Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
22809

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كرنے والے كا حكم

ميں نے ايك كيسٹ ميں سنا كہ جس نے بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كيا اسے قتل كيا جائےگا، چاہے وہ توبہ كا اظہار بھى كرے، تو كيا اسے بطور حد قتل كيا جائے گا يا بطور كفر؟
اور اگر اس كى توبہ سچى اور خالص ہو تو كيا اللہ تعالى اسے معاف كر دے گا، يا كہ اس كے ليے كوئى توبہ نہيں اور وہ جہنم ميں ہے ؟

الحمد للہ :

اس سوال كا جواب مندرجہ ذيل دو مسئلوں ميں ہو گا:

پہلا مسئلہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كرنے والے كا حكم.

علماء كرام كا اجماع ہے كہ مسلمانوں ميں سے جس نے بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كيا وہ كافر و مرتد اور واجب القتل ہے.

اس اجماع كو كئى ايك اہل علم نے نقل كيا ہے، مثلا امام اسحق بن راہويہ، اور ابن منذر، اور قاضى عياض، اور امام خطابى رحمہم اللہ جميعا وغيرہ

ديكھيں: الصارم المسلول على شاتم الرسول ( 2 / 13 - 16 ).

اس حكم پر قرآن و سنت بھى دلالت كرتى ہے:

كتاب اللہ سے دلائل:

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

منافقوں كو ہر وقت اس بات كا كھٹكا لگا رہتا ہے كہ كہيں مسلمانوں پر كوئى سورۃ نہ نازل ہو جائے جو ان كے دلوں كى باتيں انہيں بتلا دے، كہہ ديجئے كہ تم مذاق اڑاتے رہو، يقينا اللہ تعالى اسے ظاہر كرنے والا ہے، جس سے تم ڈر اور دبك رہے ہو.

﴿ اور اگر آپ ان سے پوچھيں تو صاف كہہ ديں گے كہ ہم تو يونہى آپس ميں ہنسى مذاق كر رہے تھے، كہہ ديجئے كہ كيا اللہ تعالى، اور اس كى آيات، اور اس كا رسول ہى تمہارے ہنسى مذاق كے ليے رہ گئے ہيں؟

تم بہانے نہ بناؤ يقينا تم اپنے ايمان كے بعد بے ايمان اور كافر ہو گئے ہو التوبۃ ﴾( 64 - 66 ).

يہ آيت اللہ تعالى اور اس كى آيات اور اس كے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ استھزاء اور مذاق كرنےكے كفر پر نص ہے، لھذا سب و شتم تو بالاولى كفر ہو گا، اور يہ آيت كريمہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى توہين اور تنقيص كرنے والے كے كفر پر بھى دلالت كرتى ہے، چاہے وہ توہين يا تنقيص بطور مذاق كرے يا حقيقتا.

سنت نبويہ ميں سے دلائل:

ابو داود نے على رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:

ايك يہودى عورت نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كيا كرتى اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى توہين كرتى تھى، تو ايك شخص نے اس كا گلا گھونٹ كر اسے مار ديا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كا خون باطل اور رائگاں قرار ديا"

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4362 ).

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى " الصارم المسلول ميں كہتے ہيں:

يہ حديث جيد ہے، اور اس ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ كى آگے آنے والى حديث اس كى شاہد ہے. اھـ

ديكھيں: الصارم المسلول على شاتم الرسول ( 2 / 126 ).

يہ حديث اس يہودى عورت كو نبى صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كرنے كى پاداش ميں قتل كرنے كے جواز ميں نص ہے.

اور ابو داود رحمہ اللہ تعالى نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ:

" ايك نابينے آدمى كى ام ولد ( لونڈى ) تھى جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم اور ان كى توہين كرتى تھى، وہ نابينا اسے روكتا ليكن وہ باز نہيں آتى تھى، وہ اسے ڈانٹتا ليكن پھر بھى وہ نہ ركتى، ايك رات وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كرنے لگى تو نابينے آدمى نے چھوٹى تلوار لے كر اس كے پيٹ ميں ركھى اور اس پر سہارا لے كر اسے قتل كر ديا، اور جب صبح ہوئى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے يہ واقع ذكر كيا گيا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كو جمع كر كے فرمايا:

" ميں اس شخص كو اللہ كى قسم ديتا ہوں اس نے جو كيا سو كيا ميرا اس پر حق ہے، وہ كھڑا ہو جائے"

تو وہ نابيان آدمى كھڑا ہو كر كہنے لگا ميں اس كا مالك ہوں، وہ آپ پر سب و شتم اور آپ كى تنقيص و توہين كرتى تھى، ميں اسے روكتا ليكن وہ باز نہيں آتى تھى، اور ميں اسے ڈانٹتا بھى ليكن وہ ركتى، اور اس سے ميرے موتيوں جيسے دو بيٹے بھى ہيں، اور وہ ميرے ساتھ بہت نرمى كرتى تھى، كل رات بھى وہ آپ پر سب وشتم كرنے اور آپ كى توہين كرنے لگى، تو ميں نے چھوٹى تلوار لے كر اسے اس كے پيٹ ميں ركھا اور اس پر سہارا لے ليا حتى كہ اسے ميں نے قتل كر ديا، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم گواہ رہو اس كا خون رائيگاں ہے"

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 3655 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ظاہر ہے كہ وہ عورت مسلمان نہ تھى بلكہ كافرہ تھى، كيونكہ مسلمان عورت ايسا شنيع جرم نہيں كرسكتى، اور اس ليے بھى كہ اگر وہ مسلمان تھى تو اس فعل كى بنا پر مرتد ہو گئى، اور اس وقت اس كے مالك كے ليے اسے ركھنا جائز نہيں اور اسے اس سے روكنا ہى كافى ہے.

اور نسائى رحمہ اللہ تعالى نے ابو برزہ اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں:

ايك آدمى نے ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ سخت لہجہ اختيار كيا تو ميں نے كہا: كيا ميں اسے قتل كردوں؟

تو انہوں نے مجھے ڈانٹا اور كہنے لگے:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بعد يہ كسى كے ليے بھى نہيں ہے"

صحيح نسائى حديث نمبر ( 3795 ).

اس سے يہ معلوم ہوا كہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ حق تھا كہ جو ان كے ليے سخت رويہ اختيار كے يا سب و شتم كرے وہ اسے قتل كرديں، اور يہ اپنے عموم كے اعتبار سے مسلمان اور كافر دونوں كو شامل ہے.

دوسرا مسئلہ:

جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كرنے والا شخص توبہ كرلے تو كيا اس كى توبہ قبول ہو گى يا نہيں؟

علماء كرام كا اتفاق ہے كہ جب وہ پكى اور خالص توبہ كرے، اور اپنے فعل پر نادم ہو، تو اسے روزہ قيامت يہ توبہ فائدہ دے گى، اور اللہ تعالى اسے بخش دينگے.

اور دنيا ميں اس كى توبہ قبول ہونے اور اس سے قتل ساقط ہونے ميں علماء كرام نے اختلاف كيا ہے:

امام مالك، امام احمد رحمہما اللہ تعالى كے نزديك اس كى توبہ قبول نہيں ہو گى، اگرچہ وہ توبہ كر بھى لے اسے قتل كيا جائےگا.

انہوں نے صحيح حديث اور نظر صحيح سے استدلال كيا ہے:

سنت نبويہ ميں ان كى دليل ابو داود كى مندرجہ ذيل حديث ہے:

سعد بن ابى وقاص رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں فتح مكہ كے دن رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چار آدميوں اور دو عورتوں كے علاوہ باقى سب كو امن ديا، اور ان كا نام بھى ليا، اور ابن ابى سرح، اور لمبى حديث ذكر كى:

اور ابن ابى سرح عثمان بن عفان رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس چھپ گيا، جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كو بيعت كے ليے بلايا تو عثمان رضى اللہ تعالى عنہ اسے لے كر آئے اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس لا كھڑا كيا اور كہنے لگے:

اے اللہ تعالى كے نبى صلى اللہ عليہ وسلم عبد اللہ سے بعيت لے ليجئے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنا سر اٹھايا اور اس كى طرف ديكھا، ايسا تين بار ہوا اور ہر بار نبى صلى اللہ عليہ وسلم انكار كرتے رہے، اور پھر تين بار ايسا كرنے كے بعد اس سے بعيت لى، اور پھر اپنے صحابہ سے متوجہ ہو كر فرمانے لگے:

" كيا تم ميں كوئى بھى عقلمند آدمى نہيں تھا، جب اس نے ديكھا كہ ميں اس سے بعيت نہيں لے رہا تو وہ اسے اٹھ كر قتل كر ديتا؟

تو صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہم نے عرض كيا: ہميں تو علم نہيں تھا كہ آپ كے دل ميں كيا ہے؟ آپ نے اپنى آنكھ كے ساتھ ہمارى طرف اشارہ كيوں نہ كيا؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" نبى كے شايان شان نہيں كہ وہ آنكھوں كى خيانت كرے"

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 2334 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

اس طرح كے مرتد اور طعن كرنے والے شخص كى توبہ قبول نہ ہونے ميں يہ حديث نص ہے، بلكہ اگر وہ توبہ كرتا ہوا آئے تو اسے قتل كرنا جائز ہے.

اور عبد اللہ بن سعد كاتبين وحى ميں شامل تھا وہ مرتد ہو گيا اور اس كا گمان تھا كہ وہ وحى ميں جو چاہتا زيادہ كرديتا تھا، جو كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر جھوٹ اور بہتان ہے، اور يہ سب و شتم كى ايك قسم ہے، پھر اس نے اسلام قبول كر ليا اور بہت اچھا اسلام پر عمل كيا، تو اللہ تعالى اس سے راضى ہو.

ديكھيں: الصارم المسلول ( 115 ).

اور نظر صحيح كى دليل يہ ہے كہ:

ان كا كہنا ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كے متعلقہ دو حق ہيں؛ ايك تو اللہ تعالى كا حق ہے، اور دوسرا حق آدمى كا ہے، اللہ تعالى كا حق تو ظاہر ہے، وہ يہ كہ اس كى رسالت اور كتاب اور اس كے دين ميں جرح اور آدمى كا حق بھى ظاہر ہے، كہ اس نے اس سب و شتم كے ساتھ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى تنقيص و و توہين ہے، اور سزا كا تعلق جب اللہ تعالى اور آدمى كے حق كے ساتھ ہو تو وہ توبہ كے ساتھ ساقط نہيں ہوتى، مثلا ڈاكو كى سزا، كيونكہ جب ڈاكو قتل كرے تو اسے حتما قتل كيا جائےگا اور اسے سولى بھى چڑھايا جائےگا، پھر اگر وہ پكڑے جانے سے قبل توبہ كر لے تو توبہ سے اللہ تعالى كا حق ساقط ہو جائےگا، اور آدمى كا قصاص كا حق باقى رہے گا، تو يہاں بھى ايسى طرح ہے.

جب سب و شتم كرنے والا شخص توبہ كر لے تو اس كى توبہ سے صرف اللہ تعالى كا حق ساقط ہو گا، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا حق ساقط نہيں ہو گا.

اگر يہ كہا جائے كہ: كيا يہ ممكن نہيں ہم اسے معاف كرديں؟ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى زندگى ميں سب و شتم كرنے والے بہت سارے لوگوں كو معاف كر ديا اور قتل نہيں كيا.

تو اس كا جواب يہ ہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم بعض اوقات سب و شتم كرنے والے كو معاف كر ديتے، اور بعض اوقات جب اس ميں كوئى مصلحت ديكھتے تو اسے قتل كرنے كا حكم ديتے، اور اب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى موت كے ساتھ ان كى معافى حاصل ہونا ممكن نہيں، تو اس طرح سب و شتم كرنے والے كو قتل كرنا صرف اللہ تعالى اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا حق باقى رہا اور مومنوں كو قتل كے مستحق كو معاف كرنا جائز نہيں، لھذا اسے نافذ كرنا واجب ہے.

ديكھيں: الصارم المسلول على شاتم الرسول ( 2 / 438 ).

خلاصہ كلام يہ ہوا كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كرنا عظيم حرام كاموں ميں شامل ہوتا ہے، اور بالاجماع يہ كفر اور اسلام سے ارتداد ہے، چاہے ہنسى مذاق ميں ہو يا حقيقتا، اور اس كے مرتك كو قتل كيا جائے گا چاہے وہ توبہ بھى كر لے، چاہے وہ مسلمان ہو يا كافر.

پھر اگر وہ سچى اور خالص توبہ كر لے، اور اپنے كيے پر نادم بھى ہو، تو يہ توبہ اسے روز قيامت فائدہ دے گى، اور اللہ تعالى اسے بخش دے گا.

اس مسئلہ ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كى بہت ہى نفيس اور قيمتى كتاب ہے اور وہ ( الصارم المسلول على شاتم الرسول ) ہے، ہر مومن مسلمان شخص كو اس كتاب كا مطالعہ كرنا چاہيے، اور خاص كر اس دور اور زمانے ميں جب كہ بہت سے منافقوں اور ملحدوں نے جب مسلمانوں كى سستى اور بزدلى اور ان كى دينى غيرت اور نبى عليہ وسلم كے متعلق غيرت ميں كمى ، اور شرعى سزاؤں كى تنفيذ نہيں ديكھى جو ان جيسے لوگوں كو ايسے فعل سے باز ركھتى اور اس صريح كفر كے ارتكاب سے دور ركھتى انہوں نے تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر سب و شتم كى جرات كرنا شروع كردى ہے.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ اس كى اطاعت و فرمانبردارى كرنے والوں كو عزت سے نوازے، اور معصيت و نافرمانى كرنے والوں كو ذليل و رسوا كرے.

واللہ تعالى اعلم، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments