Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
22689

پاسپورٹ بنوانے كے ليے عورت كى تصوير اتارنے كا حكم

دعوت الى اللہ كا كام كرنے كے ليے خاوند كے ساتھ سفر پر جانے كے ليے عورت كا پاسپورٹ كى تصاوير بنوانا كيسا ہے ؟

الحمد للہ:

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" عورت كے ليے اپنے چہرے كى تصوير بنانے كى اجازت دينا جائز نہيں، نہ تو پاسپورٹ كے ليے اور نہ ہى كسى اور غرض كے ليے كيونكہ عورت كا چہرہ ستر ميں شامل ہے، اور اس ليے بھى كہ پاسپورٹ وغيرہ ميں عورت كى تصوير كا موجود ہونا فتنہ و فساد اورخرابى كا باعث ہے... ليكن اگر اس كى ضرورت پيش آ جائے " اھـ مختصرا.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 1 / 496 ).

اس بنا پر يہ كہا جائيگا كہ:

اگر تو عورت كے جانے كا مقصد دعوت الى اللہ ہے، تو يہ ان ضرورات ميں شامل نہيں جو اس فعل كو مباح كر دے، باہر كے ملكوں ميں عورتيں مساجد اور اسلامى مراكز ميں آتى اور وہاں موجود خطباء و علماء كى باتيں سنتى ہيں، اس ليے اس بات كى كوئى ضرورت نہيں كہ عورت اپنے آپ كو فتنہ اور بعض حرام كاموں ميں ڈالے، اور خاص كر جس ملك ميں وہ رہ رہى ہے وہاں ضرورت موجود ہے، اس ليے اسے اپنے ارد گرد مسلمان بہنوں ميں دين كا كام كرنا چاہيے، اميد ہے اللہ تعالى اس سے لوگوں كو نفع دے.

اور اگر يہ مقصد ہے كہ مرد دعوت الى اللہ كے ليے نكلنا چاہتا ہے اور اپنى بيوى كو بھى ساتھ لے جائيگا، تو اس حالت ميں مدت كو ديكھا جائيگا كہ وہ كتنى مدت باہر رہنا چاہتا ہے، اس ليے مدت مختلف ہونے كے اعتبار سے اس كا حكم بھى مختلف ہو گا.

چنانچہ اگر تو لمبى اور طويل مدت كے ليے جانا چاہتا ہے تو پھر اپنے ساتھ بيوى كو لے جانے ميں كوئى حرج نہيں، تا كہ اپنے آپ كو فتنہ و فساد سے محفوظ ركھ سكے.

اور اگر وہ تھوڑى اور قليل مدت كے ليے جانا چاہتا ہے تو پھر اپنے ساتھ بيوى كو نہ لے كر جائے، اور اگر اسے اپنے آپ پر فتنہ و فساد ميں پڑنے كا خدشہ ہے تو پھر وہ جائے ہى نہ، بلكہ اپنے ارد گرد جہاں وہ رہائش پذير ہے اسى علاقے اور شہر ميں دعوت الى اللہ كا كام كرے.

اللہ تعالى سے ہم دعا گو ہيں كہ وہ سب كو ايسے اعمال كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جس ميں اس كى رضا ہے، اور جن اعمال كو وہ پسند كرتا ہے. واللہ تعالى اعلم.

الشيخ خالد السبت
Create Comments