Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
22636

كھيل كى داد دينے كا حكم

كھيل كلب اور كميٹيوں كو تقويت پہنچانے اور انہيں داد دينے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

سب تعريفات اللہ وحدہ كے ليے ہيں، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود و سلام كے بعد:

مسلمان شخص كو چاہيے كہ وہ اپنى زندگى كى حقيقت كو پہچانے، اور ان كاموں ميں مشغول رہے جس كى غرض سے اسے پيدا كيا گيا ہے، اور اس كى خلقت كى غرض و غايت اور مقصد تو صرف اللہ وحدہ لا شريك كى عبادت كرنا ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور ميں نے تو جن اور انسان كو صرف اپنى عبادت كے ليے ہى پيدا كيا ہے﴾.

اور اسے چاہيے كہ وہ اپنے آپ كو ايسے امور سے دور ركھے جو اس كے دين و دنيا كو نقصان ديں، اور اسے دنياوى اور اخروى امور سے دور كر كے ركھ ديں، مباح اشياء كے متعلق اہل علم كے ہاں قاصدہ اور اصول مقرر ہے كہ:

جو مباح چيز بھى كسى واجب چيز سے دور كر دے، يا پھر وہ حرام كام كے ارتكاب كا وسيلہ بنے تو وہ اس وقت حرام ہوگى، ليكن جو مباح چيز كسى مستحب چيز نہ تو اسے دور اور مشغول كرے، اور نہ ہى وہ حرام كے ارتكاب كا وسيلہ بنے تو وہ اس وقت مكروہ ہوگى، اور جو نہ تو اس سے مشغول اور دور كرے، اور نہ ہى اس سے تو وہ اصل پر رہتے ہوئے مباح ہو گى.

اور جو شخص ان داد دينے والوں كى حالت كو ديكھےگا وہ انہيں پائيگا كہ وہ داد دينے ميں منہمك ہوئے ہيں كہ بہت سارے واجبات سے ہى غافل ہو گئے ہيں، جن ميں نماز باجماعت كى ادائيگى نہ كرنا، اور بروقت نماز ادا كرنے كى بجائے، تاخير سے ادا كرنا وغيرہ ايسے امور ہيں جو كسى پر مخفى نہيں.

تو جب معاملہ اس حد تك پہنچ جائے تو پھر اس كے حرام ہونے ميں كوئى شك و شبہ نہيں رہتا، اس كے ساتھ اضافہ يہ بھى ہے كہ ايسا كرنے سے يہ كھيل دل ميں گھر كر جاتى ہے، اور دل اسى ميں مشغول رہتا ہے، اور اسى بنا پر محبت كى جاتى ہے، اور ناراضگى اور بغض ركھا جاتا ہے، اور اسى كے سبب دوستى و دشمني بھى ہونے لگتى ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ عبد الكريم الخضير
Create Comments