Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
21673

كيا اسے طہارت قلب ميں مشغول رہنا چاہيے يا نفلى كاموں ميں ؟

افضل كيا ہے آيا دل ميں پائى جانے والى ان بيماريوں كا علاج جو اللہ تعالى كو ناپسند ہيں، مثلا: حسد و بغض، اور كينہ و خيانت، تكبرو رياكارى اور دكھلاوا، اور شھرت، اور قسوۃ قلبى وغيرہ جن كا تعلق دل كى گندگى اور چھپاؤ كے ساتھ ہے، ان كا علاج افضل ہے يا پھر ظاہر اعمال سر انجام دينے كا، مثلا: نماز ، روزہ، اور دوسرى نفلى عبادات اور نذريں وغيرہ، ليكن دل ميں سارى بيمارياں موجود رہيں، فتوى دے كر عند اللہ ماجور ہوں ؟

الحمد للہ :

اس ميں سے كچھ تو اس كے ذمہ واجب ہيں، اور واجب چيز كو فضيلت حاصل ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا حديث قدسى ميں فرمان ہے:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم بيان كرتے ہيں كہ اللہ تعالى نے فرمايا:

" ميرا بندہ ميرے اتنا قريب كسى اور چيز سے نہيں ہوتا جتنا ميرے فرض كردہ اعمال سرانجام دينے سے ہوتا ہے"

پھر فرمايا:

" ميرا بندہ نوافل كى ادائيگى كے ساتھ ميرا قرب حاصل كرتا رہتا ہے حتى كہ ميں اس سے محبت كرنے لگتا ہوں"

اور پھر ظاہرى اعمال تو اس وقت تك صالحہ اور مقبول ہى نہيں ہو سكتے جب تك اس كا واسطہ دل سے نہ ہو، كيونكہ دل بادشاہ كى حيثيت ركھتا ہے، اور باقى سارے اعضاء اس كے فوج اور لشكرى ہيں، لھذا جب بادشاہ خود ہى خراب اور گندہ ہو جائے تو فوجى بھى خراب ہو جاتے ہيں، اور اسى ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" خبردار! جسم ميں ايك گوشت كا ٹكڑا ہے جب وہ صحيح اور درست ہو جائے تو سارا جسم صحيح اور درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب اور فاسد ہو جائے تو سارا جسم بھى خراب اور فاسد ہو جاتا ہے"

اور اسى طرح قلبى اعمال كا جسمانى اعمال ميں اثرانداز ہونا ضرورى اور لازمى چيز ہے، اور جب واجب كردہ چيز كو مقدم كيا ( چاہے ) اسے باطنى يا ظاہرى كا نام ديا جائے، تو ہو سكتا ہے جسے باطنى كے نام سے موسوم كيا جا رہا ہے وہ زيادہ واجب ہوں، مثلا: حسد، بغض اور تكبر ترك كرنا، كيونكہ يہ نفلى روزوں سے زيادہ واجب ہے، اور بعض اور اوقات ظاہر كے نام سے موسوم كيے جانے والے اعمال افضل اور بہتر ہوتے ہيں: مثلا قيام الليل، كيونكہ يہ عمل دل ميں پائے جانے والے بعض خيالات مثلا رشك وغيرہ كو صرف ترك كرنے سے زيادہ بہتر اور افضل ہے.

اور باطنى اور ظاہرى ميں سے ہر ايك عمل دوسرے كا ممد و معاون ہے اور اس كى مدد كرتا ہے، اور نماز برائى اور بے حيائى اور برائى كے كاموں سے روكتى، اور خشوع و خضوع وغيرہ كو پيدا كرتى ہے، اس كے علاوہ بھى عظيم الشان آثار پيدا كرتى ہے، جو افضل الاعمال ميں شامل ہوتا ہے، مثلا صدقہ. واللہ تعالى اعلم

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كى كلام ختم ہوئى، ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 6 / 381 ).

لھذا باطن اور ظاہر كى اصلاح كو عليحدہ عليحدہ نہيں كيا جا سكتا.

انسان جو ظاہرى عبادات اپنے اعضاء كے ساتھ سرانجام ديتا ہے، بلا شبہ - جب اس سے اللہ تعالى كى رضا اور خوشنودى حاصل كرنا مقصود ہو - باطن ميں مثبت اثر انداز ہوتى ہيں.

اس كى مثال مندرجہ ذيل فرمان نبوى صلى اللہ عليہ سلم ميں ہے:

" كيا ميں تمہيں وہ چيز نہ بتاؤں جو سينے كا وحر ختم كر كے ركھ دے، وہ ہر ماہ تين روزہ ركھنا ہے"

سنن نسائى حديث نمبر ( 2386 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى حديث نمبر ( 2249 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

حديث ميں استعمال شدہ لفظ وحر الصدر كا معنى سينہ ميں پايا جانے والا بغض و كينہ اور حسد ہے.

قلبى بيماريوں كے اہم ترين علاج ميں سے يہ ہے كہ ان امراض كے بارہ ميں آنے والى شديد قسم كى وعيد والى نصوص اور دلائل پر غور وفكر اور تدبر ہے.

مثلا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كے دل ميں ذرہ برابر بھى تكبر ہوا وہ جنت ميں داخل نہيں ہو گا"

صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 91 ).

اور جس حديث ميں آگ كا قول بيان ہوا ہے:

" مجھے متكر قسم كے لوگوں كے ساتھ مخصوص كيا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4850 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2846 )

اور ايك حديث ميں ہے:

" روز قيامت متكبر قسم كے لوگوں كو مردوں كى شكل ميں ذرات كى طرح جمع كيا جائے گا"

جامع ترمذى حديث نمبر ( 2492 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الترمذى حديث نمبر ( 2025 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تمہارے اندر تم سے پہلى امتوں كىبيمارياں حسداور بغض سرايت كر چكى ہيں، اور يہى كاٹ كر ركھ دينے والياں ہيں، ميں يہ نہيں كہتا كہ بال مونڈ دينے والياں ہيں، ليكن دين كو كاٹ كر ركھ ديتى ہيں، اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، تم اس وقت تك جنت ميں نہيں داخل ہو سكتے جب تك كہ مؤمن نہ بن جاؤ اور اس وقت تك مؤمن نہيں بن سكتے جب تك تم آپس ميں محبت نہ كرنےلگو، كيا ميں تمہيں يہ چيز پيدا كرنے والى نہ بتاؤں! السلام عليكم عام كرو"

جامع ترمذى حديث نمبر ( 2510 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 2038 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

لھذا جو شخص بھى ان امراض قلب كى اس طرح كى وعيدوں پر بصيرت كى آنكھ سے غور وفكر كرتا ہے، بلا شبہ وہ اپنے دل كو پاك صاف كرنے كے ليے نفس كے خلاف جھاد كر رہا ہے، اور ايسا كر كے وہ اعضاء كے اعمال كى معاونت اور مدد كرتا ہے، اور اس كے ساتھ وہ دعا بھى كرتا ہے كہ اس كا دل حسد وبغض اور كينہ و حقد وغيرہ سے پاك صاف كر دے.

جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى كا مومنوں كى دعا كے متعلق فرمان ہے:

{اور ہمارے دلوں ميں مومنوں كے بارہ بغض اوركينہ نہ ركھ}.

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتوں كا نزول فرما.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments