعی اورطالب علموں کے مشروع ہے کہ جب بھی ان پراہل علم وغیرہ کی کوئ کلام یا کوئ مسئلہ مشکل ہواس میں یا اشکال پیش آۓ توانہیں چاہیے کہ معتبر علماء سے اس کے بارہ میں رجوع کریں اوران سےاس اشکال کا حل طلب کریں تا کہ وہ انہیں اس معاملہ کوبیان کرسکیں اورانہيں اس کی حقیقت کا علم دیں ۔

اوران کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکالات و شبہات اورتردد کوختم اورزائل کريں ، اس طرح وہ اللہ تعالی کے مندرجہ ذيل فرمان پر عمل پیرا بھی ہوسکیں گے :

فرمان باری تعالی ہے :

{ جہاں انہیں کوئ خـبر امن یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کردیا ، حالانکہ اگریہ لوگ اسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اوراپنے اولی الامر کے حوالے کردیتے جوایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والے ہيں تواس کی حقیقت وہ لوگ معلوم کرلیتے جونتیجہ اخذ کرتے ہيں ، اوراگر اللہ تعالی کا فضل اوراس کی رحمت تم پر نہ ہوتی توچندگنے چنے لوگوں کے علاوہ تم سب شیطان کے پروکاربن جاتے } النساء ( 83 ) ۔

ہم اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ سب مسلمانوں کےحالات درست فرماۓ اوران کے دلوں کواوراعمال کوتقوی پر جمع کردے ، اورمسلمانوں کے سب علماء اورسب دعاۃ و واعظین حق کواپنی رضا اور اپنے بندوں کےفائد مند کام کرنے کوتوفیق عطافرماۓ ۔

اوران کے کلمہ کوھدایت پرجمع کرے اورتفرقہ و اختلافات کے اسباب سے بچاکررکھے ، اوران کے ساتھ حق کی مدد ونصرت فرماۓ اورباطل کونیچا اورذلیل کرے بلاشبہ اللہ تعالی اس کا کارساز اوراس پرقادر ہے ۔

اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی آل اورصحابہ کرام اورجوبھی قیامت تک ان کی پیروی کرے رحمتیں نازل فرماۓ ، آمین ۔

واللہ اعلم .

دیکھيں کتاب :
مجموع فتاوی ومقالات متنوعۃ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالی (7/311) ۔
Create Comments