21591: حيوانات اور پرندے حنوط كرنے كا حكم


كچھ لوگ بعض حيوانات يا پرندوں كو حنوط كرتے ہيں، وہ اس طرح كہ كاٹن، ڈيٹول اور نمك اور كچھ دوسرے مواد اس كے اندر ركھتے ہيں، اور پھر اس حيوان يا پرندے كو ڈرائنگ روم كى زينت بنا ديتے ہيں، شريعت مطہرہ ميں اس عمل كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اس طرح كا عمل كرنا جائز نہيں، كيونكہ يہ مال ضائع كرنے ميں شامل ہوتا ہے، اور اس ليے بھى كہ يہ اس حنوط شدہ جانور يا پرندے كے ساتھ معلق ہونے كا وسيلہ ہے، اور اس گمان كا وسيلہ بننے كا خدشہ ہے كہ يہ حنوط شدہ چيز گھر اور گھر ميں رہنے والوں سے مصيبت و تكليف دور كرےگى، جيسا كہ بعض جاہل قسم كے لوگ گمان كرتے ہيں.

اور اس ليے بھى كہ يہ ذى روح كى تصاوير معلق كرنے كا وسيلہ ہے كہ حنوط شدہ جانور وغيرہ ركھنے كو ديكھنے والا يہ سمجھےگا كہ يہ بھى تصوير ہے، اور مستقل فتوى اينڈ علمى ريسرچ كميٹى كى جانب سے ميرى صدارت اور ميرى مشاركت كے ساتھ يہى فتوى جارى ہوا ہے جو ميں نے بيان كيا ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

ديكھيں كتاب: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ علامہ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ ( 8 / 426 )
Create Comments