Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
22205

سينما كى حلت و حرمت

سينما كے متعلق يہ كہنا كہ يہ حلال مال ميں شامل ہوتا ہے، اس قول كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

آج كے دور ميں سينما كے متعلق كوئى بھى مسلمان شك نہيں كر سكتا كہ يہ شر و برائى كا گھر ہے، اور اللہ تعالى كى حرام كردہ فاحشہ اور بے پرد ننگى اور مائل كرنے، اور مائل ہونے والى عورتوں كى تصاوير نشر كرتا ہے، بلكہ اكثر اوقات تو يہاں مرد و عورت كے مابين جنسى گناہ كى دعوت دى جاتى ہے، اور اس كے ساتھ ساتھ اس ميں گانے، اور موسيقى، اور مجرمانہ فلميں اور معاشرے كو تباہ كرنے والى فلميں بھى دكھائى جاتى ہيں، اور يہ سب كچھ ان حرام امور ميں شامل ہوتا ہے، جسے نشر كرنا اور اس كى ترويج اور ريلے كرنا حرام ہے، تو پھر جب يہ سب امور جمع ہو جائيں تو پھر كيا ہو گا ؟!

حاصل اور نتيجہ يہ ہوا كہ: جو سينما بھى ايسا ہو تو اس كے حرام ہونے اور اس سے حاصل ہونے والے مال كے حرام ہونے ميں كوئى شك نہيں، اور جو شخص يہ كہتا ہے كہ سينما سے حاصل ہونے والى كمائى حلال ہے، اسے چاہيے كہ وہ دور حاضر كے سينما كے كچھ حالات معلوم كرے تا كہ اسے اپنے اس خيال اور قول كے متعلق معلوم ہو كہ اس نے غلط بات كہى ہے.

اور پھر انسان كو اللہ تعالى كى جانب سے حرام كردہ چيز كو حلال كرنے سے اجتناب كرنا چاہيے، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم اپنى زبانوں سے يہ نہ نكالو كہ يہ حلال ہے اور يہ حرام، تا كہ اللہ كے ذمہ جھوٹ اور افتراء باندھو، يقينا وہ لوگ جو اللہ پر جھوٹ اور افتراء باندھتے ہيں وہ كبھى كامياب نہيں ہو سكتے، بہت ہى قليل نفع ہے اور ان كے ليے المناك عذاب ہے ﴾النحل ( 116 - 117 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments