Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
22907

لاٹرى اور بيرہ كے ٹكٹ فروخت كرنا

كيا بيرہ اور لاٹرى كے ٹكٹ فروخت كرنا جائز ہيں؟ اس كے بارہ ميں اسلام كيا كہتا ہے ؟

الحمد للہ :

بيرہ شراب ہے، اور لاٹرى جوا اور قمار بازى، ان دونوں كو اللہ تعالى نے حرام قرار ديا ہے:

{اے ايمان والو ! بلاشبہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں شيطانى كام ہيں، ان سے اجتناب كرو اور بالكل الگ تھلگ رہو تا كہ تم فلاح ياب ہو سكو} المائدۃ ( 90 ).

اور لاٹرى كا حكم سوال نمبر ( 6476 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے اس كا مطالعہ كريں.

لہذا اس بنا پر بيرہ اور لاٹرى كے ٹكٹ فروخت كرنے جائز نہيں، كيونكہ يہ گناہ اور ظلم وزيادتى ميں معاونت ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اور تم نيكى و بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو، اور برائى وگناہ اور ظلم و زيادتى ميں ايك دسرے كا تعاون مت كرو} المائدۃ ( 2 ).

اس ليے اس عمل كو فورا ترك كرنا واجب اور ضرورى ہے، اور مومن كو يہ علم ہونا چاہيے كہ جو كوئى بھى كسى چيز كو اللہ تعالى كے ترك كرتا ہے اللہ تعالى اسے اس كے عوض ميں بہتر چيز عطا كرتا ہے، اس ليے جب انسان اپنے رب پر توكل اور بھروسہ كرے تو اللہ تعالى اس كے ليے روزى كے اسباب ميں آسانى پيدا فرما ديتا ہے، جيسا كہ فرمان بارى تعالى ہے:

{اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرے اللہ تعالى اس كے ليے كوئى نكلنے كى راہ نكال ديتا ہے، اور اسے رزق وہاں سے ديتا ہے جہاں سے اسے گمان بھى نہيں ہوتا، اور جو كوئى اللہ تعالى پر توكل اور بھروسہ كرے اللہ تعالى اس كے ليے كافى ہوجاتا ہے، بلاشبہ اللہ تعالى اپنے حكم كو پورا كرنے والا ہے، اللہ تعالى نے ہر چيز كے ليے ايك اندازہ مقرر كر ركھا ہے} الطلاق ( 2 - 3 )

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments