Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
22722

دعاء اور قرآت قرآن كے ليے اجتماع كرنے كا حكم

ہمارى مسجد ميں دعاء اور اجتماع كے متعلق اختلاف پيدا ہو گيا وہ اس طرح كہ قرآن مجيد كے سپارے لوگوں ميں تقسيم كيے جاتے ہيں اور ہر شخص وہاں سپارہ پڑھتا ہے حتى كہ پورا قرآن ختم كيا جاتا ہے پھر وہ لوگ دعاء كسى معين مقصد اور غرض كى كاميابى كے ليے دعا كرتے ہيں مثلا امتحان وغيرہ ميں تو كيا يہ طريقہ صحيح ہے اور شريعت سے ثابت ہے ؟
برائے مہربانى كتاب و سنت اور سلف كے اجماع سے دلائل كے ساتھ جواب عنائت فرمائيں.

الحمد للہ:

يہ سوال دو مسئلوں پر مشتمل ہے:

پہلا مسئلہ:

تلاوت قرآن كے ليے اجتماع كرنا وہ اس طرح كہ ہر شخص قرآن مجيد كا ايك سپارہ پڑے حتى كہ سارا قرآن ختم ہو اور ہر ايك كے پاس جو سپارہ ہے وہ مكمل كر لے.

اس كا جواب مستقل فتاوى كميٹى كے درج ذيل بيان ميں ہے:

" اول:

تلاوت قرآن كے ليے جمع ہونا اور اس طرح قرآن مجيد كى تلاوت كرنا كہ ايك شخص پڑھے اور دوسرے سنيں اور جو انہوں نے پڑھا ہے اسے ايك دوسرے كو سنائيں اور اس كے معانى پر سوچ و بچار كريں يہ مشروع اور اللہ كا قرب ہے جسے اللہ تعالى پسند فرماتا ہے.

اس كى دليل مسلم شريف كى درج ذيل حديث ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو لوگ اللہ كے گھروں ( مساجد )ميں كسى گھر ( مسجد ) ميں جمع ہو كر كتاب اللہ كى تلاوت كرتے اور اسے آپس ميں پڑھتے پڑھاتے ہيں تو ان پر سكينت نازل ہوتى ہے، اور انہيں رحمت ڈھانپ ليتى ہے، اور فرشتے انہيں گھير ليتے ہيں، اور اللہ تعالى ان كا ذكر ان ميں كرتا ہے جو اس كے پاس ہيں "

اسے مسلم اور ابو داود نے روايت كيا ہے.

اور قرآن مجيد ختم كرنے كے بعد دعا كرنا بھى مشروع ہے ليكن پر ہميشگى نہيں كرنى چاہيے اور نہ ہى كسى معين صيغے اور كلمات كى پابندى كرنى چاہيے كہ يہ سنت محسوس ہو، كيونكہ ايسا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے تو ثابت نہيں ليكن بعض صحابہ نے اس پر عمل كيا ہے.

اور اسى طرح اس تلاوت ميں حاضر افراد كو كھانے كى دعوت دينے ميں بھى كوئى حرج نہيں جبكہ اسے قرآت كے بعد عادت نہ بنا ليا جائے.

دوم:

اس اجتماع ميں حاضر افراد ميں سے ہر ايك شخص كو ايك پارہ پڑھنے كے ليے دينا اسے قرآن ختم ہونا شمار نہيں كيا جائيگا.

اور ان كا تبرك كے مقصد سے قرآن مجيد پڑھنا كمى و كوتاہى ہے، كيونكہ قرآت كا مقصد تو اللہ كا قرب اور حفظ قرآن اور اس كے معانى و احكام پر غور و فكر اور تدبر اور اس پر عمل ہے، اور اس كے ساتھ ساتھ اجروثواب كا حصول اور زبان كو قرآن مجيد كى تلاوت كرنے پر تيار كرنا اور سكھنا ہے.... اس كے علاوہ بھى كئى ايك فوائد ہيں.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے " اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 2 / 480 ).

دوسرا مسئلہ:

يہ اعتقاد ركھنا كہ اس فعل ( تلاوت قرآن كے ليے سوال ميں مذكورہ طريقہ پر جمع ہونے ) ميں دعا كى قبوليت ميں كوئى اثر پايا جاتا ہے، اس اعتقاد كى كوئى دليل نہيں ملتى، اور يہ غير مشروع ہے جائز نہيں، اور دعا كى قبوليت كے بہت سارے اسباب ہيں جو معروف و معلوم ہيں، اور اسى طرح دعا كى عدم قبوليت يعنى دعا كى قبوليت ميں مانع كے اسباب بھى معروف ہيں.

اس ليے دعاء كرنے والے كو چاہيے كہ وہ دعاء كى قبوليت كے اسباب پيدا كرے اور دعاء كى عدم قبوليت كے اسباب سے اجتناب كرے، اور اپنے پروردگار كے ساتھ اچھا ظن و گمان ركھے اور بندے كا رب اس كے گمان كے مطابق ہے.

مزيد آپ سوال نمبر (5113 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

تبيہ:

دليل تو اس سے طلب كى جاتى ہے جو كوئى شرعى امور ميں سے شرعى امر ثابت كرتا ہے، وگرنہ عبادات ميں اصل ممانعت پائى جاتى ہے حتى كہ اس كى مشروعيت كى دليل مل جائے، اہل علم كا فيصلہ يہى ہے، اس بنا پر اس اعتقاد كے عدم مشروع ہونے كى دليل يہ ہے كہ اس كے جائز ہونے كى كوئى دليل نہيں پائى جاتى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments