22760: کیا خاونداختیار کرنے میں مجھ پر والد کی اطاعت واجب ہے اورمیں ان کے اخلاق میں تبدیلی کیسے لاؤں


والد صاحب چاہتے ہیں کہ بیٹی کے لیے خاوند بھی اپنی شھریت کا ہو ، وہ ہمارے ہر قسم کے معاملات میں حکم چلانا پسند کرتے ہیں ، کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ کوئي ایسی دلیل پیش کریں کہ لڑکی کوخاوند اختیار کرنے کا حق ہے چاہے وہ کسی بھی ملک کی شھریت رکھتا ہو صرف یہ ہے کہ وہ صالح اورنیک اوراچھی طبیعت کا مالک ہونا چاہیے ؟
میرے والد صاحب کا خیال ہے کہ بچی کوخاوند کے اختیار میں کوئي حق نہیں یہ حق صرف بچی کے والد کو ہے ، لیکن میرے خيال میں وہ صرف اسے اختیار کریں گے جو ان کے ملک کی شھریت رکھتا ہو ، کیا بچی کے لیے جائز ہے کہ اگر وہ مناسب شخص پالےتواسے اپنا خاوند اختیار کرے جب کہ کفو بھی رکھتا ہے چاہے والد صاحب شھریت کی وجہ سے موافق نہ بھی ہوں ؟
اورپھر والد صاحب دین کے معاملہ میں بھی ایسا شخص اختیار کرینگے جوکہ ان کی خواہش کے مطابق ہو ، وہ لوگوں کواپنی طاقت وثروت اورنام دکھانا پسند کرتے ہیں ، توکیا ایسا ممکن ہے کہ کوئي ایسی دعا بتائيں جس کے پڑھنے سے والد صاحب کااخلاق بہتر ہوجائے اوروہ ایک سہل پسند بن جائيں تا کہ معاملات کرنے میں آسانی پیدا ہو ؟ تعاون کی دوخوست کی جاتی ہے ۔

الحمد للہ
اول :

جمہور علماء کرام کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ نکاح کی شروط میں ولی کا ہونا بھی ایک شرط ہے ، عورت کا نکاح ولی کے بغیر صحیح نہیں ، اس کی تفصیل کے لیے آپ سوال نمبر ( 2127 ) کے جواب کا مراجعہ کریں ۔

اورولی کے لیے سب سے زيادہ حقدار شخص والد ہی ہے ، لیکن اگر اس میں ولی بننے کی اہلیت نہ ہو اوریہ ثابت ہوجائے کہ والد ولی بننے کا اہل نہیں توپھر ولایت ساتھ والے میں منتقل ہوجائے گی مثلا دادا وغیرہ ، اس مسئلہ کی تفصیل اوردلائل معلوم کرنے کے لیے آپ سوال نمبر ( 7193 ) اور( 31119 ) کے جوابات کا مراجعہ کریں ۔

دوم :

صفات شرعیہ اورشروط جوکہ خاوند میں ہونا ضروری ہیں ان میں سب سے اہم دین ہے ، جس کے بارہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( جب تمہارے پاس ایسا شخص آئے جس کا دین اوراخلاق تمہیں پسند ہو تو اس کا نکاح کردو ، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں بہت فساد اورفتنہ کھڑا ہوجائے گا ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1005 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی ( 1084 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 6942 ) اور ( 5202 ) کے جوابات کا بھی مراجعہ کریں ۔

سوم :

نکاح کی شرعی شروط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ہونے والی بیوی کی رضامندی بھی شامل ہونی چاہیے ۔

اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( ایم عورت ( جوکہ پہلے شادی شدہ ہو ) کی شادی اس سے اجازت لینے سے قبل نہ کی جائے ، اور کنواری لڑکی سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام نے عرض کی کہ اس کی اجازت کس طرح ہوگي ؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( کنواری ) کی اجازت اس کی خاموشی ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4741 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2543 ) ۔

اس طرح کسی کے لیے بھی یہ جائز نہيں کہ وہ اسے کسی بھی شخص سے شادی کرنے پر مجبور کرے ، اوراسی طرح لڑکی کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ ولی کی اجازت کے بغیر خود ہی شادی کرلے ۔

لھذا صحت نکاح کے لیے ولی کی موجودگی شرط ہے ، اورلڑکی جس سے نکاح نہیں کرنا چاہتی اسے اس کے ساتھ نکاح کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ، اورایسا کرنے سے اسے نافرمان شمار نہيں کیا جائے گا ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

والدین کواس بات کی اجازت نہیں کہ وہ بچے کا اس سے نکاح کریں جسے وہ نہیں چاہتا ، اگر وہ نکاح سے رک جاتا ہے تواس سےوہ عاق اورنافرمان شمار نہیں ہوگا ، جس طرح اگرکوئي چیز نہیں کھانا چاہتا تواس کا کھانا ۔ الاختیارات ص ( 344 ) ۔

چہارم :

آپ کے والد اورجس پر وہ قائم ہیں کے بارہ میں ہم یہ نصیحت کرینگے کہ :

اول :

ان کی غیر موجودگی میں ان کے لیے دعا کرنا ، یہاں کوئي معین اورخاص دعا نہیں بلکہ آپ یہ دعا کریں کہ اللہ تعالی ان کی اصلاح فرمادے ، اوران کاشرح صدر کر دے ۔

دوم :

والد کے کچھ دوست واحباب سے مدد و تعاون لیں یا پھر رشتہ داروں کےذریعہ جن پر وہ بھروسہ کرتے ہیں کہ ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں ۔

سوم :

حسب استطاعت اپنی زبان میں تقاریر کی کیسٹیں اورکتابیں حاصل کریں جن میں اخلاق حسنہ اختیار کرنے کی ترغیب دی گئي ہو اوربرے اخلاق کی نقصانات بیان کیے گئے ہوں ، اوریہ اپنے والد کوکسی اچھے سے اسلوب کے ساتھ بطور ھدیہ پیش کریں ہوسکتا ہے اللہ تعالی اسے ان کی اصلاح کا سبب بنا دے ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ آپ کواپنی رضا اورمحبوب کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments