Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
22862

گاہك زيادہ كرنے كے ليے انعامى مقابلہ منعقد كرنے كا حكم

وقتا فوقتا سپر ماركيٹوں وغيرہ ميں گاہك زيادہ كرنے كے ليے مالكان حضرات انعامات كا اعلان كرتے ہيں، آپ سے گزارش ہے كہ اس ميں شركت كرنے كے حكم كى وضاحت فرمائيں، اور اس كے ساتھ ساتھ جس قدر ممكن ہو اس موضوع ميں علماء كرام كے فتاوى جات بھى درج كريں تا كہ مكمل وضاحت ہو سكے، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

يہ مسئلہ ماركيٹ ميں كمپٹيشن كى بنا پر پيدا ہوا ہے اور تجارتى سامان كے مالكان اپنے سامان كى ترويج چاہتے ہيں جس كى بنا پر وہ انعامى مقابلہ جات ركھتے ہيں، ہمارے معاصر علماء كرام اس مسئلہ ميں اختلاف كرتے ہيں اس سلسلہ ميں علماء كرام كے دو قول ہيں:

پہلا قول:

ايسا كرنا مطلقا منع ہے.

دوسرا قول:

كچھ شروط و ضوابط كے ساتھ ايسا كرنا جائز ہے.

اس كى ممانعت اور حرمت قرار دينے والوں ميں مستقل فتوى كميٹى سعودى عرب، اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى شامل ہيں، ذيل ميں ہم ان كے بعض فتاوى جات درج كرتے ہيں:

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

يہاں امريكہ ميں كچھ سپر غذائى سٹور ايسے ہيں جہاں سے خريدارى كرنے پر غير معروف سے نمبر ديے جاتے ہيں، جب آپ كے پاس سٹور كى جانب سے معين كردہ نمبر جمع ہو جائيں تو آپ انعام ميں كچھ رقم كے مستحق ہونگے تو كيا مسلمان كے ليے يہ انعام لينا جائز ہے، يہ علم ميں رہے كہ اس نمبر كے عوض ميں كوئى رقم ادا نہيں كرنا پڑتى، ليكن صرف اس سٹور سے خريدارى كرنے، يا پھر سٹور ديكھنے والے كو ہى يہ نمبر ديے جاتے ہيں، جس پر انہيں انعام ميں شامل كيا جاتا ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

اگر تو معاملہ ايسا ہى ہے جيسا آپ نے بيان كيا ہے تو آپ كے ليے خريدارى يا سٹور كى زيارت كى بنا پر ديا جانے والا انعام لينا جائز نہيں، نمبر اختيار كرتے وقت جو نمبر آپ كے ليے مجہول تھا وہ اختيار كے بعد معلوم ہو گيا، اس ليے يہ جوے ميں شامل ہونے كى بنا پر جائز نہيں، اور جوے كى حرمت كتاب و سنت اور اہل علم كے اجماع سے ثابت ہے. اھـ

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 191 ) فتوى نمبر ( 5847 ).

كميٹى سے يہ سوال بھى كيا گيا:

ہمارے ہاں كچھ سيلز مين ايك كاٹن سو ريال كا فروخت كرتے ہيں، اور دوسرى دوكانوں ميں تقريبا بيس ريال كا، اور وہ اس پر گاڑى يا دوسرے انعام ركھتے ہيں، تو لوگ انعام حاصل كرنے كى رغبت ميں كاٹن خريدنے كے ليے امڈ آتے ہيں، كيا يہ جائز ہے ؟ برائے مہربانى اس سلسلہ ميں فتوى ديا جائے اللہ تعالى آپ كو اجروثواب عطا كرے.

كميٹى كا جواب تھا:

جس عمل كے متعلق آپ نے دريافت كيا ہے وہ جائز نہيں، بلكہ برائى اور جوا ہے، جسے اللہ تعالى نے كئى قسم كے خطرات اور دھوكہ پر مبنى ہونے كى بنا پر حرام كيا ہے، اور اس ميں باطل طريقہ سے لوگوں كا مال كھانا بھى ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، شيطانى كام ہيں، ان سے بالكل الگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ شراب اور جوئے كے ذريعہ تمہارے آپس ميں ميں عدوات اور بغض پيدا كر دے اور تمہيں اللہ تعالى كى ياد اور نماز سے روك دے تو اب بھى باز آ جاؤ}المآئدۃ ( 90 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{ اے ايمان والو تم اپنا مال آپس ميں باطل طريقہ سے مت كھاؤ }.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح حديث ميں ثابت ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے دھوكہ والى بيع سےمنع فرمايا ہے.

اللہ تعالى آپ كو ہر خير و بھلائى كے كام كى توفيق عطا فرمائے، اور آپ كى مدد و نصرت كرے اور آپ كے معاملہ كو آسان كرے. اھـ

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 195 ) فتوى نمبر ( 18324 ).

اور مستقل فتوى كميٹى سے يہ سوال بھى دريافت كيا گيا:

كچھ كال آفس والے كئى بار ٹيلى فون كالز كرنے والوں كو انعام پيش كرتے ہيں، ان انعامات كا حكم كيا ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

عمومى كال آفس والوں كى جانب سے كال كرنے والوں كو ہديہ كے نام پر مذكورہ نظام كے تحت جو كچھ ديا جاتا ہے وہ جائز نہيں، كيونكہ اس ميں قمار بازى اور جوا اور لوگوں كو دھوكہ دينا، اور ٹيلى فون كالوں كى ترويج كى بنا پر لوگوں كا باطل طريقہ سے مال كھانا، اور آمدنى ميں اضافہ كرنا ہے، اور اس كے ساتھ ساتھ كال آفس والوں كى آپس ميں عداوت و بغض اور كينہ و حسد بھى پيدا ہوتا ہے.

اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، شيطانى كام ہيں، ان سے بالكل الگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ شراب اور جوئے كے ذريعہ تمہارے آپس ميں ميں عدوات اور بغض پيدا كر دے اور تمہيں اللہ تعالى كى ياد اور نماز سے روك دے تو اب بھى باز آ جاؤ}المآئدۃ ( 90 ). اھـ

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 196 ) فتوى نمبر ( 19560 ).

شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ہمارے شہر ميں تعاونى كميٹى نے اپنے آفس كے سامنے ايك گاڑى ركھى كر پيشكش ركھى ہے كہ جو يہاں سے ايك سو درہم يا اس سے زيادہ كى اشياء خريدے گا اسے دس درہم كى رسيد دى جائيگى، اور قرعہ اندازى ميں شامل كرنے كے بعد قرعہ نكلنے والے كو وہ گاڑى انعام ميں دى جائيگى، ميرا سوال يہ ہے:

1 - عوض كے بغير اس رسيد كے ساتھ قرعہ اندازى ميں شريك ہونے كا حكم كيا ہے، اگر قرعہ اندازى ميں اس كا نام نہ آيا تو اسے كچھ نقصان نہيں ہو گا ؟

2 - قرعہ اندازى ميں شريك ہونے كے ليے مذكورہ بالا رسيد كے حصول ميں اس كميٹى سے خريدارى كرنے كا حكم كيا ہے ؟

اس ليے كہ يہاں كچھ لوگ تو اس معاملہ ميں تردد كا شكار ہيں، اور كچھ اسے صحيح مانتے ہيں، آپ سے گزارش ہے كہ آپ ان دونوں سوالوں كا بادليل جواب ديں تا كہ مسلمان لوگ اپنے دين كے سلسلہ ميں دليل پر ہوں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

يہ معاملہ قمار بازى اور جوا ميں شامل ہوتا ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالى نے حرام قرار ديا ہے اور يہ درج ذيل فرمان بارى تعالى ميں مذكور ہے:

{ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، شيطانى كام ہيں، ان سے بالكل الگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ شراب اور جوئے كے ذريعہ تمہارے آپس ميں ميں عدوات اور بغض پيدا كر دے اور تمہيں اللہ تعالى كى ياد اور نماز سے روك دے تو اب بھى باز آ جاؤ}المآئدۃ ( 90 ).

لہذا فجيرہ كے حكومتى ذمہ داران اور ولى الامر اور اہل علم وغيرہ پر لازم ہے كہ وہ اس برائى كو روكيں اور اس سےمنع كريں، اور لوگوں كو اس سے بچنے كا كہيں، كيونكہ ميں كتاب اللہ العزيز كى مخالفت اور لوگوں كا ناحق مال كھانا ہے، اللہ سبحانہ و تعالى سب كو ہدايت نصيب فرمائے، اور حق پر استقامت نصيب كرے.

مجلۃ الدعوۃ عدد نمبر ( 1145 ) تاريخ ( 29 / 10 / 1408 ھـ ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے اس طرح كے انعامى مقابلوں ميں شركت كے حكم كى تفصيل بيان كرتے ہوئے دو شرطوں كے ساتھ اسے جائز قرار ديا ہے، شيخ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" كمپنياں ـ اس وقت ـ اپنا مال خريدنے والوں كو انعامات ديتى ہيں، تو ہم كہتے ہيں: جب دو شرطيں پائى جائيں تو اس ميں كوئى حرج نہيں:

پہلى شرط:

قيمت ـ يعنى سامان كى قيمت ـ اس كى حقيقى قيمت ہو، يعنى انعام كى بنا پر اس كى قيمت ميں اضافہ نہ كيا گيا ہو، اگر انعام كى وجہ سے قيمت بڑھا دى گئى ہو تو يہ قمار بازى اور جوا ہے اور حلال نہيں.

دوسرى شرط:

انسان انعام حاصل كرنے كے ليے سامان نہ خريدے، اگر اس نے صرف انعام حاصل كرنے كى غرض سے سامان خريدا نہ كہ اس كى ضرورت كى بنا پر تو يہ مال ضائع كرنے كے مترادف ہو گا، ہم نے سنا ہے كہ بعض لوگ دودھ يا لسى كا ڈبہ خريدتے ہيں، انہيں اس كى ضرورت تو نہيں ہوتى ليكن وہ اس ليے خريدتے ہيں كہ ہو سكتا ہے اسے انعام مل جائے، تو آپ ديكھتے ہيں كہ اسے بازار يا پھر گھر كے ايك كونے ميں انڈيل ديتا ہے، تو يہ جائز نہيں؛ كيونكہ اس ميں مال ضائع ہوتا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مال ضائع كرنے سے منع فرمايا ہے.

ديكھيں: اسئلۃ الباب المفتوح نمبر ( 1162 ).

ان شاء اللہ يہ قول صحيح ہونے كے زيادہ قريب ہے، جب انسان اپنے دل ميں دوسرى شرط كو منطبق كرے تو صحيح ہے، كيونكہ اس كے علاوہ كوئى اور انسان اس كے دل كى بات كو نہيں جانتا.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہميں پاكيزہ اور رزق حلال نصيب فرمائے، اور ہميں قناعت و رضا كى توفيق دے، اور حرام اور اس كے اسباب سے دور ركھے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments