Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
21656

اسے صحراء میں اپنی پیاس کا خدشہ ہے توکیا وہ پانی کسی اور پیاسے کودے سکتا ہے

جب کوئ شخص صحرا میں سفر کررہا ہو اوراس کے پاس پانی ہے لیکن اسے آئندہ پیاس کا خدشہ ہے ، اورراستے میں اس وقت کوئ پیاسا ہوتوکیا اسے اپنا پانی دینا واجب ہے کہ نہیں ؟

الحمدللہ

مندرجہ بالا سوال ابن حجر الھیتمی رحمہ اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا توان کا جواب تھا :

" المجموع " میں ہے کہ ان دونوں میں مقدم کرنے کی دووجوہ ہیں اورمیں نے ان میں کسی ایک کوبھی راجح قرار دیتے ہوۓ نہیں دیکھا ، جس کی ترجیح معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ :

جب پیاس کی شدت سے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے توپھر دوسرے شخص کوپانی پیش کردیا جاۓ اس لیے کہ اس کا ہلاک ہونا تو ثابت ہوچکا ہے لیکن پانی کے مالک کوہوسکتا ہے آگے کہیں پانی مل جاۓ ۔

اوراگروہ کسی ایسے صحراءمیں ہو جہاں پانی ملنے کی امید ہی نہیں اوراس کا ظن غالب ہے کہ اگر اس اپنے پاس جوپانی ہے وہ صرف کردیا تو وہ ہلاک ہوجاۓ گا تو اس میں کچھ سوچنے کی مجال ہے ، اورایسی حالت میں اس پانی کے صرف میں عدم وجوب زیادہ اقرب ہے ۔

اوراسی طرح اگرکوئ پیاسا فی الحال پیاس کی بنا پر کسی عضویا پھر بیماری کے پیدا ہونے کا خدشہ محسوس کرے اورپانی کا مالک آئندہ اپنی جان کا خدشہ محسوس کرے تواس حالت میں بھی اقرب یہی ہے کہ اس پانی کا صرف کرنا واجب نہیں ۔ .

دیکھیں " الفتاوی الفقھیۃ الکبری ( 1 / 69 ) ۔
Create Comments