Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
21606

ناخن لمبے كرنے كا حكم

شريعت ميں سب يا كچھ ناخن لمبے كرنے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

ناخن لمبے كرنا اگر حرام نہ بھى ہوں تو يہ مكروہ ضرور ہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ناخن كاٹنے كے ليے وقت مقرر كرتے ہوئے حكم ديا كہ وہ چاليس يوم سے زيادہ نہ چھوڑيں جائيں.

اسے امام مسلم نے كتاب الطہارت حديث نمبر ( 258 ) ميں روايت كيا ہے.

يہ بات اور بھى بہت عجيب و غريب سى ہے كہ جو لوگ ترقى يافتہ اور شہرى ہونے كے دعوے كرتے ہيں وہ ان ناخنوں كو كاٹتے ہى نہيں بلكہ لمبے كرتے ہيں، حالانكہ ان ميں گندگى اور ميل كچيل پھنسى ہوتى ہے اور اس سے انسان حيوان كے مشابہ ہونے لگتا ہے.

اسى ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو چيز خون بہائے اور اس پر اللہ كا نام ليا گيا ہو اسے كھالو، دانت اور ناخن .... دانت تو ہڈى ہے، اور ناخن حبشيوں كى چھرى "

صحيح بخارى الشركۃ حديث نمبر ( 3507 ) صحيح مسلم كتاب الاضاحى حديث نمبر ( 1968 ).

يعنى وہ اپنے ناخنوں كو چھرى بنا كر اس سے ذبح كرتے اور گوشت وغيرہ كاٹتے ہيں، يہ تو ان لوگوں كا طريقہ ہے جو وحشى جانوروں كى طرح ہيں.

ديكھيں: كتاب الدعوۃ ( 5 ) الشيخ ابن عثيمين ( 2 / 79 ).
Create Comments