Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
21605

کیا ہوٹل میں ویٹر ( کام کرنے والے ) کوکچھ رقم زيادہ دینی جائز ہے ؟

ہوٹل میں کام کرنے والے کوزيادہ رقم دینے کا حکم کیا ہے ؟ آپ کے علم ميں ہونا چاہیے کہ کچھ بلوں میں بخشش ہوتی ہے ؟

الحمد للہ
میں نے مندرجہ بالا سوال شيخ عبدالرحمن البراک حفظہ اللہ سے پوچھا توان کا جواب تھا :

کام کرنے والے کویہ زیادہ رقم دینی جائز نہیں کیونکہ آپ کی جانب سے اسے رشوت شمار کیا جائےگا تا کہ وہ آپ کی خدمت بہتر اوراچھے طریقہ سے کرے ، یاپھر دوسروں کی بنسبت جویہ زيادہ رقم نہیں دیتے آپ کوکھانا زيادہ دے ، اورنہ ہی کام کرنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی ایک شخص کوزيادہ رقم حاصل ہونے کی بنا پرخدمت کے لیے خاص کرے ، بلکہ اسے سب لوگوں سے ایک جیسا ہی معاملہ کرنا چاہیے ۔

لیکن ۔۔ اس زيادہ رقم سے جب رشوت اورگناہ کا شبہ جاتا رہے تواس وقت اس میں کوئي حرج نہیں ۔

جس طرح کہ اگرآپ اس غریب وکمزور اورمحتاج پراحسان کرنا چاہیں اورآپ اس ہوٹل میں باربار بھی نہ جاتے ہوں ۔ .

شیخ عبدالرحمن البراک نے اسی طرح کہا ہے ۔
Create Comments