Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
22881

اپنى سارى ملكيت كا صدقہ كرنے كا حكم

آدمى كى ملكيت ميں جو كچھ ہے اسے صدقہ كرنے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اصحاب مذاہب اربعہ اس پر متفق ہيں كہ: اپنى اور اپنے اہل و عيال كى كفايت سے زيادہ صدقہ كرنا مستحب ہے، اور اگر صدقہ كرنے سے اس كى عيالدارى ميں افراد كے خرچہ ميں كمى پيدا ہو جائے تو وہ گنہگار ہو گا كيونكہ اس پر ان كا خرچہ كرنا واجب ہے، اور نفل كو فرض پر مقدم كرنا جائز نہيں ہے.

اور اس كى عيالدارى ميں افراد پر خرچ كرنے سے جو زيادہ ہو تو جمہور علماء كرام كے ہاں اسے ضرورت كا مال ركھنا سارا مال صدقہ كرنے سے زيادہ بہتر اور اولى ہے، ليكن اگر زيادہ آمدنى والا ہو، يا پھر اسے اپنے آپ بھروسہ ہو كہ وہ فقر اور سوال سے بچنے پر صبر اور توكل سے كام لے سكتا ہے، تو علماء كرام نے اس حالت ميں سارا مال خرچ كرنے كو مستحب كہا ہے، شافعيہ كے ہاں يہى صحيح ہے اور مغنى ميں موفق رحمہ اللہ كى كلام كا ظاہر بھى يہى ہے، اور مالكيہ اور احناف كى كلام سے يہ سمجھ آتى ہے كہ وہ اسے مستحب قرار نہيں ديتے، كيونكہ وہ سارا مكمل صدقہ كرنے كے جواز ميں سابقہ شروط ذكر كرنے كے بعد كہتے ہيں كہ: " كوئى حرج نہيں" اور ان كے ہاں معاملہ جواز پر ہے، اگرچہ بعض مالكيہ نے ان كے قول پر تعليق چڑھاتے ہوئے كہا ہے كہ: اس ميں كوئى حرج نہيں جو استحباب كا فائدہ دے جب وہ يہ كہے كہ: سارے مال كو صدقہ كرنا اس وقت مندوب ہے جب صدقہ كرنے والا سارے مال كا صدقہ كرنے كے بعد اچھے نفس كا مالك ہو، اور بغير مال كے رہنے پر نادم نہ ہو، اور حال ميں جو اس نے صدقہ كيا ہے اس كے بدلے اسے مستقبل ميں اسى طرح كى اميد ہو، اور مستقبل ميں وہ اس كا محتاج نہ ہو، اور نہ ہى اس كے ليے محتاج ہو جس كا اس كے ذمہ نفقہ لازم ہے، يا اس پر خرچ كرنا مندوب ہے، وگرنہ اس كے ليے ايسا كرنا مندوب نہ ہو گا، بلكہ اگر جن كا خرچہ اس كے ذمہ ہے ان كى ضرورت ثابت ہو گئى تو پھر اس پر ايسا كرنا حرام ہے، يا جن كا خرچہ اس پر مندوب ہے ان كى ضرورت ثابت ہو گئى تو اس كے ايسا كرنا مكروہ ہے؛ كيونكہ افضل اور بہتر تو يہ ہے كہ وہ اپنى اور اپنے ذمہ خرچ والے افراد كى ضروريات سے زيادہ مال صدقہ كرے.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 26 / 339 ).

ان اقوال كى روشنى ميں يہ واضح ہوتا ہے كہ علماء كرام ايك تہائى كى تحديد نہيں كرتے، اور ان علماء كے مسلك كے دلائل قرآن و سنت ميں موجود ہيں جن ميں سے چند ايك ذيل ميں درج كيے جاتے ہيں:

1 - اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تو اپنا ہاتھ گردن كے ساتھ باندھ كر نہ ركھ اور نہ ہى اسے پورا كھول كہ پھر ملامت كيا ہوا درماندہ بيٹھ جائے ﴾الاسراء ( 29 ).

مفسرين اس آيت كى تفسير ميں كہتے ہيں:

اپنى اور اپنے گھروالوں كى ضروريات كے ہوتے ہوئے سارا مال نہ خرچ كرو، كہ تم خرچہ كرنے اور ضروريات پورى كرنے سے بيٹھے رہو، جيسا كہ درماندہ اونٹ ہوتا ہے جس كى سارى غذاجاتى رہے اور اسے كا كوئى خيال نہ كرے.

اور يہ بھى كہا گيا ہے كہ: تا كہ جو كچھ تمہارے ہاتھ ميں تھا اس پر تم ملامت اور حسرت والے نہ بن كر رہ جاؤ.

ليكن يہاں خطاب نبى عليہ وسلم كے علاوہ دوسروں كو ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے ہاتھ ميں جو كچھ ہے وہ اللہ كے راستے ميں خرچ كر كے اس پر حسرت نہيں كرتے، بلكہ اللہ تعالى نے تو خرچ كرنے اور مال دينے ميں زيادتى كرنے منع كرتے ہوئے كہا ہے كہ جس كے بارہ ميں يہ خدشہ ہو كہ وہ سارا مال خرچ كر كے حسرت كرتا پھر گا وہ سارا مال خرچ نہ كرے.

ديكھيں: الموسوعۃ ( 4 / 184 ).

2 - كعب بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا: ميرى توبہ ميں ہے كہ ميں اپنا سارا مال اللہ اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى راہ ميں صدقہ كرتا ہو، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اپنا كچھ مال ركھ لو يہ تمہارے ليے بہتر اور اچھا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2552 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 4973 )

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كے ليے ايك تہائى مال صدقہ كرنے كى تحديد نہيں فرمائى.

امام شوكانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

كعب رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث اس پر دلالت كرتى ہے كہ جو شخص اپنا سارا مال صدقہ كرنا چاہے وہ كچھ مال اپنے پاس ركھ لے، اس سے يہ لازم نہيں آتا كہ اگر وہ اس پر اصرار كرے تو اسے نافذ نہيں كيا جائےگا.

اور ايك قول يہ ہے كہ: سارے مال كا صدقہ كرنا حالات مختلف ہونے كى بنا پر مختلف ہو گا، لہذا جو شخص اس كى قوت ركھتا ہو، اور اسے علم ہو كہ وہ اس پر صبر كر سكتا ہے اسے منع نہيں كيا جائےگا، اسے چاہيے كہ وہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ اور انصار صحابہ كرام كے ايثار پر عمل كرے، كہ وہ ضرورت ہونے كے باوجود دوسروں كو اپنے اوپر ترجيح ديتے تھے.

اور جو شخص ايسا نہ ہو تو اسے اس حديث پر عمل كرنا چاہيے:

" مالدارى اور غنى كے وقت صدقہ ہوتا ہے"

اور ايك حديث كے لفظ ہيں:

" افضل صدقہ وہ ہے جو ضروريات كے بعد ہو "

ديكھيں: نيل الاوطار ( 8 / 288 ).

3 - انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ مدينہ ميں ابو طلحہ رضى اللہ تعالى عنہ انصار ميں كھجوروں كے اعتبار سے سب سے زيادہ مالدار تھے، اور انہيں سب سے زيادہ مال بيرحاء كا مال تھا جو كہ مسجد كى قبلہ والى جہت ميں واقع تھا، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس باغ ميں جا كر ٹھنڈا اورميٹھا پانى نوش فرمايا كرتے تھے.

انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ جب يہ آيت نازل ہوئى:

﴿ تم اس وقت تك ہرگز نيكى حاصل نہيں كر سكتے جب تك كہ تم اپنى سب سے محبوب چيز اللہ كے راستے ميں خرچ نہيں كرتے ﴾.

تو ابو طلحہ رضى اللہ تعالى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور كہنے لگے: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى نے فرمايا ہے:

﴿ تم اس وقت تك ہر گز نيكى حاصل نہيں كرسكتے جب تك اللہ تعالى كے راستے ميں اپنى محبوب ترين چيز خرچ نہيں كرتے ﴾.

اور مجھے سب سے محبوب مال بير حاء ہے، يہ اللہ تعالى كے راستہ ميں صدقہ ہے، ميں اس كى نيكى اور زخيرہ اللہ تعالى كے پاس چاہتا ہوں، لہذا اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ اسے وہاں صرف كريں جہاں آپ كو اللہ تعالى كہتا ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ٹھر جاؤ، يہ مال بہت نفع مند ہے، يہ مال بہت فائدہ مند ہے، جو كچھ تو نے كہا ميں نے سن ليا ہے، ميرى رائے يہ ہے كہ اسے اپنے قريبى رشتہ داروں ميں صرف كردو، تو ابو طلحہ رضى اللہ تعالى كہنے لگے: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں ايسا ہى كرتا ہوں، تو ابو طلحہ رضى اللہ تعالى نے اسے اپنے اقرباء اور چچازاد بھائيوں ميں تقسيم كر ديا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1368 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1664 )

امام شوكانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اس ميں زندہ شخص كے ليے اپنى زندگى اور صحت كى حالت ميں ايك تہائى سے زيادہ مال صدقہ كرنے كا جواز پايا جاتا ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابو طلحہ رضى اللہ تعالى عنہ سے تفصيل معلوم نہيں فرمائى كہ كتنا صدقہ كر رہے ہو.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سعد بن ابى وقاص رضى اللہ تعالى عنہ كو ان كى بيمارى ميں يہ فرمايا تھا:

" ايك تہائى بہت ہے "

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments