21745: کیا غسل خانے میں بیوی سے جماع کرناجائز ہے


غسل خانے میں بیوی سے جماع کرنے کا کیا حکم ہے ؟ - اللہ تعالی آپ کوعزت و شرف سے نوازے - کیونکہ جب کوئي اپنی بیوی کے ساتھ غسل کررہا ہو اوروہ اس وقت خواہش کا شکار ہو تو اس کا جواب کیا ہے ؟

الحمد للہ
سوال کرنے والے بھائی اللہ تعالی آپ کوخیرو بھلائی کی توفیق عطا فرمائے اورآپ کوحرام سےبچا کر حلال کےساتھ غنی کردے ، آپ نے جوکچھ سوال میں ذکرکیا ہے اس کا مندرجہ ذيل نقاط میں جواب دیا جاتا ہے :

1 - موجودہ دور میں نئے گھروں کے اندر باتھ روم پہلے دور سے بہت ہی مختلف ہیں جیسا کہ آپ کے ملک میں بھی ہے جسے پاخانہ کرنے کی جگہ اورقضائے حاجت کے لیے بنایا جاتا تھا ، اورجہاں پر نجاست اورکیڑے ومکوڑے اورتعفن و بدبو وغیرہ پائي جاتی تھی ۔

لیکن آج کے دورمیں لیٹرین اورغسل خانے ان اشیاء سے خالی ہوتی ہیں بلکہ ان میں توصفائی کا بہت انتظام پایا جاتا ہے اوروہاں پر نجاست قسم کی کوئي چيز نہیں ملتی بلکہ فوری طور پر غائب ہوجاتی ہے ، تواس طرح اس کی حالت قضائے حالت والی پہلی جگہوں سے مختلف ہوگی ، اوران میں ایسے فرق ہیں جوکہ پہلی نظر میں ہی نظر آجاتے ہیں اورکسی پر بھی مخفی نہیں ۔

تواس بنا پر کوئي ایسا مانع ظاہر نہیں ہوتا کہ وہاں پر ضرورت پڑنے پر وہ اپنی خواہش پوری کی جاسکے جوکہ آپ نے سوال میں ذکر کی ہے ، لیکن اس کے لیے پڑھی جانے والی دعا باہر جاکرپڑھے اورپھرواپس آجائے کیونکہ ننگے اورلیٹرین وغسل خانہ میں اللہ تعالی کا ذکر نہیں ہوسکتا ۔

2 - انسان اپنی بیوی سے حاجت کواس وقت پوری کرتا ہے جب اس میں یہ خواہش پیدا ہواوریہ خواہش پیدا ہونے کے بہت سے اسباب ہيں یا تو دیکھنے سے پیدا ہوتی ہے یاپھر لمس اورچھونے وغیرہ سے ، اس لیے جب شھوت آئي ہوتواسے اس حالت میں پورا کرنا عفت وعصمت اورآنکھوں کونیچی کرنے اورشھوت کی سرکشی و تیزی کوروکنے کا باعث ہے ۔

حدیث ميں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی راہنمائی فرمائي ہے ۔

جابر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کودیکھا تو آپ اپنی بیوی ام المومنین زينب رضي اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے تووہ ایک کھال کو رگڑ رہی تھی ( یعنی اسے دباغت دے رہی تھی ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنی حاجت پوری فرمائي ۔

اس کے بعد وہ اپنے صحابہ کے پاس گئے اورفرمانے لگے :

یقینا عورت شیطان کی صورت میں ہی آتی اورجاتی ہے توجب بھی کوئي شخص کسی عورت کودیکھے تووہ اپنے گھر والوں کے پاس آئے اس لیے کہ ایسا کرنے سے اس کے ذہن میں جوکچھ آیا ہوگا وہ چلا جائے گا ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1403 ) ۔

عبداللہ بن ابی اوفی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( عورت اللہ تعالی کے سارے حقوق کی ادائيگي اس وقت تک نہیں کرسکتی جب تک کہ اپنے خاوند کے مکمل اورسارے حقوق ادا نہ کردے ، اگرخاوند اس کا نفس اس سے مانگے اوروہ کجاوے پر بھی ہوتواسے دینا چاہیے ) مسند احمد حدیث نمبر ( 19403 ) یہ الفاظ مسنداحمد کے ہیں ۔ سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1853 ) صحیح ابن حبان حدیث نمبر ( 4171 ) ۔

3 - اوریہ بھی کہ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ شھوت پیدا ہونے کی صورت میں اسے عفاف اورعصمت اوراچھی اورمباح چيز سے پوری کرنے کی نیت کرنا نہ بھولے ، کیونکہ اس کا ایسا کرنا اس کے لیے نیکی و صدقہ کا درجہ رکھتا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی فرمان ہے :

ابوذررضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اورتمہاری شرمگاہ میں بھی صدقہ ہے )

صحابہ عرض کرنے لگے : اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کوئي ایک اپنی شھوت پوری کرے توکیا اسے اس میں بھی اجر ملے گا ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

اچھا یہ بتاؤ کہ اگر وہ اسے کسی حرام کام میں استعال کرے توکیا اسے اس میں گناہ ہوگا ؟

تواسی طرح اگر وہ اسے حلال کام میں استعمال کرتا ہے تو اسے اجرو ثواب حاصل ہوگا ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1006 ) ۔

تو اس بنا پراسے جماع کرنے سے پہلے اس حالت میں بھی وہ دعا پڑھنی چاہیے جونبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ( لیکن وہ ننگے ہوکریا پھراندر ہی نہیں بلکہ کپڑے پہن کراورغسل خانے سے باہر نکل کر پڑھے ) :

عبداللہ بن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جب تم میں سے کوئي اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرے تووہ یہ دعا پڑھے :

( بسم الله ، اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا ) اللہ تعالی کے نام سے ، اے اللہ ہمیں شیطان سے دوررکھ اور جوکچھ ہمیں عطا کرے اس سے بھی شیطان کودور رکھ ۔

اگراس ہم بستری کی بنا پر انہیں کوئي اولاد دی گئي تواسے شیطان کبھی بھی نقصان نہیں دے سکے گا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 6388 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1434 ) ۔

اللہ تعالی آپ کوتوفیق عطا فرمائے اورآپ میں برکت اورآپ پر برکت کا نزول فرمائے ۔

ڈاکٹر عبدالوھاب بن ناصر الطریری
Create Comments