Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
23269

شہوت كے ساتھ چھونے سے رجوع نہيں ہوتا ؟


دو برس سے ميں اور ميرا خاوند ازدواجى زندگى كے مشكل ترين مرحلہ سے گزر رہے ہيں، دو بار مشكل بہت بڑھ كر طلاق پر ختم ہوئى.
پہلى طلاق كے بعد اسنے مجھے واپس اپنى عصمت ميں لے ليا، اور دوسرى طلاق كے بعد مجھے شہوت كے ساتھ چھوا ليكن جماع نہيں ہوا، اس كا دعوى ہے كہ ميں اب تك مطلقہ ہى ہوں.
خاوند كا كہنا ہے كہ: جب وہ مجھے اپنى عصمت ميں واپس لانا چاہے اور رجوع كرنا چاہے تو اس كے ليے جماع كا ہونا ضرورى ہے.
طلاق كے بعد ايك حيض آ چكا ہے، ميرا خاوند كہتا ہے كہ باقى دو حيض بچے ہيں پھر ميرى عدت گزر جائيگى، كيا اس كى يہ بات صحيح ہے يا كہ جماع كيے بغير اس صرف مجھے چھونا اور پكڑنا رجوع شمار ہوگا ؟

الحمد للہ:

اول:

رجوع كرنا ايسا حق ہے جو شارع نے عدت كے دوران خاوند كے ليے مقرر كيا ہے، اگر خاوند چاہے تو عدت كے دروان اپنى بيوى سے رجوع كر سكتا ہے، اور اگر چاہے تو وہ اسے چھوڑ دے حتى كہ اس كى عدت گزر جائے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور ان كے خاوند اس ميں انہيں لوٹانے كے پورے حقدار ہيں اگر ان كا ارادہ اصلاح كا ہو }البقرۃ ( 228 ).

چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالى نے مطلقہ عورتوں كے خاوندوں كو عدت كے اندر اندر ان سے رجوع كرنے كا زيادہ حقدار قرار ديا ہے شرط يہ ہے كہ اگر وہ اصلاح كا ارادہ ركھتے ہوں.

اور رجوع دو ميں سے ايك چيز كے ساتھ ہو جاتا ہے:

يا تو قول كے ساتھ.

يا پھر فعل كے ساتھ.

قول كے ساتھ رجوع اس طرح ہوگا كہ: خاوند كہے: ميں نے اپنى بيوى سے رجوع كر ليا، يا پھر اسے ركھ ليا، يا اسے اپنى عصمت ميں واپس لے ليا، يا بيوى كو مخاطب كرتے ہوئے كہے: ميں نے تجھ سے رجوع كر ليا، يا تجھے ركھ ليا، يا تجھے واپس كر ليا.

فقھاء كرام كا اتفاق ہے كہ مندرجہ بالا الفاظ كے ساتھ رجوع ثابت ہو جائيگا.

اور الفاظ كے قائم مقام كتابت يعنى لكھائى اور اسى طرح بولنے سے عاجز شخص كا اشارہ بھى يہى معنى دےگا.

رہا فعل كے ساتھ رجوع كرنا تو يہ جماع كے ساتھ ہو گا اور اس ميں بھى شرط يہ ہے كہ يہ جماع رجوع كے مقصد سے ہو.

شيخ عبد الرحمن السعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر خاوند نے بيوى كو طلاق رجعى دے دى ہو يا تو اس كى عدت ختم ہو چكى ہوگى تو اس صورت ميں اس كے ليے نئے نكاح كے ساتھ ہى حلال ہوگى جس ميں پورى شروط نكاح موجود ہوں.

يا پھر وہ ابھى عدت ميں ہى ہو اگر بيوى سے وطئ اور جماع كرنے كا مقصد بيوى سے رجوع ہو تو بيوى سے رجوع ہو جائيگا اور يہ وطئ بھى مباح ہوگى.

ليكن اگر وہ اس سے رجوع كا ارادہ نہيں ركھتا تو ايك مذہب كے مطابق يہ رجو ہو جائيگا، ليكن صحيح يہى ہے كہ اس سے رجوع نہيں ہوگا.

اس بنا پر يہ وطئ حرام ہو گى " انتھى.

ماخوذ از: الارشاد الى معرفۃ الاحكام.

اس ليے صرف خاوند كا آپ كو چھونا آپ سے رجوع نہيں كہلائيگا.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 11798 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

جمہور علماء كرام جن ميں امام مالك امام شافعى اور امام احمد شامل ہيں كا يہ كہنا ہے كہ: صرف شہوت كے ساتھ چھونے سے رجوع حاصل نہيں ہو جائيگا، ليكن امام مالك رحمہ اللہ كا كہنا ہے كہ اگر شہوت كے ساتھ چھونے سے اس كا مقصد رجوع كرنا ہو تو رجوع كى نيت سے شہوت كے ساتھ چھونا رجوع كہلائيگا، اس ليے جب آپ كا خاوند يہ كہہ رہا ہے كہ اس نے رجوع كى نيت نہيں كى تو پھر اس سے رجوع حاصل نہيں ہوا.

مزيد آپ المغنى ( 7 / 404 ) اور الموسوعۃ الفقھيۃ ( 13 / 187 ) بھى ديكھيں.

دوم:

طلاق رجعى والى عورت ـ جنہيں حيض آتا ہے ـ كى عدت تين حيض ہے، اور جيسا كہ آپ كے خاوند كا كہنا ہے آپ كے ليے دو حيض عدت باقى رہى ہے، اگر تو اس دوران خاوند نے آپ سے رجوع كر ليا تو يہ طلاق تعداد ميں شمار كى جائيگى.

اور خاوند كو چاہيے كہ وہ اس پر گواہ بنا لے، اور ہو سكتا ہے اس كے ليے ايك طلاق باقى بچى ہو، اور اگر وہ عدت كے دوران آپ سے رجوع نہيں كرتا تو آپ اس سے بائن ہو جائينگى اور خاوند كے ليے آپ حلال نہيں ہو سكتى الا يہ كہ نيا مہر اور نيا نكاح پورى شروط كے ساتھ كيا جائے، اور يہ نكاح آپ اور آپ كے ولى كى موافقت و مرضى كے بغير نہيں ہو سكتا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments