22013: كچھ اشياء جن كے متعلق كہا جاتا ہے كہ ان ميں خنزير كى اجزاء استعمال ہوتے ہيں


ميں نے اخبار ميں پڑھا ہے كہ ميك اپ كى كئى قسم كى كريم وغيرہ ميں خنزير كے اجزاء شامل كيے جاتے ہيں ( مثلا لپ اسٹك، صابون، دوائى كے كيپسول وغيرہ ).
سوال يہ ہے كہ مجھے كيا كرنا چاہيے، آيا ميں كريم اور شيمپو وغيرہ استعمال كرنا چھوڑ دوں، حتى كہ اگر اس كے اجزائے تركيبى پڑھ بھى لوں تو مجھے اس كے مصدر كا علم نہيں ہوتا ؟

الحمد للہ:

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے بعض پملفٹوں كے متعلق دريافت كيا گيا جس ميں يہ بيان كيا گيا تھا كہ: صابن ميں خنزيز كى چربى پائى جاتى ہے، اس كے متعل آپ كى رائے كيا ہے ؟

تو شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اللہ تعالى نے زمين ميں جو كچھ بھى ہمارے ليے پيدا فرمايا ہے اصل ميں وہ حلال ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے ليے زمين كى تمام چيزوں كو پيدا كيا ﴾البقرۃ ( 29 )

اس ليے اگر كوئى شخص كسى چيز كى نجاست وغيرہ كى بنا پر دعوى كرے كہ يہ حرام ہے ت واسے اس كى دليل دينا ہو گى، اور يہ كہ ہم ہر وہم اور جو كچھ كہا جائے اس كى تصديق كريں، اس كى كوئى اصل نہيں "

ديكھيں: لقاء الباب المفتوح ( 31 / 20 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 26799 ) اور ( 13466 ) اور ( 26861 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments