Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
2198

عورت كے ليے چہرہ كب ننگا كرنا جائز ہے

ہميں يہ تو علم ہے كہ اہل علم كے اقوال ميں راجح يہى ہے كہ عورت كے ليے چہرے كا پردہ كرنا واجب ہے، ليكن كئى ايسے حالات ہوتے ہيں جن ميں عورت چہرے كا پردہ نہيں كر سكتى، تو كيا اس موضوع پر كچھ روشنى ڈالنى ممكن ہے ؟

الحمد للہ:

راجح قول جس كے دلائل بھى شاہد ہيں وہ " چہرے كا پردہ كرنا واجب " والا ہى ہے، اس بنا پر اجنبى اور غير محرم مردوں كى سامنے نوجوان عورت كو چہرہ ننگا ركھنے سے منع كيا جائيگا تا كہ سد الذريعہ ہو سكے، اور فتنہ و خرابى كے خدشہ كے وقت تو يہ يقينى ہو جاتا ہے.

اہل علم بيان كرتے ہيں كہ جو بطور سد الذريعہ حرام كيا گيا ہو وہ كسى راجح مصلت كے پيش نظر مباح ہو جاتا ہے.

اس بنا پر فقھاء كرام نے كچھ خاص حالات بيان كيے ہيں جن ميں عورت كے ليے چہرہ ننگا ركھنا جائز ہے جب اس كى ضرورت پيش آئے، اسى طرح ان اجنبى مردوں كے ليے عورت كو ديكھنا جائز ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ ضرورت كى مقدار سے تجاوز نہ كيا جائے، كيونكہ جو ضرورت يا مصلحت كى خاطر مباح كيا گيا ہو وہ بقدر ضرورت اور مصلحت ہى ہو گا.

ذيل ميں ہم اجمالا ان حالات كو بيان كرتے ہيں:

اول:

منگنى كے وقت:

عورت كے ليے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ شادى كا پيغام دينے والے مرد كے سامنے ننگے كرنا جائز ہے، تا كہ وہ انہيں ديكھ سكے، ليكن اس كے ليے شرط يہ ہے كہ اس ميں خلوت نہ ہو، اور نہ ہى وہ عورت كو چھوئے، اس ليے كہ چہرہ جمال و خوبصورتى پر، اور ہاتھ جسم كے دبلا ہونے ہونے پر دلالت كرتے ہيں.

ابو الفرج المقدسى كہتے ہيں:

" اہل علم كے مابين اس ميں كوئى اختلاف نہيں كہ عورت كا چہرہ ديكھنا مباح ہے.. جو كہ خوبصورتى و جمال كا مظہر، اور نظر يعنى ديكھنے كى جگہ ہے.

منگنى كرنے والے كا اپنى منگيتر كو ديكھنے كے جواز كى دليل كئى ايك احاديث سے ثابت ہيں، جن ميں سے چند ايك ذيل ميں بيان كى جاتى ہيں:

1 - سھل بن سعد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ايك عورت رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئى اور كہنے لگى: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں آپ كو اپنا آپ ہبہ كرنى آئى ہوں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى نظر اس كى طرف اٹھائى اور اسے ديكھا، پھر اپنا سر نيچے كر ليا، اور جب عورت نے ديكھا كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كے متعلق كوئى فيصلہ نہيں كيا تو وہ بيٹھ گئى اور صحابہ ميں سے ايك شخص كھڑا ہو كر كہنے لگا:

اے رسول اللہ عليہ وسلم اگر آپ كو اس عورت كى كوئى حاجت و ضرورت نہيں تو آپ اس كى شادى مجھ سے كر ديں "

صحيح بخارى ( 7 19 ) صحيح مسلم ( 4 143 ) سنن نسائى ( 6 113 ) بشرح سيوطى، سنن بيہقى ( 7 84 ).

2 - ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس تھا كہ ايك شخص آيا اور اس نے بتايا كہ اس نے ايك انصارى عورت سے شادى كى ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے فرمايا:

" كيا تم نے اسے ديكھا ہے ؟

تو اس نے جواب نفى ميں ديا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جاؤ اسے جا كر ديكھو، كيونكہ انصار كى آنكھوں ميں كچھ ہوتا ہے "

منسد احمد ( 2 299 ) صحيح مسلم ( 4 142 ) سنن نسائى ( 2 73 ).

3 - جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تم ميں سے كوئى شخص كسى عورت كو شادى كا پيغام دے تو اگر اس كو نكاح كى دعوت ديكھنے والى چيز ديكھنے كى استطاعت ہو تو وہ اسے ضرور ديكھے "

اسے ابو داود اور حاكم نے روايت كيا ہے، اور اس كى سند حسن ہے، اس كى شاہد محمد بن مسلمہ كى حديث ہے، اسے ابن حبان اور حاكم نے صحيح كہا ہے، اور احمد اور ابن ماجہ نے روايت كيا ہے، اور ابو حميد كى حديث بھى شاہد ہے جسے امام احمد اور بزار نے روايت كيا ہے.

ديكھيں: فتح البارى ( 9 / 181 ).

الزيلعى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور اس كے ليے عورت كا چہرہ اور ہاتھ چھونے جائز نہيں ـ چاہے شہوت كا خدشہ نہ بھى ہو ـ كيونكہ يہ حرام ہے، اور اس كى كوئى ضرورت بھى نہيں " اھـ

اور درر البحار ميں درج ہے:

" قاضى اور گواہ ، اور منگنى كرنے والے كے ليے عورت كو چھونا جائز نہيں، چاہے انہيں شہوت كا خدشہ نہ بھى ہو، كيونكہ چھونے كى كوئى ضرورت ہى نہيں " اھـ

ديكھيں: رد المختار على الدر المختار ( 5 / 237 ).

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس كے ليے عورت سے خلوت كرنى جائز نہيں، كيونكہ يہ حرام ہے اور شريعت ميں منگنى كرنے والے كے ليے ديكھنے كے علاوہ كچھ وارد نہيں، اس ليے يہ اصل يعنى حرام پر باقى ہے، اور اس ليے بھى كہ خلوت كى صورت ميں ممنوع اور حرام كام سے امن نہيں بلكہ اس كا خدشہ ہے.

اس ليے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" كوئى بھى مرد كسى عورت سے خلوت نہ كرے، كيونكہ ان ميں تيسرا شيطان ہوتا ہے "

اور نہ ہى منگنى كرنے والا شخص عورت كو لذت اور شہوت كى نظر سے ديكھے، اور نہ ہى شك كى نظر سے، صالح كى روايت ميں امام احمد كا قول ہے:

وہ اس كے چہرہ كو ديكھے، اور يہ نظر بطور لذت نہيں ہونى چاہيے.

اور وہ عورت كى جانب كئى بار نظر دوڑا سكتا ہے، اوراس كے محاسن پر غور كر سكتا ہے، كيونكہ اس كے بغير مقصد حاصل نہيں ہو سكتا " اھـ

دوم:

معاملات:

عورت كے ليے اپنا چہرہ اوردونوں ہاتھ خريد و فروخت كى ضرورت كے وقت ننگا كرنا جائز ہے، اسى طرح بائع كے ليے اس كے چہرے كو ديكھنا جائز ہے تا كہ فروخت كردہ چيز اس كے سپرد كى جائے، اور قيمت طلب كى جائے، يہ اس وقت تك ہے جب يہ فتنہ اور خرابى كا باعث نہ ہو، ليكن اگر خرابى پيدا ہو تو اس سے منع كيا جائيگا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور اگر عورت خريد و فروخت يا اجرت كا لين دين كرے تو مرد اس كے چہرے كو ديكھ سكتا ہے تا كہ اسے وہ بعينہ جان لے اور درك ( يعنى استحقاق بيع كے وقت قيمت كى ضمانت ہے ) اس عورت پر ہے، امام احمد سے نوجوان لڑكى كےمتعلق اسے كراہت مروى ہے، ليكن بوڑھى عورت كے متعلق نہيں، اور جو فتنہ اور خرابى كا خدشہ ركھے اس كے ليے بھى مكروہ ہے، يا پھر جو لين دين سے مستغنى ہو اس سے بھى، ليكن ضرورت كے وقت اور بغير شہوت كے اس ميں كوئى حرج نہيں "

ديكھيں: المغنى ( 7 / 459 ) الشرح الكبير على متن القنع بھامش المغنى ( 7 / 348 ) ، اور الھدايۃ مع تكملۃ فتح القدير ( 10 / 24 ).

اور الدسوقى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" نكاح وغيرہ ميں نقاب والى عورت پر گواہى كا عدم جواز عام ہے حتى كہ وہ چہرہ ننگا كر لے، مثلا بيع، ہبہ، قرض، وكالت، وغيرہ اور ہمارے شيخ نے بھى اسے ہى اختيار كيا ہے "

حاشيۃ الدسوقى على الشرح الكبير ( 4 / 194 ).

سوم:

علاج معالجہ:

عورت كے ليے چہرہ سے مرض والى جگہ كو ننگا كرنا جائز ہے، يا بدن كے كسى بھى حصہ كو علاج كرنے والے ڈاكٹر كے سامنے ننگا كر سكتى ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ عورت كا خاوند يا محرم موجود ہو، يہ اس حالت ميں ہے جب علاج كے ليے ليڈى ڈاكٹر نہ ملے، كيونكہ ايك جنس يعنى عورت كا عورت كو ديكھنا خفيف اور ہلكا ہے، اور يہ بھى كہ مسلمان ڈاكٹر كے ہوتے ہوئے ڈاكٹر غير مسلم نہ ہو جس سے علاج كرانا ممكن ہو.

اور پھر عورت كے ليے بيمارى والى جگہ سے زائد كو ننگا اور ظاہركرنا جائز نہيں، اور نہ ہى ڈاكٹر كے ليے ضرورت سے زيادہ چھونا اور ديكھنا جائز نہيں، كيونكہ يہ معاملہ اور حكم صرف ضرورت پر مقتصر ہے جسے ضرورت كے مطابق پر ہى ركھا جائيگا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" طبيب كے ليے بقدر ضرورت عورت كےجسم كو ديكھنا جائز ہے، كيونكہ يہ ضرورت والى جگہ ہے.

اور عثمان رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہےكہ:

" ان كے پاس ايك بچہ لايا گيا جس نے چورى كى تھى، تو انہوں نے فرمايا: اس كى چادر كے نيچے ( يعنى زير ناف بالوں والى جگہ كو ديكھو جو بلوغت يا عدم بلوغت كى نشانى ہے ) ديكھو، تو انہوں نے ديكھا كہ ابھى بال نہيں اگے، تو انہوں نے ا سكا ہاتھ نہيں كاٹا "

ديكھيں: المغنى ( 7 / 459 ) اور غذاء الالباب ( 1 / 97 ).

اور ابن عابدين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" الجوھرۃ ميں ہے: اگر بيمارى شرمگاہ كے علاوہ عورت كے سارے بدن ميں ہو تو علاج كے وقت اس كى جانب ديكھنا جائز ہے، كيونكہ يہ ضرورت كى جگہ ہے، اور اگر شرمگاہ والى جگہ ہو تو چاہيے كہ عورت كو سكھائے جو اس كا علاج كرے، اوراگر علاج كے ليے عورت نہ ملے اور اس كى جان كا خطرہ ہو، يا اسے ايسى تكليف اور درد ہو اس كى برداشت سے باہر ہو تو وہ تكليف والى جگہ كےعلاوہ ننگى نہ كرے باقى سارے جسم كو چھپائے، اور پھر مرد ڈاكٹراسكا علاج كرے، اور اسے اپى نطريں نيچى ركھنا ہونگى، حسب استطاعت جسم صرف زخم اور تكليف والى جگہ ہى ديكھے.

ديكھيں: رد المختار ( 5 / 237 ) اور الھدائيۃ العلائيہ ص ( 245 ).

اور اسى طرح جو اس ملا ہو جو مريض كى خدمت كرے، چاہے وہ عورت ہى ہو اسے وضوء اوراستنجاء وغيرہ كروائے.

ديكھيں: غذاء الالباب ( 1 / 97 ).

محمد فؤاد كہتے ہيں:

" مرد كا عورت كا ـ سابقہ شروط كے ساتھ ـ علاج معالجہ كرنے كے جواز پر بخارى شريف كى درج ذيل حديث دلالت كرتى ہے.

ربيع بنت معوذ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" ہم رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ غزوات ميں شريك ہوتى اور لوگوں كو پانى پلاتيں اور ان كى خدمت كرتيں، اور شہداء اور زخميوں كو مدينہ واپس لاتيں "

صحيح بخارى ( 6 / 80 ) اور ( 10 / 136 ) فتح البارى.

اور اسى طرح انس رضى اللہ تعالى عنہ سے مسلم ( 5 / 196 ) اور ابو داود ( 7 / 205 ) اور ترمذى ( 5 / 301 ) ميں روايت كيا ہے اور اسے حسن صحيح كہا ہے.

امام بخارى رحمہ اللہ نے اس حديث پر باب باندھتے ہوئے كہا ہے:

" كيا مرد عورت اور عورت مرد كا علاج كر سكتى ہے "

ديكھيں: فتح البارى ( 10 / 136 ).

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس سے بطور قياس يہ اخذ كيا جا سكتا ہے كہ مرد عورت كا علاج كر سكتا ہے، ـ امام بخارى ـ نے بالجزم ا سكا حكم نہيں لگا، كيونكہ احتمال ہے يہ پردہ نازل ہونے سے پہلے ہو، يا پھر عورت اس كے ساتھ يہ كرتى ہو جو ا سكا خاوند يا محرم ہو.

اور مسئلہ كا حكم يہ ہے كہ: ضرورت كے وقت اجنبى كا علاج معالجہ كرنا جائز ہے، اوراسے بقدر ضرورت ہى ركھا جائيگا جو نظر كے متعلق ہو، اور ہاتھ وغيرہ سےمس كے متعلق "

ديكھيں: فتح البارى ( 10 / 136 ).

چہارم:

عورت كے ليے گواہ بنتے اور گواہى ديتے وقت چہرہ ننگا كرنا جائز ہے، اسى طرح قاضى كے ليے چہرہ كى طرف ديكھنا جائز ہے، تا كہ حقوق ضائع ہونے سے محفوظ رہيں.

شيخ دردير كہتے ہيں:

" نقاب پہننے والى عورت پر گواہى دينى جائز نہيں حتى كہ وہ چہرہ ننگا نہ كر لے، تا كہ وہ بعينہ اس كے اوصاف كى گواہى دے "

ديكھيں: الشرح الكبير للشيخ دردير ( 4 / 194 ).

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور گواہ كے ليے مشہود عليہ عورت كے چہرہ كو ديكھنا جائز ہے تا كہ بعينہ گواہى پورى ہو سكے.

امام احمد رحمہ اللہ كہتے ہيں: كوئى بھى گواہ كسى عورت كے خلاف گواہى نہ دے، مگر وہ اسے بعينہ پہچان نے لے "

ديكھيں: المغنى ( 7 / 459 ) اور الشرح الكبير على متن القنع ( 7 / 348 ) الھدايۃ مع تكلمۃ اير ( 10 / 26 ).

پنجم:

قضاء:

عورت كے حق ميں يا عورت كے خلاف فيصلہ كرنے والى قاضى كے سامنے عورت كے ليے چہرہ ننگا كرنا جائز ہے، اور فيصلہ كے وقت قاضى كو عورت كا چہرہ ديكھنا جائز ہے تا كہ وہ اس كى پہچان كرنے اور حقوق كو ضائع ہونے سے بچا سكے.

اور ... گواہى كےاحكام مكمل طور پر برابر برابر قضاء پر منطبق ہونگے كيونكہ يہ دونوں حكم كى علت ميں متحد ہيں "

ديكھيں: الدرر المختار ( 5 / 237 ) الھديۃ العلائيۃ ( 244 ) اور الھدايۃ مع تكملۃ فتح القدير ( 10 / 26 ).

ششم:

امتياز ركھنے والا بچہ جسے شہوت نہ ہو:

عورت كے ليے ـ ايك روايت ميں ـ امتياز كرنے اور غير شہوت والے بچہ كے سامنے وہ كچھ ظاہر كرنا جائز ہےجو وہ اپنے محرم مردوں كے سامنے ظاہر كرتى ہے، كيونكہ وہ بچہ عورتوں كى رغبت نہيں ركھنا، اور وہ بچہ يہ سب كچھ ديكھا سكتا ہے.

الشيخ ابو الفرج المقدسى كہتے ہيں:

" امتياز كرنے شہوت نہ ركھنے والے بچے كے ليے ايك روايت ميں عورت كى ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نيچے ديكھنا جائز ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ ان وقتوں كے علاوہ نہ تو تم پر كوئى گناہ ہے اور نہ ان پر، تم سب آپس ميں آپس ميں بكثرت ايك دوسرے كے پاس آنے جانے والے ہو ﴾النور ( 58 ).

اور اس سے اگلى آيت ميں اللہ تعالى نے فرمايا:

﴿ اورتمہارے بچے ( بھى ) جب بلوغ تكو پہنچ جائيں تو جس طرح ان كے اگلے لوگ اجازت مانگتے ہيں انہيں بھى اسى طرح اجازت مانگ كر آنا چاہيے ﴾النور ( 59 ).

تو يہ بالغ نابالغ ميں فرق كرنے پر دلالت كرتى ہے.

ابو عبد اللہ كہتے ہيں:

" ابو طيبہ نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بيويوں كو سنگى لگائى تو وہ بچے تھے "

اور دوسرى روايت ميں ہے:

" اگر وہ شہوت والا ہو تو نظر ميں اس كا حكم محرم مردوں جيسا ہو گا كيونكہ فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں ﴾النور ( 31 ).

ابو عبد اللہ كو كہا گيا:

بچے سے عورت كب اپنا سر چھپائيگى ؟

ان كا جواب تھا:

جب بچہ دس برس كا ہو جائے، تو جب وہ شہوت والا ہو تو وہ غير محرم كى طرح ہوگا كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جب تمہارے بچے بلوغت كو پہنچ جائيں ﴾النور ( 59 ).

اور ان سے ہى مروى ہے:

وہ اجنبى كى مانند ہوگا كيونكہ وہ شہوت ميں بالغ كے معنى ميں ہے جو كہ ديكھنے كى تحريم اور پردے كے كا مقتضى ہے.

اور اس ليے كہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ يا ايسے بچےجو عورتوں كے پردہ كى باتوں سے مطلع نہيں ﴾النور ( 31 ).

ليكن وہ بچہ جو امتياز نہيں كر سكتا اس سے كچھ بھى چھپانا واجب نہيں"

ديكھيں: الشرح الكبير على متن المقنع ( 7 / 349 ) اور المغنى ( 7 / 458 ) اور عذاء الالباب ( 1 / 97 ) بھى ديكھيں.

ہفتم:

جس كى ختم ہو چكى ہو.

جو اعضاء عورت اپنےمحرم كے سامنے ظاہر كر سكتى ہے وہ اعضاء اس شخص كے سامنے بھى ظاہركرنے جائز ہيں جس كى شہوت ختم اور ضائع ہو چكى ہو، كيونكہ اسے عورتوں كى كوئى حاجت ہى نہيں، اور نہ ہى وہ عورتوں كے متعلق سوچ و بچار كرتا ہے، اور اس مرد كے ليے بھى وہ اعضاء ديكھنے جائز ہيں.

ابن قدامہ كہتے ہيں:

" جس شخص كى بڑھاپے كى بنا پر شہوت ختم ہو چكى ہو، يا كسى بيمارى جس سے شفايابى كى اميد ہى نہ ہو، يا پھر كسى تكليف كى بنا پر يا خصى كرنے كى وجہ سے شہوت جاتى رہے.... اور وہ مخنث ( ہيجڑا ) جسے كوئى شہوت نہ ہو، ان سب كا حكم نظر ميں محرم كى طرح ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں ﴾النور ( 31 ).

يعنى جنہيں عورتوں كى كوئى حاجت و ضرورت نہيں.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں:

" يہ وہ شخص ہے جس سے عورتيں شرماتى نہيں "

اور ابن عباس سے ہى مروى ہے:

" يہ وہ مخنث اور ہيجڑا ہے جسے كوئى شہوت نہ ہو " يعنى وہ عضو كھڑا كرنے پر قادر نہ ہو "

اور مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ كہتے ہيں:

" وہ مرد جسے عورتوں كى كوئى حاجت اور ضرورت نہ ہو، اور اگر ہيجڑا شہوت ركھتا ہو اور عورتوں كے معاملات كو جانتا ہو تو اس كا حكم دوسرے مردوں جيسا ہے.

كيونكہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں:

" ازواج مطہرات كے پاس ايك ہيجڑا آيا لوگ اسے بغير شہوت والا مرد شمار كرتے تھے، تو ہمارے پاس نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم آئے تو وہ ہيجڑا ايك عورت كى اوصاف بيان كر رہا تھا كہ جب وہ آتى ہے تو چارس لوٹيں پڑتى ہيں، ا ور جب جاتى ہے تو آٹھ سلوٹيں پڑتى ہيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميرے خيال ميں نہ تھا كہ يہ يہاں تك جانتا ہے، اب يہ تمہارے پاس بالكل نہ آنے "

لہذا انہوں نے اسے آنے سے روك ديا "

اسے ابو داود وغيرہ نے روايت كيا ہے.

ابن عبد البر كہتے ہيں:

" مخنث اور ہيجڑا وہ نہيں جس ميں خاص كر فحاشى جانى جائے، بلكہ ہيجڑا وہ ہے جو خلقت و پيدائش ميں عورتوں كى جانب مائل ہو حتى كہ وہ بات چيت كى نرمى اور كلام اور نظر اور نغمہ و عقل ميں عورت كے مشابہ ہو، اگر وہ ايسا ہى ہو تو اسے عورتوں كى كوئى حاجت و ضرورت نہيں، اور نہ ہى وہ عورتوں كے اموركے متعلق كچھ سوچتا ہے، اور يہ ان غير شہوت مردوں ميں شامل ہوتا ہے جسے عورتوں كے پاس جانے كى اجازت دى گئى ہے.

كيا آپ ديكھتے نہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس مخنث اور ہيجڑے كو اپنى بيويوں كے پاس جانے سے منع نہيں فرمايا، ليكن جب اسے سنا كہ وہ غيلان كى بيٹى كےاوصاف بيان كر رہا تھا، اور عورتوں كے معالات كو سمجھتا تھا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے عورتوں كے پاس آنے سے منع كر ديا "

ديكھيں: المغنى ( 7 / 463 ) الشرح الكبير على متن المقنع ( 7 / 347 - 348 ).

ہشتم:

وہ بوڑھى عورت جس كى عمر كى عورتيں شہوت نہيں ركھتيں.

وہ بوڑھى عورت جو شہوت نہيں ركھتى اپنا چہرہ اور جو غالبا ظاہر ہوتا ہے وہ اجنبى مردوں كے سامنے ظاہر كر سكتى ہے، ليكن اس كےحق ميں بھى پردہ كرنا افضل ہے.

كيا آپ ديكھتے نہيں كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور وہ بڑى بوڑھى عورتيں جنہيں نكاح كى اميد ( اور خواہش ہى ) نہ رہى ہو وہ اگر اپنا دوپٹہ اتار ركھيں تو ان پر كوئى گناہ نہيں، بشرطيكہ وہ اپنا بناء سنگھار ظاہر كرنے والياں نہ ہوں، تا ہم اگر ان سے بھى احتياط ركھيں تو يہ ان كے ليے بہتر ہے ﴾النور ( 60 ).

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

وہ بوڑھى جس عمر كى عورتوں ميں اشتہا نہ ہو ان كے وہ اعضاء ديكھنا جو عام طور پر ظاہر ہوتے ہيں ديكھنے ميں كوئى حرج نہيں.

كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور وہ بوڑھى عورتيں جنہيں نكاح كى اميد ہى نہ رہى ہو ﴾.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ آپ مومن مردوں كو كہہ ديجيے كہ وہ اپنى نظروں كو نيچا ركھيں ﴾ النور ( 30 ).

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما اس آيت كي تفسير ميں كہتے ہيں:

" اور آپ مومنوں كو كہہ ديجيے كہ وہ اپنى نظروں كو نيچا ركھيں "

ان كا كہنا ہے: تو يہ منسوخ كر دى گئى اور اس ميں سے بوڑھى عورتوں كو مستثنى كيا گيا جو نكاح كى اميد نہيں ركھتيں .

اور بدصورت عورت جسے كوئى نہيں چاہتا وہ بھى اسى معنى ميں آتى ہے.

ديكھيں: المغنى ( 7 / 463 ) اور الشرح الكبير على متن المقنع ( 7 / 347 - 348 ).

نہم:

كافرہ عورتوں كے سامنے چہرہ ننگا كرنا.

اہل علم كے مابين مسلمان عورت كا كافرہ عورت كے سامنے اپنا چہرہ ننگا كرنے ميں اختلاف پايا جاتا ہے:

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" عورت كا عورت كے ساتھ حكم مرد كے ساتھ مرد كے برابر ہے، اور اس ميں مسلمان كا آپس ميں اور مسلمان اور ذمى كے مابين كوئى فرق نہيں، جس طرح ديكھنے ميں دو مسلمان مردوں كے مابين اور ايك مسلمان اور ايك ذمى كےمابين كوئى فرق نہيں.

امام احمد كہتے ہيں:

بعض لوگ كہتے ہيں كہ عورت يہودى اور عيسائى عورت كے سامنے اپنا دوپٹہ نہيں اتاريگى، ليكن ميں يہ كہتا ہوں كہ وہ شرمگاہ نہيں ديكھ سكتى، اور نہ ہى ولادت كے وقت وہاں ہو( يعنى وہ اس وقت نہ آئے كيونكہ وہ ولادت كے وقت عورۃ مغلظہ پر مطلع ہو گى، جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے كہ يہ ضرورت كے وقت ہو سكتا ہے ).

امام احمد سے ايك دوسرى روايت يہ بھى ہے كہ:

مسلمان عورت اپنا دوپٹہ ذمى عورت كے سامنے نہيں اتاريگى... كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

" يا ان كى عورتيں "

ليكن پہلى روايت اولى ہے، كيونكہ يہودى اور دوسرى عورتيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ازواج مطہرات كے پاس آتى تھيں اور وہ ان سے پردہ نہيں كرتى تھيں، اور نہ ہى انہيں پردہ كرنے كا حكم ديا گيا.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" ايك يہودى عورت ميرے پاس سوال كرنے آئى اور كہنے لگى: اللہ تعالى تجھےعذاب قبر سے محفوظ ركھے، تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے پوچھا.... " اور مكمل حديث بيان كى.

اور اسماء رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ميرى والدہ ميرے پاس آئيں تو وہ اسلام سے بےرغبتى كرنے والى تھيں، چنانچہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے پوچھا كيا ميں ان كے ساتھ صلہ رحمى كروں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: جى ہاں "

اور اس ليے بھى كہ مردوں اور عورتوں كے مابين پردہ كا تو كچھ معنى اور مقصد ہے، جو مسلمان عورت اور ذمى عورت كے مابين پردہ ميں نہيں پايا جاتا اس ليے ضرورى اور واجب ہے كہ ان دونوں كے مابين پردہ نہ ہو جس طرح كہ مسلمان مرد كا ذمى كے ساتھ ہے، اور اس ليے بھى كہ پردہ تو كسى نص يا قياس كے ساتھ واجب ہوتا ہے، ليكن يہاں ان دونوں ميں سےكوئى بھى نہيں.

اور رہا يہ فرمان بارى تعالى :

" يا ان كى عورتيں "

يہ احتمال ہے كہ اس سے مراد من جملہ سب عورتيں ہوں.

ديكھيں: المغنى ( 7 / 464 ) اور الشرح الكبير على متن المقنع بھامش المغنى ( 7 / 351 ).

ابن عربى المالكى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

( ميرے نزديك صحيح يہ ہے كہ يہ سب عورتوں كے ليے جائز ہے، ضمير صرف اتباع كے ليے آئى ہے، يہ آيت ضمير ہے، جبكہ پچيس ضميريں ايسى ہيں جن كى قرآن مجيد ميں كوئى نظير نہيں ملتى، تو يہ بطور اتباع آئى ہے "

ديكھيں: احكام ( 3 / 326 ).

اور علامہ آلوسى كہتے ہيں:

" فخر الرازى كا مسلك ہے كہ يہ مسلمان عورت كى طرح ہى ہے، ان كا كہنا ہے: مذہب يہى ہے كہ يہ مسلمان عورت كى طرح ہى ہے، اور ا نكى عورتوں سے مراد سب عورتيں ہيں، اور سلف كا قول استحباب پر محمول ہے.

پھر كہتے ہيں:

آج كے ايام ميں يہ قول لوگوں پر زيادہ نرم ہے، كيونكہ مسلمان عورتوں كا ذمى عورتوں سے پردہ كرنا ممكن نہيں "

ديكھيں: تفسير الآلوسى ( 19 / 143 ).

محمد فؤاد كہتے ہيں:

" اگر يہ قول ان كے دورميں لوگوں پر زيادہ نرم تھا، تو بلا شك و شبہ ہمارے دور اور زمانے ميں توا ور بھى زيادہ اولى اور نرمى اور آسانى ہوگا، خاص كر ان كے ليے جنہيں غير مسلموں كے ممالك ميں سخت قسم كے اسباب كى بنا پر رہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، مسلمان عورتيں ذمى عورتوں كے ساتھ مل جل گئيں ہيں، اور زندگى كے اسباب اور ظروف آپس ميں مل چكے ہيں، كہ ان ذمى عورتوں سے مسلمان عورتوں كا پردہ كرنا صعوبتوں اورمشكلات سے بھرا ہوا ہے، انا للہ و انا اليہ راجعون.

دہم:

عورت پر واجب ہے كہ وہ حج يا عمرہ كے موقع پر حالت احرام ميں اپنا چہرہ اور ہاتھ ننگے ركھے، اور اس حالت ميں اس پر نقاب اور دستانے پہننا حرام ہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" احرام والى عورت نہ تو نقاب پہنے، اور نہ ہى دستانے پہنے"

اور اگر قريب سے مردوں كے گزرنے كى بنا پر احرام والى عورت كو چہرہ ڈھانپنے كى ضرورت پڑے، يا وہ خوبصورت ہو اورمردوں كا اس كى جانب ديكھنا ثابت ہو جائے تو وہ اپنے سر سے كپڑا اپنے چہرے پر لٹكا لے.

كيونكہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں ہے وہ بيان كرتى ہيں:

" ہمارے پاس سے قافلہ سوار گزرتے اور ہم رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ احرام كى حالت ميں ہوتيں، تو جب وہ ہمارے برابر آتے ہم ميں سے عورتيں اپنى چادر اپنے سر سے اپنے چہرہ پر لٹكا ديتى، اور جب وہ ہم سے آگے نكل جاتے تو ہم چہرہ ننگا كر ديتيں "

الجزيرى ان سے حكايتا بيان كرتے ہيں:

" عورت كے ليے ضرورت كى بنا پر اپنا چہرہ ڈھانپنا جائز ہے مثلا قريب سے غير محرم اور اجنبى مرد گزريں، اور پردہ كا اس كے چہرے كے ساتھ لگنا اسے كوئى ضرر اور نقصان نہيں دےگا، اور اسميں وسعت ہے تو مشقت اور حرج كو رفع كرتى ہے "

ديكھيں: الفقہ على المذاھب الاربعۃ ( 1 / 645 ).

يہ وہ حالات ہيں جن ميں عورت فقھاء كى بيان كردہ تفصيل كے مطابق اپنا چہرہ اور ہاتھ ننگے كر سكتى ہے، اور اس تفصيل كو علماء نے بيان كيا ہے، ليكن يہاں ايك اور مسئلہ باقى ہے جو قابل التفات اور اہتمام ہے وہ يہ كہ:

" اكراہ اور جبر كى حالت ميں " جس كى بنا پر مسلمان عورت پر لازم كر ديا جائے كہ وہ اپنا چہرہ ننگا ركھے، اس كا حكم كيا ہو گا ؟

گيارہ:

اكراہ اور جبر كى حالت:

بعض مسلط كردہ نظاموں نے ظالمانہ احكام اور قوانين نافذ كر ركھيں ہيں، جو دين اسلام كے مخالف ہيں، اور اللہ اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے حكم كے خلاف اور زيادتى ہيں، ان قوانين اورنظام كى بنا پر مسلمان عورت كو پردہ كرنے سے منع كر ديا گيا ہے، بلكہ بعض كى حالت تو يہاں تك پہنچ چكى ہے كہ عورتوں كے چہروں سے حجاب اور اسكارف سختى كے ساتھ اتار ديا گيا ہے، اور ان مسلمان عورتوں كے خلاف برى ترين قسم كا قہر و جبر اور دہشت گردى اور تسلط پايا جاتا ہے.

جيسا كہ كچھ يورپى ممالك ميں نقاب اوڑھنے والى عورتوں پر تنگى كى گئى ہے.. اور بعض عورتيں كبھى اذيت سے دوچار ہوتى ہيں، تو كبھى اسلام يا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اذيت كا نشانہ بنايا جاتا ہے.

اس كو مدنظر ركھتے ہوئے عورت كے ليے بوقت ضرورت اور حاجت جو يقينى ہو، يا اس كے ظن غالب يہ ہو كہ اس سے تكليف واذيت حاصل ہو گى جو اس كى استطاعت و طاقت سے باہر ہو تو وہ چہرہ ننگا كر سكتى ہے.

برے قسم كے لوگوں سے اذيت و تكليف اور فتنہ و خرابى حاصل ہونے سے مرجوح قول كو لينا اولى و افضل ہے.

اور اگر مندرجہ بالا حالات ميں جو اكراہ و جبر كى حد تك نہي پہنچے ان ميں عورت كے ليے چہرہ ننگا كرنا جائز ہے، تو عورت كى ذات يا دين كو حاصل ہونے والى اذيت كى بنا پر چہر ننگا كرنا بالاولى جائز ہوا، خاص كر جب اس كا نقاب اسے اس حد تك لے جائے كہ وہ اس كے سر پردہ ہى اتار ديں يا پھر وہ اس پر زيادتى كا باعث بن جائے.

اور ضروريات ممنوعہ كام كو مباح كر ديتى ہيں، اور جو چيز ضرورت كى بنا پر مباح كى گئى ہو تو وہ چيز بھى بقدر ضرورت ہى مباح ہو گى، جيسا كہ اہل علم نے بيان كيا ہے.. اور اس معاملہ ميں كوئى سستى و كوتاہى نہيں كرنى چاہيے، اور جن حالات ميں مسلمان عورت رہ رہى ہے اس كا اندازہ اچھى طرح لگانا ضرورى ہے، اور اپنے علاوہ كسى اور عورت كے تجربہ اور موقف كو معتبر بنايا جائے، تا كہ اس كا صحيح ضرورت كے مطابق اندازہ ہو، جس ميں خواہش و كمزوى نہيں ہونى چاہيے.

اور جب مندرجہ بالا استثنائى حالات ميں عورت كے ليے اپنا چہرہ اور ہاتھ ننگا ركھنا جائز ہے، تو اس كے ليے سونے كے زيور پہن كر اور بناؤ سنگھار كر كے چہرہ ننگا كرنا حرام ہے، جبكہ اجنبى اور غير محرم مردوں كے سامنے اس كا اظہار جائز نہيں، يہ سب فقھاء كا متفق فيصلہ ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اور وہ اپنى زينت كو ظاہر مت كريں،اور اس ليے كہ كوئى ضرورت يا شديد حاجت اس كى طرف نہ لائے.

ديكھيں: حجاب المسئلہ بين انتحال المبطلين و تاويل الجاہلين ( 239 ).

اللہ تعالى سے سوال ہے كہ وہ سب مسلمانوں كے حالات كو درست فرمائے، اور ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments