Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
21612

اگر عورت اپنے سابقہ خاوند کے ملک کوچھوڑنا چاہے توبچے کی پرورش کا حق کس کا ہے

طلاق کے بعد اگر بیوی کسی دوسرے ملک یا شہر جا کررہائش پذیر ہونا چاہے تو خاوند کے لیے اپنے بچےسے ملنا مشکل ہوگا اس لیے کہ وہاں جانے کےلیے اسے ملازمت سے چھٹی ہوگی اورہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کرنا پڑے گا توکیا خاوند کوحق ہے کہ وہ اپنے بچے کی پرورش کرسکے ؟
اورکیا غیراسلامی ممالک میں بچے کی کفالت کے لیے غیراسلامی عدالتوں سے فیصلہ کروایا جاسکتا ہے اس لیے کہ خاوند اوربیوی دونوں یہ کہتے ہیں کہ پرورش کا حق اس کا ہے ؟
اورکیا جب عورت شادی کرلے توکیا اس سے پرورش کا حق خود بخود ہی ختم ہوجاۓ گا ؟

الحمد للہ
پرورش کے متعلق گزارش ہے کہ جب خاوند اوربیوی کا ملک علیحدہ علیحدہ ہواوربچہ بھی پرورش کی عمر ( یعنی سات برس کی عمر سے چھوٹا ) میں ہو تو صحیح اوراصل یہی ہے کہ پرورش کا حق ماں کوہے ۔

اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مندرجہ ذیل فرمان ہے :

( جب تک نکاح نہ کرلے تواس کی زيادہ حقدار ہے ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1938 ) ۔

یہ تو اصل کے اعتبار سے ہوا ، لیکن یہاں ایک اوراصل اورقاعدہ ہے کہ پرورش بچے کی مصلحت پر مبنی ہے :

تواگر ماں یا پھر باپ کے ساتھ سفر میں بچے کوضرر اورتکلیف ہو توبچے کی پرورش کا مسئلہ والد کے حق میں ہوگا کہ بچے کوسفر کی وجہ سے تکلیف نہ ہو ، اوراگر ماں کے ساتھ ایک ملک سے دوسرے ملک سفر میں بچے کوکوئی ضرر اورتکلیف نہیں ہوتی تواصلا پرورش کا حق ماں کوہی حاصل رہے گا ۔

اورغیراسلامی ممالک میں پرورش وغیرہ کے مسائل میں غیراسلامی عدالتوں کا رخ کرنا جائز نہيں ، کیونکہ یہ طاغوت سے فیصلہ کروانا ہے جو کہ جائز نہیں اوراللہ تعالی کا فرمان تو کچھ اس طرح ہے :

{ اورجوبھی اللہ تعالی کے نازل کردہ ( دین ) کے مطابق فیصلہ نہيں کرتا وہ کافر ہيں } المائدۃ ( 44 ) ۔

اوراللہ تعالی نے دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :

{ آپ ان کے درمیان اللہ تعالی کے نازل کردہ ( دین ) حق کے مطابق فیصلہ کریں اوران کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے شریعت اورطریقہ بنایا ہے } المائدۃ ( 48 ) ۔

لھذا خاوند اوربیوی پر ضروری ہے کہ وہ مراکز اسلامیہ میں جائيں اوراہل علم سے پوچھیں اوران سے فیصلہ کروائيں ۔

اورجب عورت شادی کرلے تواس سے پرورش کا حق ختم ہوجاتا ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے اورحدیث بھی گزر چکی ہے ، آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 9463 ) دیکھیں ۔

واللہ اعلم .

الشیخ ڈاکٹر خالد بن علی المشیقح
Create Comments