21970: كيا عورت گھر ميں زيور پہن كر اور خوشبو لگا كر نماز ادا كر سكتى ہے


كيا مسلمان عورت گھر ميں اكيلى زيور پہن كر اور خوشبو لگا كر نماز ادا كر سكتى ہے ؟
يا كہ اسے نماز ادا كرنے كے ليے خوشبو اور زيور اتارنا ہو گا ؟

الحمد للہ:

مجمل جواب يہ ہے كہ:

عورت كے ليے زيور پہن كر اور خوشبو لگا كر نماز ادا كرنا جائز ہے، اس كے اس فعل سے اس كى نماز باطل نہيں ہو گى.

اور تفصيلى جواب يہ ہے كہ:

عورت كے ليے گھر سے باہر مسجد ميں نماز كى ادائيگى كے ليے جاتے وقت خوشبو لگانا منع ہے، امام مسلم رحمہ اللہ نے صحيح مسلم ميں درج ذيل حديث روايت كي ہے:

عبد اللہ رضى بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كى بيوى زينب رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں فرمايا:

جب تم ميں سے كوئى عورت مسجد ميں آئے تو وہ خوشبو كو چھوئے بھى نہ "

صحيح مسلم كتاب الصلاۃ ( 674 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور خوشبو كے ساتھ وہ اشياء بھى ملحق ہونگى جو خوشبو كے معنى ميں آتى ہيں، كيونكہ ممانعت كا سبب يہ ہے كہ جو چيز شہوت كو حركت دينے كا باعث ہو وہ منع ہے، مثلا حسن لباس، اور جو زيور ظاہر ہوتا ہے، اور بہتر اور اچھى قسم كى زيبائش، اور اسى طرح مردوں كے ساتھ اختلاط بھى " اھـ

اس سے يہ ظاہر ہوا كہ نماز كے ليے مسجد جاتے وقت خوشبو لگانے، اور زينت اختيار كرنے سے ممانعت ميں علت يہ ہے كہ جس سے فتنہ و فساد اور شر پھيلے، اور اس كا باعث بنے.

جب عورت كے ليے مسجد جاتے وقت خوشبو لگانے ميں عظيم خرابى اور شر تھا تو اسے باہر جاتے وقت خوشبو لگانے سے منع كر ديا گيا، اور جب وہ اپنے گھر ميں رہ كر ايسا كرے گى تو يہ خرابى اور فساد نہيں ہوگا، اس ليے اس سےمنع نہيں كيا جا سكتا، اور نہ ہى يہ چيز اس كى نماز كو نقصان اور ضرر دےگى.

واللہ تعالى اعلم، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments