22843: مسلسل ہوا خارج ہونا اور وضوء ٹوٹنا


مجھے مسلسل ہوا خارج ہونے كى مشكل درپيش ہے، تو كيا قيام كے بعد نماز فجر كے ليے مجھ پر وضوء كرنا واجب ہے، اور اسى طرح چاشت كى نماز كے ليے بھى ؟
ميرے ليے ايسا كرنا مشكل ہے كيونكہ كثرت سے پانى استعمال كرنے كى بنا پر مجھے بيمارى لگ چكى ہے.
آپ سے گزارش ہے كہ ميرے سوال كا جتنى جلدى ممكن ہو جواب ديں، كيونكہ ميں نماز كے متعلق بہت پريشان ہوں پتہ نہيں كہ اللہ تعالى قبول كرتا ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اول:

اگر تو پانى استعمال كرنے سے آپ كو بيمار كرديتا ہے تو آپ كے ليے تيمم كرنا جائز ہے.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

پانى كى موجودگى ميں تيمم كرنے كے ليے مرض كي حد كيا ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" وہ بيمارى جس ميں پانى استمعال كرنے سے بيمارى زيادہ ہونے يا زخم صحيح ہونے ميں تاخير ہوتى ہو "

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 345 ).

دوم:

مسلسل پيشاب اور ہوا خارج ہونے كا حكم استحاضہ والا حكم ہے، اور پيشاب، اور ہوا اور شرمگاہ سے خارج ہونے والا خون وضوء كو توڑ ديتا ہے.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا، ليكن تمہيں پاك كرنا اور تم پر اپنى نعمتيں پورى كرنا چاہتا ہے تا كہ تم شكر ادا كرو ﴾المآئدۃ ( 6 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ اللہ تعالى تمہارے ساتھ آسانى كرنا چاہتا اور تمہارے ساتھ تنگى نہيں كرنا چاہتا ﴾البقرۃ ( 185 ).

اسى ليے انہيں ہر نماز كے ليے نماز كا وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كرنے كى رخصت دى گئى ہے، اور يہ لوگ اپنى حالت ميں ہى نماز ادا كرينگے چاہے دوران نماز ہى ان كى ہوا يا پيشاب يا خون خارج ہو جائے.

يہ حكم اس كے ليے ہے جس كا وضوء قائم ہى نہ رہے، اور اگر اس ميں انقطاع اور وقفہ پيدا ہوتا وہ اس طرح كہ اس انقطاع كے دوران نماز ادا كرنا ممكن ہے تو اس پر واجب ہے كہ وہ اس وقت وضوء كر كے نماز ادا كرے جب اس ميں وفقہ پيدا ہوتا ہو.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" مسلسل پيشاب كى بيمارى ميں مبتلا شخص كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

اگر تو اسے مسلسل پيشاب آتا ہو يعنى ركتا ہى نہيں بلكہ جب بھى مثانہ ميں جمع ہوا پيشاب خارج ہوجائے تو يہ شخص نماز كا وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كرے اور اپنى شرمگاہ پر لنگوٹ وغيرہ باندھ كر نماز ادا كر لے اور خارج ہونے سے اسے كوئى ضرر و نقصان نہيں ہوگا.

دوسرى حالت:

اگر اس كا پيشاب رك جاتا ہو چاہے پيشاب كرنے كے دس يا پندرہ منٹ بعد ہى ركے تو ايسے شخص كو پيشاب ركنے كا انتظار كرنا ہوگا اور ركنے كے بعد وضوء كر كے نماز ادا كرے، چاہے نماز باجماعت بھى رہ جائے.

ديكھيں: اسئلۃ الباب المفتوح سول نمبر ( 17 ) ملاقات نمبر ( 67 ).

اصل يہى ہے كہ وضوء نماز كا وقت شروع ہونے كے بعد كيا جائے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ فاطمہ بنت ابى حبيش نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئيں اور عرض كيا:

مجھے استحاضہ كى بيمارى ہے آيا ميں نماز چھوڑ دوں ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے: نہيں، بلكہ يہ تو رگ كا خون ہے حيض نہيں، تو جب تجھے حيض آئے نماز چھوڑ دو، اور جب حيض ختم ہو جائے تو اپنا خون دھو كر نماز ادا كرو، پھر تم ہر نماز كے ليے وضوء كرو حتى كہ وہ وقت آ جائے "

صحيح بخارى حديث نمبر( 226 ) يہ الفاظ بخارى كے ہيں، صحيح مسلم حديث نمبر ( 333 ).

ليكن وہ نمازيں جن كا وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كرنا مشكل ہے مثلا نماز جمعہ اور نماز عيد تو اس كا وقت شروع ہونے سے كچھ دير قبل وضوء كرنا جائز ہے.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

جس شخص كى مستقل اور مسلسل ہوا خارج ہوتى ہو وہ كس طرح وضوء كر كے نماز ادا كرے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" اگر تو آپ كا حال ايسا ہے جيسا آپ بيان كر رہے ہيں، اور آپ كى ہوا مسلسل خارج ہوتى ہے تو آپ ہر نماز كے ليے نماز كا وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كريں، اور اس كے بعد خارج ہونے والى ہوا آپ كو كوئى نقصان نہيں ديگے.

ليكن نماز جمعہ كے ليے آپ خطيب كے خطبہ شروع كرنے سے كچھ دير قبل وضوء كريں جس ميں آپ كے ليے خطبہ سننا اور نماز ادا كرنا ممكن ہو سكے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 5 / 412 ).

اور اگر آپ كے ليے ہر نماز كے ليے وضوء كر كے وقت كے اندر نماز ادا كرنى مشكل ہو تو آپ كے ليے دو نمازيں ظہر اور عصر ايك ہى وقت ميں ايك وضوء كے ساتھ ادا كرنى جائز ہيں، اور اسى طرح مغرب اور عشاء بھى ايك ہى وضوء كے ساتھ جمع كر ليں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے استحاضہ والى عورت كو دو نمازيں جمع كرنے كى رخصت دى ہے.

اس حديث كو علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 284 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

اور آپ قيام الليل اور تراويح بھى عشاء كے وضوء كے ساتھ ادا كر سكتے ہيں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كيا استحاضہ والى عورت كے عشاء كے وضوء كے ساتھ آدھى رات كے بعد قيام الليل كرنا جائز ہے ؟

شيخ كا جواب تھا:

" اس مسئلہ ميں اختلاف پايا جاتا ہے، بعض اہل علم كا مذہب يہ ہے كہ اگر آدھى رات گزر جائے تو اسے وضوء كى تجديد كرنا ہوگى، اور ايك قول يہ ہے كہ: اس كے ليے وضوء كى تجديد لازم نہيں، اور راجح بھى يہى ہے.

ديكھيں: فتاوى المرأۃ المسلمۃ ( 1 / 292 - 293 ).

اور رہا چاشت كى نماز كے متعلق تو يہ نماز مؤقتہ ہے اس ليے اس كا وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كرنا ضرورى ہے، اور اس كا وقت طلوع شمس سے پندرہ منٹ بعد سے شروع ہوتا اور ظہر سے پندرہ منٹ قبل تك رہتا ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:

كيا اس عورت كے ليے فجر كے وضوء كے ساتھ چاشت كى نماز ادا كرنى جائز ہے ؟

تو شيخ كا جواب تھا:

يہ صحيح نہيں؛ كيونكہ چاشت كى نماز مؤقت يعنى اس كا بھى وقت ہے، اس ليے اس كا وقت شروع ہونے كے بعد وضوء كرنا ضرورى ہے؛ اس ليے كہ يہ عورت استحاضہ والى عورت كى طرح ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے استحاضہ والى عورت كو ہر نماز كے ليے وضوء كرنے كا حكم ديا ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments